مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي غَنَائِمِ هَوَازِنَ وَسَبْيِهِمْ باب: ہوازن کے مال غنیمت اور ان کے قیدیوں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَسَمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ قَسْمًا عَلَى الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ ، فَوَجَدَتِ الْأَنْصَارُ فِي أَنْفُسِهَا ، فَقَالُوا : قَسَمَ فِيهِمْ ، فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، أَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ تَذْهَبُوا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَكُمْ ؟ " . قَالُوا : بَلَى . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، قَالَ ابْنُ الطَّهْرَانِيِّ : كَانَ ثِقَةً . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کا مال غنیمت مؤلفۃ القلوب کے درمیان تقسیم کر دیا ، تو انصار کو اس حوالے سے الجھن ہوئی ۔ انہوں نے یہ کہا: کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے درمیان ( مال غنیمت ) تقسیم کر دیا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے انصار کے گروہ ! کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تم لوگ اپنے ساتھ اللہ کے رسول کو لے جاؤ تو انہوں نے عرض کی : جی ہاں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حفص بن عمر عدنی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ابن طہرانی کہتے ہیں یہ ثقہ ہے ۔