مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ قِتَالِ أَهْلِ الرِّدَّةِ باب: مرتدین کے ساتھ جنگ کرنا
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : ¤ لَمَّا فَرَغَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ مِنَ الْيَمَامَةِ بَعَثَ أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ إِلَى الْبَحْرَيْنِ ، وَكَانَ الْعَلَاءُ هُوَ الَّذِي بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْمُنْذِرِ بْنِ سَاوَى الْعَبْدِيِّ ، فَأَسْلَمَ الْمُنْذِرُ ، فَأَقَامَ الْعَلَاءُ بِهَا أَمِيرًا لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَارْتَدَّتْ رَبِيعَةُ بِالْبَحْرَيْنِ فِي مَنِ ارْتَدَّ مِنَ الْعَرَبِ إِلَّا الْجَارُودَ بْنَ عَمْرٍو ; فَإِنَّهُ ثَبَتَ عَلَى الْإِسْلَامِ وَمَنْ تَبِعَهُ مِنْ قَوْمِهِ . ¤ وَاجْتَمَعَتْ رَبِيعَةُ بِالْبَحْرَيْنِ وَارْتَدَتْ ، وَقَالُوا : تَرُدُّ الْمُلْكَ فِي آلِ الْمُنْذِرِ ، فَكَلَّمُوا الْمُنْذِرَ بْنَ النُّعْمَانِ بْنِ الْمُنْذِرِ ، وَكَانَ يُسَمَّى الْغَرُورَ ، وَكَانَ يَقُولُ بَعْدُ حِينَ أَسْلَمَ وَأَسْلَمَ النَّاسُ وَعَلَيْهِمُ السَّيْفُ : لَسْتُ بِالْغَرُورِ وَلَكِنِّيَ الْمَغْرُورُ . ¤ فَلَمَّا اجْتَمَعَتْ رَبِيعَةُ بِالْبَحْرَيْنِ ، سَارَ إِلَيْهِمُ الْعَلَاءُ بْنُ الْحَضْرَمِيِّ ، وَأَمَدَّهُ بِثُمَامَةَ بْنِ أُثَالٍ الْحَنَفِيِ ، وَكَانَ قَدْ أَسْلَمَ وَأَسْلَمَ قَوْمُهُ ، فَلَمَّا أَمَرَ الْعَلَاءُ بْنُ الْحَضْرَمِيِّ بِثُمَامَةَ بْنِ أُثَالٍ ، سَارَ مَعَهُ بِمَنْ مَعَهُ مِنْ بَنِي سُحَيْمٍ حَتَّى خَاضَ إِلَى رَبِيعَةَ الْبَحْرَ ، فَسَارَتْ رَبِيعَةُ إِلَيْهِمْ فَحَصَرُوهُمْ وَهُمْ بِجُوَاثَا - حِصْنٍ بِالْبَحْرَيْنِ - حَتَّى إِذَا كَادَ الْمُسْلِمُونَ أَنْ يَهْلِكُوا مِنَ الْجَهْدِ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَدَقٍ الْعَامِرِيُّ فِي ذَلِكَ حِينَ أَصَابَهُمْ مَا أَصَابَهُمْ : ¤ أَلَا بَلِّغْ أَبَا بَكْرٍ رَسُولًا وَفِتْيَانَ الْمَدِينَةِ أَجَمْعِينَا فَهَلْ لَكَ فِي شَبَابٍ مِنْكَ أَمْسَوْا ¤ جَمِيعًا فِي جُوَاثَا مُحْصِرِينَا تَوَكَّلْنَا عَلَى الرَّحْمَنِ إِنَّا ¤ وَجَدْنَا النَّصْرَ لِلْمُتَوَكِّلِينَا فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَدَقٍ : دَعُونِي أَهْبِطْ مِنَ الْحِصْنِ وَأَنَا آتِيكُمْ بِالْخَبَرِ ، وَكَانَ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَدَقٍ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي عِجْلٍ ، وَنَزَلَ مِنَ الْحِصْنِ ، وَأَخَذُوهُ ، وَقَالُوا : مِمَّنْ أَنْتَ ؟ فَانْتَسَبَ ، وَجَعَلَ يُنَادِي : يَا أَبْجَرَاهُ ، وَكَانَ فِي الْقَوْمِ ، فَجَاءَ أَبْجَرُ وَعَرَفَهُ ، وَقَالَ : مَا شَأْنُكَ ؟ فَقَالَ : إِنِّي قَدْ هَلَكْتُ مِنَ الْجُوعِ . فَحَمَلَهُ وَسَقَاهُ ، وَقَالَ : احْمِلْنِي وَخَلِّ سَبِيلِي ، فَانْطَلَقَ وَحَمَلَهُ عَلَى بَغْلٍ ، وَقَالَ : انْطَلِقْ لِشَأْنِكَ . فَلَمَّا خَرَجَ مِنْ عِنْدِهِمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَدَقٍ رَجَعَ إِلَى أَصْحَابِهِ ، فَأَخْبَرَهُمْ أَنَّ الْقَوْمَ سُكَارَى لَا غَنَاءَ عِنْدَهُمْ ، فَبَيَّتَهُمُ الْعَلَاءُ فِيمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ مِنَ الْعَرَبِ وَالْعَجَمِ ، ، فَقَتَلُوهُمْ قَتْلًا شَدِيدًا وَانْهَزَمُوا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَى ابْنِ إِسْحَاقَ . ¤محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں : جب سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ جنگ یمامہ سے فارغ ہوئے ، تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سیدنا علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کو بحرین کی طرف بھیجا سیدنا علاء وہ شخصیت ہیں ، جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منذر بن ساوی عبدی کی طرف بھیجا تھا تو منذر نے اسلام قبول کر لیا تھا ۔ سیدنا علاء وہاں پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرر کردہ امیر کے طور پر رہے تھے بحرین میں ربیعہ مرتد ہو گئے یہ ان لوگوں میں شامل تھے جو عرب مرتد ہوئے تھے صرف جارود بن عمرو مرتد نہیں ہوئے تھے کیونکہ وہ اسلام پر برقرار رہے تھے اور ان کی قوم میں سے ان کی پیروی کرنے والے لوگ بھی اسلام پر برقرار رہے تھے ۔ ربیعہ ، بحرین میں اکٹھے ہوئے وہ لوگ مرتد ہو گئے تھے انہوں نے یہ کہا: کہ بادشاہی آل منذر میں واپس آئے گی انہوں نے اس بارے میں منذر بن نعمان بن منذر کے ساتھ بات چیت کی جنہیں غرور کہا: جاتا تھا بعد میں جب انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور ان لوگوں نے بھی اسلام قبول کر لیا تو وہ یہ کہا: کرتے تھے : میں غرور نہیں ہوں بلکہ میں مغرور ہوں ۔ جب ربیعہ قبیلے کے لوگ بحرین میں اکٹھے ہوئے ، تو سیدنا علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ ان کی طرف روانہ ہوئے سیدنا ثمامہ بن اثال حنفی رضی اللہ عنہ ان کی امداد کے لئے آئے جو مسلمان ہو چکے تھے اور ان کی قوم بھی مسلمان ہو چکی تھی جب علاء بن حضرمی نے سیدنا ثمامہ کو امیر بنایا تو ان کے ساتھ بنو سحیم سے تعلق رکھنے والے افراد بھی روانہ ہو گئے یہاں تک کہ یہ لوگ ربیعہ البحر تک پہنچ گئے ربیعہ ان لوگوں کی طرف آئے ان لوگوں نے جواثا کے مقام پر ان کا محاصرہ کر لیا جو بحرین میں موجود ایک قلعہ ہے ، یہاں تک کہ قریب تھا کہ مسلمان بھوک کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہو جاتے اس صورت حال کے بارے میں عبداللہ بن حدق عامری نے یہ اشعار کہے ہیں : ” خبردار سیدنا ابوبکر اور مدینہ منورہ کے تمام نوجوانوں تے قاصد ( کے ذریعے یہ پیغام ) بھیج دو ، کیا آپ کو ، آپ سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں ( کے بارے میں جاننے میں ) کوئی دلچسپی ہے ، جنہوں نے ” جواثا “ کے مقام پر محاصرہ کیا ہوا ہے ، ہم نے رحمن پر توکل کیا ہے ، اور ہم نے توکل کرنے والوں کے لیے مدد پائی ہے “ ۔ پھر عبداللہ بن حدق نے کہا: تم لوگ مجھے موقع دو تاکہ میں قلعے سے اتر کر نیچے جاؤں اور تم لوگوں کے پاس خبر لے کے آؤں عبداللہ بن حدق کے ساتھ بنو عجل سے تعلق رکھنے والی ایک عورت بھی تھی وہ قلعے سے نیچے اترے لوگوں نے انہیں پکڑ لیا اور دریافت کیا : تمہارا تعلق کس سے ہے اس نے اپنا نسب بیان کرنا شروع کیا اور پھر بلند آواز میں پکارا اے ابجر وہ صاحب لوگوں میں موجود تھے ابجر آ گئے ، اور انہیں پہچان گئے ، اور بولے : تمہارا کیا معاملہ ہے اس نے بتایا : میں بھوک کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہونے والا ہوں تو انہوں نے انہیں کھانا دیا پانی پلایا پھر یہ کہا: کہ مجھے سواری دو اور میرا راستہ چھوڑ دو پھر وہ گئے ، اور انہیں ایک خچر سواری کے لئے دیا ، اور پھر کہا: کہ تم اپنے کام کے سلسلے میں چلے جاؤ جب عبداللہ بن حدق ان کے پاس سے نکل گئے ، تو وہ اپنے ساتھیوں کے پاس واپس آئے ، اور انہیں بتایا : دشمن برے حال میں ہیں ان کے پاس اناج نہیں ہے ، تو سیدنا علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھ موجود مسلمانوں جن کا تعلق عربیوں اور عجمیوں سے تھا ان کو ساتھ لے کر دشمن پر حملہ کر دیا ، اور انہیں زبردست طریقے سے قتل کیا ، یہاں تک کہ دشمن پسپا ہو گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ابن اسحاق تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔