عَنْ بِشْرٍ الْخَثْعَمِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : ¤ " لَتَفْتَحُنَّ الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ ، فَلَنِعْمَ الْأَمِيرُ أَمِيرُهَا ، وَلَنِعْمَ الْجَيْشُ ذَلِكَ الْجَيْشُ " . ¤ قَالَ : فَدَعَانِي مَسْلَمَةُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكَ ، فَحَدَّثْتُهُ فَغَزَا الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بشر خثعمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” عنقریب قسطنطنیہ فتح ہو جائے گا ، تو اس کا امیر بہترین امیر ہو گا اور سب سے بہتر لشکر وہ والا لشکر ہو گا “ راوی کہتے ہیں : تو مسلمہ بن عبدالملک نے مجھے بلایا میں نے انہیں یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے قسطنطنیہ کی جنگ کی ۔
یہ روایت امام أحمد امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي قَبِيلٍ قَالَ : ¤ كُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَسُئِلَ : أَيُّ الْمَدِينَتَيْنِ تُفْتَحُ أَوَّلًا : الْقُسْطَنْطِينِيَّةُ أَوْ رُومِيَّةُ ؟ قَالَ : فَدَعَا عَبْدُ اللَّهِ بِصُنْدُوقٍ لَهُ حِلَقٌ ، فَأَخْرَجَ مِنْهُ كِتَابًا ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَكْتُبُ إِذْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَيُّ الْمَدِينَتَيْنِ تُفْتَحُ أَوَّلًا الْقُسْطَنْطِينِيَّةُ أَوْ رُومِيَّةُ ؟ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَدِينَةُ هِرَقْلَ تُفْتَحُ أَوَّلًا " ، يَعْنِي الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي قَبِيلٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوقبیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ہم لوگ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ان سے دریافت کیا گیا : کون سا شہر پہلے فتح ہو گا قسطنطنیہ یا رومیہ راوی کہتے ہیں ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنا صندوق منگوایا انہوں نے اس میں سے ایک تحریر نکالی سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بتایا ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد بیٹھے ہوئے نوٹ کر رہے تھے اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا دو شہروں میں سے کونسا شہر فتح ہو گا قسطنطنیہ یا رومیہ ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہرقل کا شہر پہلے فتح ہو گا ۔ راوی کہتے ہیں : اس سے مراد قسطنطنیہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابوقبیل نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابوقبیل نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
وَعَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ وَهُوَ بِالْفُسْطَاطِ فِي خِلَافَةِ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : وَكَانَ مُعَاوِيَةُ أَغْزَى النَّاسِ لِلْقُسْطَنْطِينِيَّةِ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ لَا يَعْجِزُ هَذِهِ الْأُمَّةُ مِنْ نِصْفِ يَوْمٍ ، إِذَا رَأَيْتَ الشَّامَ مَائِدَةَ رَجُلٍ ، وَأَهْلِ بَيْتِهِ ، فَعِنْدَ ذَلِكَ فَتْحُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ طَرَفًا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں ان سے یہ بات منقول ہے کہ وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں فسطاط میں موجود تھے اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ لوگوں کو قسطنطنیہ کی جنگ کے لئے تیار کر رہے ہیں ۔ سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم یہ امت دن کے نصف سے عاجز نہیں آئے گی جب تم شام کو دیکھو گے کہ وہاں ایک شخص اور اس کے اہلخانہ کا دستر خوان ہو گا اس وقت قسطنطنیہ فتح ہو جائے گا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابوداؤد نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : ¤ " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَكُونَ رَابِطَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ بِبُولَانَ ، يَا عَلِيُّ " ، قَالَ الْمُزَنِيُّ : يَعْنِي عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " اعْلَمْ أَنَّكُمْ سَتُقَاتِلُونَ بَنِي الْأَصْفَرِ ، وَيُقَاتِلُهُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ، ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَيْهِمْ رَوْقَةُ الْمُسْلِمِينَ أَهْلُ الْحِجَازِ الَّذِينَ يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، لَا تَأْخُذُهُمْ فِي اللَّهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ حَتَّى يَفْتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ قُسْطَنْطِينِيَّةَ وَرُومِيَّةَ بِالتَّسْبِيحِ وَالتَّكْبِيرِ ، فَيَهُدُّوا حِصْنَهُمَا ، وَيُصِيبُوا مَالًا عَظِيمًا لَمْ يُصِيبُوا مِثْلَهُ قَطُّ ، حَتَّى يَقْتَسِمُوا بِالتِّرْسَةِ . ثُمَّ يَصْرُخُ صَارِخٌ : يَا أَهْلَ الْإِسْلَامِ ، قَدْ خَرَجَ الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ فِي بِلَادِكُمْ وَذَرَارِيِّكُمْ ، فَيَنْقَبِضُ النَّاسُ عَنِ الْمَالِ ، فَمِنْهُمُ الْآخِذُ ، وَمِنْهُمُ التَّارِكُ ، فَالْآخِذُ نَادِمٌ ، وَالتَّارِكُ نَادِمٌ ، ثُمَّ يَقُولُونَ : مَنْ هَذَا الصَّارِخُ ؟ وَلَا يَعْلَمُونَ مَنْ هُوَ ، فَيَقُولُونَ : ابْعَثُوا طَلِيعَةً إِلَى لُدٍّ ، فَإِنْ يَكُنِ الْمَسِيحُ قَدْ خَرَجَ فَسَيَأْتِيكُمْ بِعِلْمِهِ ، فَيَأْتُونَ فَيُبْصِرُونَ وَلَا يَرَوْنَ شَيْئًا ، وَيَرَوْنَ النَّاسَ سَاكِتِينَ ، فَيَقُولُونَ : مَا صَرَخَ الصَّارِخُ إِلَّا إِلَيْنَا ، فَاعْتَزِمُوا ثُمَّ ارْشُدُوا ، فَنَخْرُجُ بِأَجْمَعِنَا إِلَى لُدٍّ ، فَإِنْ يَكُنْ بِهَا الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ نُقَاتِلْهُ حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ ، وَإِنْ يَكُنِ الْأُخْرَى فَإِنَّهَا بِلَادُكُمْ ، وَعَشَائِرُكُمْ وَعَسَاكِرُكُمْ رَجَعْتُمْ إِلَيْهَا " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَحَسَّنَ التِّرْمِذِيُّ حَدِيثَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک مسلمانوں کا رابطہ بولان نامی جگہ پر نہیں ہو گا ، اے علی ! مزنی نامی راوی کہتے ہیں : اس سے مراد سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ تھے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم یہ بات جان لو کہ تم لوگ بنو اصفر کے ساتھ عنقریب جنگ کرو گے ، اور تم لوگوں کے بعد اہل ایمان ان لوگوں کے ساتھ جنگ کریں گے پھر مسلمانوں کے کچھ لوگ جن کا تعلق اہل حجاز سے ہو گا وہ نکل کر ان کی طرف چلے جائیں گے یہ وہ لوگ ہوں گے ، جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوں گے اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت انہیں گرفت میں نہیں لے گی ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کے لئے قسطنطنیہ اور رومیہ کو فتح کر دے گا ، جو تسبیح اور تکبیر کے ذریعے ہو گا وہ لوگ ان دونوں علاقوں کے قلعوں کو منہدم کر دیں گے ، اور وہاں سے بہت سا مال انہیں ملے گا اس طرح کا مال پہلے انہیں کبھی نہیں ملا ہو گا ، یہاں تک کہ وہ ڈھال تک تقسیم کر لیں گے پھر کوئی شخص پکار کر کہے گا اے اہل اسلام تمہارے علاقوں میں اور تمہارے بال بچوں میں دجال نکل آیا ہے ، تو لوگ اس مال کو چھوڑیں گے کچھ اس مال کو لے لیں گے ، اور کچھ اس مال کو چھوڑ دیں گے ، تو جو لے گا وہ ندامت کا شکار ہو گا اور جو چھوڑ دے گا وہ بھی ندامت کا شکار ہو گا پھر وہ یہ کہیں گے یہ چیخنے والا شخص کون ہے وہ لوگ یہ نہیں جانتے ہوں گے کہ وہ کون ہو گا پھر وہ کہیں گے کہ تم مقام ’ لد ، کی طرف کسی جاسوس کو بھیجو اگر تو دجال نکل چکا ہوا تو تمہیں اس کے بارے میں اطلاع مل جائے گی پھر وہ لوگ آئیں گے ، اور اس کو دیکھیں گے ، تو وہاں کوئی چیز نظر نہیں آئے گی وہ لوگوں کو دیکھیں گے کہ وہ خاموش ہوں گے ، تو وہ یہ کہیں گے کہ چیخنے والے نے صرف ہماری طرف متوجہ ہو کر چیخ ماری تھی تو تم لوگ پختہ ہو جاؤ اور ہدایت پر رہو ہم سب نکل کر ’ لد ، کی طرف جاتے ہیں اگر وہاں دجال موجود ہوا تو ہم اس کے ساتھ جنگ کریں گے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اور اس کے درمیان فیصلہ کر دے اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے ، اور اگر صورت حال مختلف ہوئی ، تو وہ تمہارا علاقہ ہے ، اور تمہارا خاندان ہے تمہارے لشکر ہیں تم ان کی طرف واپس چلے جاؤ گے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن عبداللہ ہے ۔ جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ امام ترمذی نے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن عبداللہ ہے ۔ جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ امام ترمذی نے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا ہے ۔