مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي غَنَائِمِ هَوَازِنَ وَسَبْيِهِمْ باب: ہوازن کے مال غنیمت اور ان کے قیدیوں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُقَسِّمُ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ وَجِبْرِيلُ إِلَى جَنْبِهِ ، فَجَاءَ مَلَكٌ فَقَالَ : إِنَّ رَبَّكَ يَأْمُرُكَ بِكَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِجِبْرِيلَ : " تَعْرِفُهُ ؟ " ، فَقَالَ : هُوَ مَلَكٌ وَمَا كُلُّ مَلَائِكَةِ رَبِّكَ أَعْرِفُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَزَادَ : فَخَشِيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَكُونَ شَيْطَانًا . ¤ وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْأَشْقَرُ وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ ، وَرُمِيَ بِالْكَذِبِ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . وَأَحَادِيثُ كَثِيرَةٌ فِي مَنَاقِبِ الْأَنْصَارِ فِي غَنَائِمِ حُنَيْنٍ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ حنین کا مال غنیمت تقسیم کر رہے تھے ، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ کے پہلو میں موجود تھے ایک فرشتہ آیا اس نے کہا: آپ کے پروردگار نے آپ کو اس اس بات کا حکم دیا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا جبرائیل علیہ السلام سے دریافت کیا : کیا تم اسے پہنچانتے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : یہ فرشتہ ہی ہے آپ کے پروردگار کے تمام فرشتوں سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ شیطان نہ ہو ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی حسین بن حسن اشقر ہے ، اور وہ منکر الحدیث ہے ، اس پر جھوٹا ہونے کا الزام ہے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔ غزوہ حنین کے مال غنیمت کے بارے میں انصار کے مناقب سے متعلق باب میں بہت سی احادیث آئیں گی ۔