حدیث نمبر: 10297
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَسَمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ قَسْمًا عَلَى الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ ، فَوَجَدَتِ الْأَنْصَارُ فِي أَنْفُسِهَا ، فَقَالُوا : قَسَمَ فِيهِمْ ، فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، أَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ تَذْهَبُوا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَكُمْ ؟ " . قَالُوا : بَلَى . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، قَالَ ابْنُ الطَّهْرَانِيِّ : كَانَ ثِقَةً . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کا مال غنیمت مؤلفۃ القلوب کے درمیان تقسیم کر دیا ، تو انصار کو اس حوالے سے الجھن ہوئی ۔ انہوں نے یہ کہا: کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے درمیان ( مال غنیمت ) تقسیم کر دیا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے انصار کے گروہ ! کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تم لوگ اپنے ساتھ اللہ کے رسول کو لے جاؤ تو انہوں نے عرض کی : جی ہاں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حفص بن عمر عدنی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ابن طہرانی کہتے ہیں یہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10297
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1839)»