حدیث نمبر: 10292
وَعَنْ أَبِي جَرْوَلٍ زُهَيْرِ بْنِ صُرَدَ قَالَ : لَمَّا أَسَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ حُنَيْنٍ يَوْمَ هَوَازِنَ ، وَذَهَبَ يُفَرِّقُ السَّبْيَ وَالشَّاءَ أَتَيْتُهُ ، فَأَنْشَأْتُ أَقُولُ هَذَا الشِّعْرَ : ¤ امْنُنْ عَلَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ فِي كَرَمٍ فَإِنَّكَ الْمَرْءُ نَرْجُوهُ وَنَنْتَظِرُ امْنُنْ عَلَى بَيْضَةٍ قَدْ عَاقَهَا قَدَرٌ ¤ مُشَتَّتٌ شَمْلُهَا فِي دَهْرِهَا غِيَرُ أَبْقَتْ لَنَا الدَّهْرَ هُتَّافًا عَلَى حَزَنٍ ¤ عَلَى قُلُوبِهِمُ الْغَمَّاءُ وَالْغَمْرُ إِنْ لَمْ تُدَارِكْهُمُ رَحْمَاءُ تَنْشُرُهَا ¤ يَا أَرْجَحَ النَّاسِ حِلْمًا حِينَ يُخْتَبَرُ امْنُنْ عَلَى نِسْوَةٍ قَدْ كُنْتَ تَرْضَعُهَا ¤ إِذْ فُوكَ يَمْلَأُهُ مِنْ مَخْضِهَا الدُّرَرُ إِذْ كُنْتَ طِفْلًا صَغِيرًا كُنْتَ تَرْضَعُهَا ¤ وَإِذْ يُزَيِّنُكَ مَا تَأْتِي وَمَا تَذَرُ لَا تَجْعَلَنَّا كَمَنْ شَالَتْ نَعَامَتُهُ ¤ وَاسْتَبْقِ مِنَّا فَإِنَّا مَعْشَرٌ زُهْرُ إِنَّا لَنَشْكُرُ لِلنَّعْمَاءِ إِذْ كُفِرَتْ ¤ وَعِنْدَنَا بَعْدَ هَذَا الْيَوْمِ مُدَّخَرُ فَأَلْبِسِ الْعَفْوَ مَنْ قَدْ كُنْتَ تَرْضَعُهُ ¤ مِنْ أُمَّهَاتِكَ إِنَّ الْعَفْوَ مُشْتَهِرُ يَا خَيْرَ مَنْ مَرِحَتْ كُمْتُ الْجِيَادِ بِهِ ¤ عِنْدَ الْهَيَاجِ إِذَا مَا اسْتَوْقَدَ الشَّرَرُ إِنَّا نُؤَمِّلُ عَفْوًا مِنْكَ تَلْبَسُهُ ¤ هَادِي الْبَرِيَّةِ إِذْ يَعْفُو وَيَنْتَصِرُ فَاعْفُ عَفَا اللَّهُ عَمَّا أَنْتَ رَاهِبُهُ ¤ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِذْ يُهْدِي لَكَ الظَّفَرُ فَلَمَّا سَمِعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هَذَا الشِّعْرَ ، قَالَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا كَانَ لِي وَلِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَهُوَ لَكُمْ " . وَقَالَتْ قُرَيْشٌ : مَا كَانَ لَنَا فَهُوَ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ . وَقَالَتِ الْأَنْصَارُ : مَا كَانَ لَنَا فَهُوَ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوجرول زہیر بن صرد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب غزوہ حنین کے موقع پر ہوازن کے ساتھ جنگ کے موقع پر اللہ کے رسول نے ہمیں قیدی بنا لیا تو آپ قیدیوں اور بھیڑ بکریوں کو الگ کرنے لگے میں آپ کے پاس آیا اور میں نے یہ اشعار سنانے شروع کیے : ” اے اللہ کے رسول اکرم کے ہمراہ ہم پر احسان کیجیے ! کیونکہ آپ ایک ایسے فرد ہیں ، جن سے ہم امید رکھتے ہیں اور ہم ( آپ کے کرم کے ) منتظر ہیں ، آپ اس جماعت پر احسان کیجیے جس کو تقدیر نے عاق کر دیا ہے ، اور اس کی اجتماعیت کو منتشر کر کے زمانے نے ان کے احوال تبدیل کر دیے ہیں ، زمانے نے ہمیں یوں باقی رکھا ہے کہ ہم غم کی چیخ و پکار کرتے ہیں ، ان کے دلوں پر شدید غم اور پریشانی ہے ، اگر آپ نے رحمت کو پھیلا کر ، ان کی مدد نہ کی ، اے وہ فرد کہ جب تحقیق کی جائے تو برد باری کے حوالے سے آپ لوگوں میں سب سے زیادہ راجح ہوں گے ، آپ ان خواتین پر مہربانی کیجیئے ، جن کا آپ نے دودھ پیا ہے ، کیونکہ آپ کے منہ میں ، ان کے دودھ کے برتن کے ذریعے خالص دودھ آیا ، جب آپ چھوٹے بچے تھے تو آپ ان کا دودھ پیتے تھے ، جب آپ کو وہ چیز اچھی لگتی تھی جو وہ لے کر آتی تھی اور جو وہ چھوڑ جاتی تھی ، آپ ہمیں اس کی طرح نہ بنا دیں ، جس کی اجتماعیت منتشر ہو گئی ، اور ہمیں باقی رہنے دیں کیونکہ ہم روشن گروہ ہیں ، جب کفران نعمت کیا جائے تو ہم اس وقت ( نعمتوں کے ) شکر گزار ہوتے ہیں ، اور اس دن کے بعد بھی ہمارے پاس ذخیرہ ہے ، تو آپ انہیں معافی عطا کر دیں جن کے ہاں آپ کی رضاعت ہوئی تھی ، جن میں آپ کی ( رضاعی ) مائیں بھی ہیں ، کیونکہ معاف کرنا مشہور ہوتا ہے ، اے ان میں سب سے بہتر ، کہ جنگ کے وقت ، سرخ و سیاہ رنگ کے گھوڑے جس سے آرام پاتے ہیں ، جب تک ( جنگ کے ) شعلے بھڑکتے رہیں ، ہم آپ کی طرف سے معافی کی امید رکھتے ہیں ، آپ کو ” مخلوق کو ہدایت دینے والے “ کا لقب دیا گیا ہے ، کیونکہ آپ معاف کرتے ہیں اور مدد کرتے ہیں ، تو آپ معاف کر دیں ، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن آپ کو ان چیزوں سے بچا کر رکھے ، جن سے آپ بچنا چاہتے ہیں اور آپ کو کامیابی نصیب کرے “ ۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اشعار سنے تو آپ نے فرمایا : جو چیز میرے حصے میں اور بنو عبدالمطلب کے حصے میں آتی ہے وہ تمہاری ہوئی قریش نے کہا: جو چیز ہمارے حصے میں آتی ہے وہ اللہ اور اس کے رسول کی ہوئی انصار نے کہا: جو چیز ہمارے حصے میں آتی ہے وہ اللہ اور اس کے رسول کی ہوئی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10292
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1837)»