کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ان لوگوں کا بیان جنہوں نے غزوہ حنین میں جام شہادت نوش کیا
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ فِي تَسْمِيَةِ مَنِ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ حُنَيْنٍ : أَيْمَنُ بْنُ عُبَيْدٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن اسحاق غزوہ حنین میں جام شہادت نوش کرنے والوں کے نام میں سیدنا ایمن بن عبید رضی اللہ عنہ کا ذکر کرتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : كَانَ فِي مَنْ ثَبَتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَيْمَنُ بْنُ أُمِّ أَيْمَنَ وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدٍ . ¤ قُلْتُ : هَذَا مَكْتُوبٌ بَعْدَ كَلَامِ ابْنِ إِسْحَاقَ الَّذِي قَبْلَهُ ، وَلَيْسَ هُوَ فِي السَّمَاعِ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جو لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے تھے ( اور انہوں نے غزوہ حنین میں جام شہادت نوش کیا ) ان میں سے ایک سیدنا ایمن بن اُم ایمن رضی اللہ عنہ ہیں ( راوی کہتے ہیں ) یہ سیدنا ایمن بن عبید رضی اللہ عنہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ چیز ابن اسحاق کے اس کلام کے بعد تحریر ہے ، جو روایت اس سے پہلے گزری ہے ، اور
یہ روایت سماع میں شامل نہیں ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ مدلس ہے ۔
یہ روایت سماع میں شامل نہیں ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ مدلس ہے ۔
قَالَ الطَّبَرَانِيُّ : أَيْمَنُ بْنُ أُمِّ أَيْمَنَ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ حُنَيْنٍ ، وَهُوَ أَيْمَنُ بْنُ عُبَيْدٍ أَخُو بَنِي عَوْفِ بْنِ الْخَزْرَجِ ، وَهُوَ أَخُو أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ لِأُمِّهِ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی فرماتے ہیں : سیدنا ایمن بن ام ایمن بن ام ایمن رضی اللہ عنہا نے حنین کے موقع پر جام شہادت نوش کیا تھا یہ ایمن بن عبید ہیں ، جن کا تعلق بنو عوف بن خزرج سے ہے ، اور یہ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے ماں کی طرف سے شریک بھائی ہیں ۔
وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ : وَقُتِلَ يَوْمَ حُنَيْنٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ثُمَّ مِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى : زَيْدُ بْنُ رَبِيعَةَ . ¤ وَمِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى : زَيْدُ بْنُ زَمْعَةَ ، قَالَ الطَّبَرَانِيُّ : هَكَذَا قَالَ ابْنُ لَهِيعَةَ وَهُوَ وَهْمٌ . قُلْتُ : وَالصَّوَابُ أَنَّهُ يَزِيدُ كَمَا سَيَأْتِي عَنِ الزُّهْرِيِّ . ¤ وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، ثُمَّ مِنْ بَنِي الْعَجْلَانِ : سُرَاقَةُ بْنُ الْحُبَابِ . رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
عروہ بیان کرتے ہیں : غزوہ حنین کے موقع پر مسلمانوں میں سے قریش کی شاخ بنواسد بن عبدالعزی سے تعلق رکھنے والے سیدنا زید بن ربیعہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تھے اس کے علاوہ قریش کی شاخ بنو اسد بن عبدالعزی سے تعلق رکھنے والے سیدنا زید بن زمعہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تھے ۔ امام طبرانی بیان کرتے ہیں : ابن لہیعہ نے اسی طرح بیان کیا ہے ، اور یہ بات وہم ہے میں یہ کہتا ہوں درست یہ ہے کہ یہ یزید ہیں جیسا کہ زہری کے حوالے سے آگے
یہ روایت آئے گی ۔ انصار کی شاخ بنو عمرو بن عوف کی شاخ بنو عجلان سے تعلق رکھنے والے سیدنا سراقہ بن حباب رضی اللہ عنہ شہید ہونے والوں میں شامل ) ہیں ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے نقل کی ہیں اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔
یہ روایت آئے گی ۔ انصار کی شاخ بنو عمرو بن عوف کی شاخ بنو عجلان سے تعلق رکھنے والے سیدنا سراقہ بن حباب رضی اللہ عنہ شہید ہونے والوں میں شامل ) ہیں ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے نقل کی ہیں اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ فِي تَسْمِيَةِ مَنِ اسْتُشْهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي الْعَجْلَانِ : مُرَّةُ بْنُ سُرَاقَةَ بْنِ الْحُبَابِ ، هَكَذَا قَالَ ابْنُ شِهَابٍ . ¤ وَاسْتُشْهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ حُنَيْنٍ مِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي أَسَدٍ : يَزِيدُ بْنُ زَمْعَةَ . ¤ وَرِجَالُهُمَا إِلَى الزُّهْرِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابن شہاب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ( غزوہ حنین کے موقع پر ) شہید ہونے والوں کے ناموں میں ان کا ذکر کیا ہے انصار کی شاخ بنو عجلان سے تعلق رکھنے والے سیدنا مرہ بن سراقہ بن حباب ، ابن شہاب نے اسی طرح ذکر کیا ہے ۔ غزوہ حنین کے موقع پر قریش کی شاخ بنواسد سے تعلق رکھنے والے سیدنا یزید بن زمعہ رضی اللہ عنہ بھی شہید ہوئے تھے ۔ زہری تک ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ فِي تَسْمِيَةِ مَنِ اسْتُشْهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ قُرَيْشٍ ، ثُمَّ مِنْ بَنِي أَسَدٍ : يَزِيدُ بْنُ زَمْعَةَ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ الْمُطَّلِبِ جَمَحَ بِهِ فَرَسٌ - يُقَالُ لَهُ : الْجَنَاحُ - فَقَتَلَهُ . ¤ وَاسْتُشْهِدَ يَوْمَ حُنَيْنٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْأَنْصَارِ : سُرَاقَةُ بْنُ الْحُبَابِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ النَّجَّارِ . وَإِسْنَادُهُمَا إِلَى ابْنِ إِسْحَاقَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابن اسحاق نے ( غزوہ حنین کے موقع پر ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شرکت کرتے ہوئے شہید ہونے والوں کے ناموں میں قریش کی شاخ بنواسد سے تعلق رکھنے والے سیدنا یزید بن زمعہ بن اسود بن مطالب رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ہے انہیں گھوڑے نے گرا دیا تھا ، جس کا نام جناح تھا ، اور اس وجہ سے یہ شہید ہوئے ۔ غزوہ حنین میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شرکت کرتے ہوئے شہید ہونے والوں میں انصار سے تعلق رکھنے والے سیدنا سراقہ بن حباب بن عدی بن نجار رضی اللہ عنہ شامل ہیں ۔ ابن اسحاق تک ان دونوں روایات کی سند کے رجال ثقہ ہیں ۔