مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ قِتَالِ أَهْلِ الرِّدَّةِ باب: مرتدین کے ساتھ جنگ کرنا
وَعَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ : ¤ جَاءَ أَهْلُ الرِّدَّةِ مِنْ أَسَدٍ وَغَطَفَانَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْأَلُونَهُ الصُّلْحَ ، فَقَالَ : عَلَى أَنْ نَنْزِعَ مِنْكُمُ الْحَلَقَةَ وَالْكُرَاعَ ، وَتُتْرَكُونَ تَبِيعُونَ أَذْنَابَ الْبَقَرِ حَتَّى يُرِيَ اللَّهُ خَلِيفَةَ نَبِيِّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالْمُؤْمِنِينَ رَأْيًا يَعْذُرُونَكُمْ بِهِ ، وَتَشْهَدُونَ أَنَّ قَتْلَاكُمْ فِي النَّارِ وَقَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ ، وَتَدُونَ قَتْلَانَا ، وَلَا نَدِي قَتْلَاكُمْ ، فَقَالَ عُمَرُ : يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْقَوْلُ كَمَا قُلْتَ ، غَيْرَ أَنَّ قَتْلَانَا قُتِلُوا فِي ذِمَّةِ اللَّهِ لَا دِيَةَ لَهُمْ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤طارق بن شہاب بیان کرتے ہیں : اسد اور غطفان قبیلے سے تعلق رکھنے والے مرتد ہونے والے لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، اور ان سے صلح کی درخواست کی تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس شرط پر کہ ہم تم سے زرہیں اور گھوڑے الگ کر لیں گے ، اور تمہیں یوں چھوڑ دیں گے کہ تم گائے کی دموں کے پیچھے جاتے رہو ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کے خلیفہ کو اور اہل ایمان کو وہ صورت حال دکھا دے کہ جس کی بنیاد پر وہ تمہاری معذرت قبول کر لیں اور تم اس بات کی بھی گواہی دو گے کہ تمہارے مقتولین جہنم میں ہیں ، اور ہمارے مقتولین جنت میں ہیں ، اور تم ہماری مقتولین کی دیت دو گے لیکن ہم تمہارے مقتولین کی دیت نہیں دیں گے ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اے اللہ کے رسول کے خلیفہ بات اسی طرح ہے ، جس طرح آپ نے بیان کیا ہے لیکن ہمارے مقتولین اللہ کے ذمہ میں قتل ہوئے ہیں اس لئے انہیں دیت نہیں ملے گی ۔ ( علام ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن بشار رمادی ہے ۔ جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے یحییٰ بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔