مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ قِتَالِ أَهْلِ الرِّدَّةِ باب: مرتدین کے ساتھ جنگ کرنا
وَعَنْ خُرَيْمِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : ¤ " هَذِهِ الْحِيرَةُ الْبَيْضَاءُ قَدْ رُفِعَتْ لِي ، وَهَذِهِ الشَّيْمَاءُ بِنْتُ بُقَيْلَةَ الْأَزْدِيَّةُ عَلَى بَغْلَةٍ شَهْبَاءَ مُعْتَجِرَةٌ بِخِمَارٍ أَسْوَدَ " . ¤ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَإِنْ نَحْنُ دَخَلْنَا الْحِيرَةَ ، وَوَجَدْنَاهَا عَلَى هَذِهِ الصِّفَةِ فَهِيَ لِي ؟ قَالَ : " هِيَ لَكَ " . ¤ ثُمَّ ارْتَدَتِ الْعَرَبُ فَلَمْ يَرْتَدَّ أَحَدٌ مِنْ طَيِّءٍ ، فَكُنَّا نُقَاتِلُ قَيْسًا عَلَى الْإِسْلَامِ ، وَمِنْهُمْ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ ، وَكُنَّا نُقَاتِلُ طُلَيْحَةَ بْنَ خُوَيْلِدٍ الْفَقْعَسِيَّ ، فَامْتَدَحَنَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَكَانَ فِيمَا قَالَ : ¤ جَزَى اللَّهُ عَنَّا طَيِّئًا فِي دِيَارِهَا بِمُعْتَرَكِ الْأَبْطَالِ خَيْرَ جَزَاءِ هُمْ أَهْلُ رَايَاتِ السَّمَاحَةِ وَالنَّدَى ¤ إِذَا مَا الصِّبَا أَلَوَتْ بِكُلِّ خِبَاءِ هُمْ ضَرَبُوا قَيْسًا عَلَى الدِّينِ بَعْدَمَا ¤ أَجَابُوا مُنَادِيَ ظُلْمَةٍ وَعَمَاءِ . ¤ ثُمَّ سَارَ خَالِدٌ إِلَى مُسَيْلِمَةَ ، فَسِرْنَا مَعَهُ ، فَلَمَّا فَرَغْنَا مِنْ مُسَيْلِمَةَ وَأَصْحَابِهِ أَقْبَلْنَا إِلَى نَاحِيَةِ الْبَصْرَةِ فَرَأَيْنَا هُرْمُزَ بِكَاظِمَةَ فِي جَمْعٍ عَظِيمٍ ، وَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ أَعْدَى لِلْعَرَبِ مِنْ هُرْمُزَ . ¤ قَالَ أَبُو السَّكَنِ : وَبِهِ يُضْرَبُ الْمَثَلُ ، تَقُولُ الْعَرَبُ : أَكْفَرُ مِنْ هُرْمُزَ . ¤ فَبَرَزَ لَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَدَعَا إِلَى الْبِرَازِ ، فَبَرَزَ لَهُ هُرْمُزُ ، فَقَتَلَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَكَتَبَ بِذَلِكَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَنَفَّلَهُ سَلَبَهُ ، فَبَلَغَتْ قَلَنْسُوَتُهُ مِائَةَ أَلْفٍ . ثُمَّ سِرْنَا عَلَى طَرِيقِ الطَّرْفِ حَتَّى دَخَلْنَا الْحِيرَةَ ، فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ تَلَقَّانَا فِيهَا الشَّيْمَاءُ بِنْتُ بُقَيْلَةَ عَلَى بَغْلَةٍ شَهْبَاءَ بِخِمَارٍ أَسْوَدَ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَعَلَّقْتُ بِهَا ، وَقُلْتُ : هَذِهِ وَهَبَهَا لِي رَسُولُ اللَّهِ ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَدَعَانِي خَالِدٌ عَلَيْهَا الْبَيِّنَةَ ، فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَسَلَّمَهَا إِلَيَّ ، وَنَزَلَ إِلَيْنَا أَخُوهَا عَبْدُ الْمَسِيحِ ، فَقَالَ لِي : بِعْنِيهَا ؟ فَقُلْتُ : لَا أَنْقُصُهَا وَاللَّهِ مِنْ عَشْرِ مِائَةٍ شَيْئًا ، فَدَفَعَ إِلَيَّ أَلْفَ دِرْهَمٍ ، فَقِيلَ لِي : لَوْ قُلْتَ مِائَةَ أَلْفٍ لَدَفَعَهَا إِلَيْكَ ، فَقُلْتُ : مَا أَحْسَبُ أَنَّ مَالًا أَكْثَرُ مِنْ عَشْرِ مِائَةٍ . ¤ وَبَلَغَنِي فِي غَيْرِ هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّ الشَّاهِدَيْنِ كَانَا مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ مِنْ حَدِيثِ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ فِي بَابِ قِتَالِ فَارِسَ وَالرُّومِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَإِنَّمَا ذَكَرْتُ هَذَا لِقِتَالِ أَهْلِ الرِّدَّةِ . ¤سیدنا خریم بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” یہ سفید حیرہ ہے ، جو میرے سامنے پیش کیا گیا ہے ، اور یہ شیماء بنت بقیلہ ازدیہ ہے ، جو سفید خچر پر سوار ہے ، اور اس نے سیاہ چادر اوڑھی ہوئی ہے ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم حیرہ میں داخل ہوں گے ، تو جب یہ صورت حال پائیں گے ، تو وہ عورت میری ہو گی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ تمہاری ہوئی راوی کہتے ہیں : پھر عرب مرتد ہو گئے لیکن طے قبیلے میں کوئی مرتد نہیں ہوا تو ہم قیس قبیلے کے لوگوں کے ساتھ اسلام کی بنیاد پر جنگ کرتے رہے ان میں سے ایک عیینہ بن حصن تھا ، اور ہم طلیحہ بن خویلد فقعسی کے ساتھ جنگ کرتے رہے ہم نے سیدنا خالد بن ولید کی تعریف کی ان کے بارے میں جو کچھ کہا: گیا اس میں یہ اشعار بھی ہیں : ” اللہ تعالیٰ ہماری طرف سے طے قبیلے کے افراد کو بہترین جزائے خیر عطا کرے ، جو اپنے علاقوں میں بہادروں کی آماجگاہ ہیں ، وہ نرمی اور بھلائی کے جھنڈوں کو اٹھانے والے ہیں ، جب تک صبا ( نامی تیز ہوا ) ہر خیمے کو ہلاتی رہے گی ، انہوں نے دین کی وجہ سے قیس قبیلے کے لوگوں پر ضرب لگائی ، جب ( قیس قبیلے کے لوگوں نے ) ظلمت اور اندھے پن کے منادی کی بات کو قبول کیا “ ۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ مسیلمہ کی طرف روانہ ہوئے ہم بھی ان کے ساتھ روانہ ہوئے جب ہم مسیلمہ اور اس کے ساتھیوں سے فارغ ہوئے ، تو ہم بصرہ کی ایک نواحی بستی کی طرف آئے ہم نے ہرمز کو دیکھا کہ وہ ایک بڑے لشکر کے ساتھ اکٹھا ہو چکا ہے عربوں کا اس سے بڑا دشمن اور کوئی نہیں تھا ۔ ابوسکن نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے : یہ چیز ضرب المثل کی حیثیت رکھتی ہے عرب کہتے ہیں : ہرمز سے کفارہ دلاؤ ۔ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اس کے سامنے آئے انہوں نے مقابلے کے لئے للکارا تو ہرمز ان کے سامنے آیا سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کر دیا انہوں نے اس بارے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خط لکھا تو ہرمز کا سامان سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کو انعام کے طور پر دے دیا ہرمز کی ٹوپی کی قیمت ایک لاکھ بنتی تھی پھر ہم طرف نامی علاقے کی طرف روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ ہم حیرہ میں داخل ہوئے وہاں ہمیں سب سے پہلے ایک خاتون ملی جو شیما بنت بقیلہ تھی وہ ایک سفید خچر پر سوار تھی اور اس نے سیاہ چادر لی ہوئی تھی جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا : تو میں اس کے پاس آیا اور میں نے کہا: یہ عورت اللہ کے رسول نے مجھے ہبہ کی تھی سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں مجھ سے ثبوت مانگا میں نے انہیں ثبوت پیش کیا ، تو انہوں نے وہ خاتون میرے حوالے کر دی اس خاتون کا بھائی عبدالمسیح ہمارے پاس آیا اور اس نے مجھ سے کہا: اس عورت کو مجھے فروخت کر دو میں نے کہا: اللہ کی قسم میں ایک ہزار سے کوئی کمی نہیں کروں گا ، تو اس نے مجھے ایک ہزار درہم دے دیے مجھ سے کہا: گیا کہ اگر تم ایک لاکھ بھی کہتے تو اس نے وہ بھی تمہیں دے دینے تھے میں نے کہا: مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ ایک ہزار سے بھی زیادہ مال ہوتا ہے ۔ اس روایت کے علاوہ دیگر روایات میں یہ بات مذکور ہے کہ وہ دونوں گواہ سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تھے ( جنہوں نے ان صاحب کے حق میں گواہی دی تھی ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس مضمون کی حدیث اس سے پہلے گزر چکی ہے ، جو سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، اور فارسیوں اور رومیوں کے ساتھ جنگ کرنے سے متعلق باب میں گزری ہے اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں میں نے
یہ روایت مرتدین کے ساتھ جنگ کرنے سے متعلق ہونے کے حوالے سے ذکر کی ہے ۔