حدیث نمبر: 10293
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ وَفْدَ هَوَازِنَ لَمَّا أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْجِعْرَانَةِ ، وَقَدْ أَسْلَمُوا قَالُوا : إِنَّا أَصْلٌ وَعَشِيرَةٌ ، وَقَدْ أَصَابَنَا مِنَ الْبَلَاءِ مَا لَمْ يَخْفَ عَلَيْكَ ، فَامْنُنْ عَلَيْنَا مَنَّ اللَّهُ عَلَيْكَ . ¤ وَقَالَ رَجُلٌ مِنْ هَوَازِنَ مِنْ بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ يُقَالُ لَهُ : زُهَيْرٌ ، وَيُكَنَّى بِأَبِي صُرَدَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نِسَاؤُنَا عَمَّاتُكَ وَخَالَاتُكَ وَحَوَاضِنُكَ اللَّاتِي كَفَلْنَكَ ، وَلَوْ أَنَّا لَحِقَنَا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي شِمْرٍ ، وَالنُّعْمَانُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، ثُمَّ نَزَلَ بِنَا مِنْهُ مِثْلُ الَّذِي أَنْزَلْتَ بِنَا لَرَجَوْنَا عَطْفَهُ وَعَائِدَتَهُ عَلَيْنَا ، وَأَنْتَ خَيْرُ الْمَكْفُولِينَ . ¤ ثُمَّ أَنْشَدَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شِعْرًا قَالَهُ ، وَذَكَرَ فِيهِ قَرَابَتَهُ ، وَمَا كَفَلُوا مِنْهُ فَقَالَ : ¤ امْنُنْ عَلَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ فِي كَرَمٍ فَإِنَّكَ الْمَرْءُ نَرْجُوهُ وَنَنْتَظِرُ امْنُنْ عَلَى بَيْضَةٍ قَدْ عَاقَهَا قَدَرٌ ¤ مُفَرَّقٌ شَمْلُهَا فِي دَهْرِهَا غِيَرُ أَبْقَتْ لَنَا الدَّهْرَ هُتَّافًا عَلَى حَزَنٍ ¤ عَلَى قُلُوبِهِمُ الْغَمَّاءُ وَالْغِمْرُ إِنْ لَمْ تُدَارِكْهُمُ رَحْمَاءُ تَنْشُرُهَا ¤ يَا أَرْجَحَ النَّاسِ حِلْمًا حِينَ يُخْتَبَرُ امْنُنْ عَلَى نِسْوَةٍ قَدْ كُنْتَ تَرْضَعُهَا ¤ إِذْ فُوكَ تَمْنَؤُهُ مِنْ مَخْضِهَا دُرَرُ إِذْ كُنْتَ طِفْلًا صَغِيرًا كُنْتَ تَرْضَعُهَا ¤ وَإِذْ يُزَيِّنُكَ مَا تَأْتِي وَمَا تَذَرُ لَا تَجْعَلَنَّا كَمَنْ شَالَتْ نَعَامَتُهُ وَاسْتَبْقِ مِنَّا فَإِنَّا مَعْشَرٌ زُهْرُ ¤ . ¤ قَالَ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَلَكِنَّهُ ثِقَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہوازن قبیلے کا وفد جب جعرانہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہ لوگ اسلام قبول کر چکے تھے انہوں نے عرض کی : ہم اصل ہیں ، اور خاندان کے لوگ ہیں ہمیں جو آزمائش لاحق ہوئی ہے وہ آپ سے مخفی نہیں ہے آپ ہم پر احسان کیجئے اللہ تعالیٰ آپ پر مہربانی کرے ہوازن قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب جن کا تعلق بنو سعد بن بکر سے تھا جن کا نام زہیر تھا ، اور ان کی کنیت ابوصرد تھی انہوں نے یہ بات بیان کی یا رسول اللہ ہماری عورتیں آپ کی پھوپھیاں ہیں آپ کی خالائیں ہیں آپ کی دائی مائیں ہیں ، جنہوں نے آپ کی کفالت کی تھی اگر ہم حارث بن ابوشمر یا نعمان بن منذر سے جا کے ملے ہوتے اور پھر اس کی طرف سے ہمیں اس طرح کی صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا جس طرح کی صورت حال کا ہمیں سامنا کرنا پڑ رہا ہے ، تو ہمیں اس کی اپنے اوپر مہربانی اور عنایت کی امید ہونی تھی اور آپ تو کفالت کرنے والوں میں سب سے بہتر ہیں پھر انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اشعار سنائے جو انہوں نے کہے تھے اور اس میں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنی قرابت کا ذکر کیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جو انہوں نے کفالت کی تھی اس کا ذکر کیا اور یہ اشعار سنائے : ” اے اللہ کے رسول ! کرم کے ہمراہ ہم پر احسان کیجیے ! کیونکہ آپ ایک ایسے فرد ہیں ، جن سے ہم امید رکھتے ہیں اور ہم ( آپ کے کرم کے ) منتظر ہیں ، آپ اس جماعت پر احسان کیجیے جس کو تقدیر نے عاق کر دیا ہے ، اور اس کی اجتماعیت کو منتشر کر کے زمانے نے ان کے احوال تبدیل کر دیے ہیں ، زمانے نے ہمیں یوں باقی رکھا ہے کہ ہم غم کی چیخ و پکار کرتے ہیں ان کے دلوں پر شدید غم اور پریشانی ہے ، اگر آپ نے رحمت کو پھیلا کر ، ان کی مدد نہ کی ، اے وہ فرد کہ جب تحقیق کی جائے تو برد باری کے حوالے سے آپ لوگوں میں سب سے زیادہ راجح ہوں گے ، آپ ان خواتین پر مہربانی کیجئے جن کا آپ نے دودھ پیا ہے ، کیونکہ آپ کے منہ میں ، ان کے دودھ کے برتن کے ذریعے خالص دودھ آیا ، جب آپ چھوٹے بچے تھے تو آپ ان کا دودھ پیتے تھے ، جب آپ کو وہ چیز اچھی لگتی تھی جو وہ لے کر آتی تھی اور جو وہ چھوڑ جاتی تھی ، آپ ہمیں اس کی طرح نہ بنا دیں ، جس کی اجتماعیت منتشر ہو گئی اور ہمیں باقی رہنے دیں کیونکہ ہم روشن گروہ ہیں “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ مدلس ہے لیکن وہ ثقہ ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10293
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن