کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جنگ یمامہ میں جن لوگوں نے جام شہادت نوش کیا
عَنْ عُرْوَةَ فِي مَنِ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ الْيَمَامَةِ : ¤ مِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي سَاعِدَةَ : أُسَيْدُ بْنُ يَرْبُوعٍ . ¤ وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ : بَشِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ . ¤ وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي مَالِكِ بْنِ تَيْمِ اللَّهِ : ثَابِتُ بْنُ خَالِدِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ خَالِدِ بْنِ خَنْسَاءَ . ¤ وَمِنْ قُرَيْشٍ : جُبَيْرُ بْنُ مَالِكٍ وَهُوَ ابْنُ بُحَيْنَةَ وَهُوَ مِنْ بَنِي نَوْفَلِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ . ¤ وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي جَحْجَبَى : جَزْءُ بْنُ مَالِكِ بْنِ حُزَيْرٍ . وَمِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ : حَكِيمُ بْنُ حَزْنِ بْنِ أَبِي وَهْبِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَائِذٍ . ¤ وَمِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ : رَبِيعَةُ بْنُ خَرَشَةَ . ¤ وَمِنَ الْأَنْصَارِ : رَبَاحُ مَوْلَى جَحْجَبَى . ¤ وَمِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ : زَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ وَزَيْدُ بْنُ رُقَيْشٍ حَلِيفُ بَنِي أُمَيَّةَ . ¤ وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي سَاعِدَةَ : سَعْدُ بْنُ حَارِثَةَ بْنِ لَوْذَانَ بْنِ عَبْدُودٍ . ¤ وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي سَاعِدَةَ : سَعْدُ بْنُ حِبَّانَ ، حَلِيفٌ لَهُمْ . ¤ وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي جَحْجَبَى : سَعِيدُ بْنُ رَبِيعِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ مَالِكٍ . ¤ وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي الْأَشْهَلِ : سَهْلُ بْنُ عَدِيٍّ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ ، حَلِيفٌ لَهُمْ ، وَسَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ . ¤ وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي سَاعِدَةَ : سِمَاكُ بْنُ خَرَشَةَ ، وَهُوَ أَبُو دُجَانَةَ . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادٍ وَاحِدٍ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عروہ نے جنگ یمامہ میں شہید ہونے والوں کے ناموں میں ان حضرات کا ذکر کیا ہے : انصار کی شاخ بنو ساعدہ سے تعلق رکھنے والے سیدنا اسید بن یربوع رضی اللہ عنہ انصار کی شاخ بنو حارث بن خزرج سے تعلق رکھنے والے سیدنا بشیر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ انصار کی شاخ بنو مالک بن تیم اللہ سے تعلق رکھنے والے سیدنا ثابت بن خالد بن نعمان بن خالد بن خنساء رضی الله عنہ قریش سے تعلق رکھنے والے سیدنا جبیر بن مالک رضی اللہ عنہ جو ابن بحینہ ہیں ان کا تعلق بنو نوفل بن عبد مناف سے ہے انصار کی شاخ بنو جحجبی سے تعلق رکھنے والے سیدنا جزء بن مالک بن حدیر رضی اللہ عنہ قریش کی شاخ بن مخزوم سے تعلق رکھنے والے سیدنا حکیم بن حزن بن ابووہب بن عمرو بن عائذ رضی اللہ عنہ قریش کی شاخ بنو عامر بن لؤی سے تعلق رکھنے والے سیدنا ربیعہ بن خرشہ رضی اللہ عنہ انصارے سے تعلق رکھنے والے سیدنا رباح جو جحجبی کے غلام ہیں قریش کی شاخ بنو عدی بن کعب سے تعلق رکھنے والے سیدنا زید بن خطاب رضی اللہ عنہ اور سیدنا زید بن رقیش رضی اللہ عنہ جو بنوامیہ کے حلیف تھے انصار کی شاخ بنو ساعدہ سے تعلق رکھنے والے سیدنا سعد بن حارثہ بن لوذان بن عبدود رضی اللہ عنہ انصار کی شاخ بنو ساعدہ سے تعلق رکھنے والے سیدنا سعد بن حبان رضی اللہ عنہ جو ان کے حلیف ہیں انصار کی شاخ بنو جحجبی سے تعلق رکھنے والے سیدنا سعید بن ربیع بن عدی بن مالک رضی اللہ عنہ انصار کی شاخ بنو عبداشہل سے تعلق رکھنے والے سیدنا سہل بن عدی رضی اللہ عنہ جن کا تعلق بنو تمیم سے ہے ، اور یہ ان کے حلیف ہیں ، اور سیدنا سالم رضی اللہ عنہ جو سیدنا ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں انصار کی شاخ بنو ساعدہ سے تعلق رکھنے والے سیدنا سماک بن خرشہ رضی اللہ عنہ یہ سیدنا ابودجانہ ہیں ۔ امام طبرانی نے یہ تمام نام ایک سند کے ساتھ نقل کیے ہیں ان کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10395
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1613)»
وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ فِي تَسْمِيَةِ مَنِ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ الْيَمَامَةِ : ¤ مِنَ الْمُسْلِمِينَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي سَاعِدَةَ : أُسَيْدُ بْنُ يَرْبُوعٍ . ¤ وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ : أَسْعَدُ بْنُ سَلَامَةَ . ¤ وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ : ثَابِتُ بْنُ خَالِدِ بْنِ النُّعْمَانِ . . ¤ وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنَ الْأَوْسِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ : جَزْءُ بْنُ مَالِكٍ وَرَبَاحٌ مَوْلَى جَحْجَبَى . ¤ وَمِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ : رَبِيعَةُ بْنُ خَرَشَةَ . ¤ وَمِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ : زَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ . ¤ وَمِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ : زَيْدُ بْنُ أُسَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ . ¤ وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي سَاعِدَةَ : سَعْدُ بْنُ حَمَّارٍ ، حَلِيفٌ لَهُمْ . ¤ وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنَ الْأَوْسِ ، ثُمَّ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ : سَعِيدُ بْنُ رَبِيعِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ مَالِكٍ . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادٍ وَاحِدٍ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابن شہاب نے جنگ یمامہ میں جام شہادت نوش کرنے والوں کے ناموں میں ان حضرات کا ذکر کیا ہے مسلمانوں میں سے انصار کی شاخ بنو ساعدہ سے تعلق رکھنے والے سیدنا اسید بن یربوع رضی اللہ عنہ انصار کی شاخ بنو عبداشہل سے تعلق رکھنے والے سیدنا اسعد بن سلامہ رضی اللہ عنہ انصار کی شاخ بنو نجار سے تعلق رکھنے والے سیدنا ثابت بن خالد بن نعمان رضی اللہ عنہ انصار کی شاخ اوس قبیلے کی شاخ بنو عمرو بن عوف سے تعلق رکھنے والے سیدنا جز بن مالک اور سیدنا رباح جحجباح کے غلام ہیں ۔ قریش کی شاخ بنو عامر بن لؤی سے تعلق رکھنے والے سیدنا ربیعہ بن خرشہ رضی اللہ عنہ قریش کی شاخ بنو عدی بن کعب سے تعلق رکھنے والے سیدنا زید بن خطاب رضی اللہ عنہ قریشی کی شاخ بنوزہرہ سے تعلق رکھنے والے سیدنا زید بن اسید بن حارثہ رضی اللہ عنہ انصار کی شاخ بنو ساعدہ سے تعلق رکھنے والے سیدنا سعد بن حمار رضی اللہ عنہ جو ان کے حلیف ہیں انصار کی شاخ بنو عمرو بن عوف سے تعلق رکھنے والے سیدنا سعید بن ربیع بن عدی بن مالک رضی اللہ عنہ ان سب کے نام امام طبرانی نے ایک ہی سند کے ساتھ نقل کیے ہیں ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10396
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ فِي تَسْمِيَةِ مَنِ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ الْيَمَامَةِ : ¤ مِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي سَاعِدَةَ : سِمَاكُ بْنُ خَرَشَةَ وَهُوَ أَبُو دُجَانَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن اسحاق نے جنگ یمامہ میں شہید ہونے والوں کے ناموں میں ان حضرات کا ذکر کیا ہے : انصار کی شاخ بنو ساعدہ سے تعلق رکھنے والے سیدنا سماک بن خرشہ رضی اللہ عنہ یہ سیدنا ابودجانہ رضی اللہ عنہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10397
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ شَبَّابٍ قَالَ : ¤ اسْتُشْهِدْ عِمَارَةُ بْنُ حَزْمٍ يَوْمَ الْيَمَامَةِ سَنَةَ إِحْدَى عَشْرَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
شباب بیان کرتے ہیں : سیدنا عمارہ بن حزم رضی اللہ عنہ نے سن گیارہ ہجری میں جنگ یمامہ میں جام شہادت نوش کیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10398
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صرف
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ : ¤ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِرَجُلٍ سَاجِدٍ وَهُوَ يَنْطَلِقُ إِلَى الصَّلَاةِ ، فَقَضَى الصَّلَاةَ ، وَرَجَعَ عَلَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ ، فَقَامَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : ¤ " مَنْ يَقْتُلُ هَذَا ؟ " . فَقَامَ رَجُلٌ ، فَحَسَرَ عَنْ يَدَيْهِ ، فَاخْتَرَطَ سَيْفَهَ وَهَزَّهُ ، وَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، كَيْفَ أَقْتُلُ رَجُلًا سَاجِدًا يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ؟ ! . ¤ ثُمَّ قَالَ : " مَنْ يَقْتُلُ هَذَا ؟ " فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ : أَنَا ، فَحَسَرَ عَنْ ذِرَاعَيْهِ وَاخْتَرَطَ سَيْفَهُ ، فَهَزَّهُ حَتَّى أُرْعِدَتْ يَدُهُ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، كَيْفَ أَقْتُلُ رَجُلًا سَاجِدًا يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ؟ ! فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَوْ قَتَلْتُمُوهُ لَكَانَ أَوَّلَ فِتْنَةٍ وَآخِرَهَا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ مِنْ غَيْرِ بَيَانٍ شَافٍ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے جو سجدے کی حالت میں تھا آپ نماز کے لئے تشریف لے گئے آپ نے نماز ادا کر لی جب آپ واپسی پر اس کے پاس سے گزرے تو وہ اس وقت بھی سجدے کی حالت میں تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے آپ نے ارشاد فرمایا : کون اسے قتل کرے گا ایک صاحب کھڑے ہوئے انہوں نے اپنی آستینیں چڑھائیں تلوار نکالی اسے لہرایا اور عرض کی ، اے اللہ کے نبی ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ۔ میں ایسے شخص کو کیسے قتل کر سکتا ہوں جو سجدے کی حالت میں ہے ، اور اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کون اسے قتل کرے گا ایک اور صاحب کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی : میں ۔ انہوں نے اپنی آستینیں چڑھائیں تلوار کھینچی اسے لہرایا لیکن پھر ان کے ہاتھ پر کپکپی طاری ہو گئی ۔ انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! میں اپنے شخص کو کیسے قتل کر سکتا ہوں جو سجدے کی حالت میں ہے ، اور اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے اگر تم لوگ اسے قتل کر دیتے تو یہ پہلا اور آخری فتنہ ہوتا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے کسی شافی بیان کے بغیر نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10399
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (42/5)»
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ : ¤ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي مَرَرْتُ بِوَادِ كَذَا وَكَذَا ، فَإِذَا رَجُلٌ مُتَخَشِّعٌ ، حَسَنُ الْهَيْئَةِ ، يُصَلِّي ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ " . قَالَ : فَذَهَبَ إِلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ ، فَلَمَّا رَآهُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ كَرِهَ أَنْ يَقْتُلَهُ ، فَرَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعُمَرَ : " اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ " . فَذَهَبَ عُمَرُ ، فَرَآهُ عَلَى الْحَالِ الَّذِي رَآهُ أَبُو بَكْرٍ ، فَرَجَعَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي رَأَيْتُهُ يُصَلِّي مُتَخَشِّعًا فَكَرِهْتُ أَنْ أَقْتُلَهُ . ¤ قَالَ : " يَا عَلِيُّ اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ " ، فَذَهَبَ عَلِيٌّ فَلَمْ يَرَهُ ، فَرَجَعَ عَلِيٌّ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي لَمْ أَرَهُ . ¤ قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ هَذَا وَأَصْحَابَهُ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، ثُمَّ لَا يَعُودُونَ فِيهِ حَتَّى يَعُودَ السَّهْمُ فِي فَوْقِهِ ، فَاقْتُلُوهُمْ ، هُمْ شَرُّ الْبَرِيَّةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرا گزر فلاں فلاں وادی سے ہوا وہاں ایک خشوع و خضوع والا شخص موجود تھا جس کی ظاہری حالت اچھی تھی وہ نماز ادا کر رہا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم جاؤ اور اسے قتل کر دو راوی کہتے ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس شخص کی طرف گئے جب انہوں نے اس شخص کو اس حالت میں دیکھا تو اسے قتل کرنے کو ناپسند کیا وہ واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تم جاؤ اور اسے قتل کر دو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ گئے انہوں نے اس شخص کو اسی حالت میں دیکھا جس حالت میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھا تھا راوی بیان کرتے ہیں : تو وہ بھی واپس آ گئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے اسے دیکھا کہ وہ خشوع و خضوع کے ساتھ نماز ادا کر رہا تھا تو میں نے اسے قتل کرنے کو ناپسند کیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے علی تم جاؤ اور اسے قتل کر دو سیدنا علی رضی اللہ عنہ گئے لیکن انہیں وہ شخص نظر نہیں آیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ واپس آ گئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے وہ نظر نہیں آیا راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک یہ شخص اور اس کے ساتھی قرآن پڑھیں گے ، لیکن وہ ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا وہ دین سے یوں نکل جائیں گے ، جس طرح تیر نشانے کے پار ہو جاتا ہے ، اور پھر وہ دین میں واپس اس وقت تک نہیں آئیں گے جب تک تیر کمان میں اپنی جگہ پر واپس نہیں آتا تم ان لوگوں کو قتل کرنا کیونکہ وہ مخلوق کے بدترین لوگ ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10400
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (15/3)»