مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي غَنَائِمِ هَوَازِنَ وَسَبْيِهِمْ باب: ہوازن کے مال غنیمت اور ان کے قیدیوں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عَطِيَّةَ أَنَّهُ كَانَ مِمَّنْ كَلَّمَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ سَبْيِ هَوَازِنَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عَشِيرَتُكَ وَأَصْلُكَ ، وَكُلُّ الْمُرْضِعِينَ دُونَكَ ، وَلِهَذَا الْيَوْمِ اخْتَبَأْنَاكَ ، وَهُنَّ أُمَّهَاتُكَ وَأَخَوَاتُكَ وَخَالَاتُكَ . ¤ فَكَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَصْحَابَهُ فَرَدُّوا عَلَيْهِمْ سَبْيَهُمْ إِلَّا رَجُلَيْنِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اذْهَبُوا فَخَيِّرُوهُمَا " ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا : إِنِّي أَتْرُكُهُ . وَقَالَ الْآخَرُ : لَا أَتْرُكُهُ . ¤ فَلَمَّا أَدْبَرَ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ أَخِسَّ سَهْمَهُ " . فَكَانَ يَمُرُّ بِالْجَارِيَةِ الْبِكْرِ وَالْغُلَامِ فَيَدَعُهُ حَتَّى مَرَّ بِعَجُوزٍ قَالَ : فَإِنِّي آخُذُ هَذِهِ فَإِنَّهَا أُمُّ حَيٍّ ، وَيَسْتَفْدُونَهَا مِنِّي بِمَا قَدَرُوا عَلَيْهِ ، فَكَبَّرَ عَطِيَّةُ وَقَالَ : خُذْهَا . ¤ ثُمَّ قَالَ لِلرَّسُولِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا فُوهَا بِبَارِدٍ ، وَلَا ثَدْيُهَا بِنَاهِدٍ ، وَلَا وَافِدُهَا بِوَاجِدٍ ، عَجُوزٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بَقْرَاءُ سَبِيَّةٌ مَا لَهَا أَحَدٌ ، فَلَمَّا رَآهَا لَا يَعْرِضُ لَهَا أَحَدٌ تَرَكَهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِي إِسْنَادِهِ الزُّبَيْرُ وَالِدُ النُّعْمَانِ بْنِ الزُّبَيْرِ الصَّنْعَانِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عطیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ہوازن کے قیدیوں کے بارے میں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات چیت کی گئی ، تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ آپ کے خاندان کے لوگ اور آپ کے اصل ہیں ، اور دودھ پلانے کے حوالے سے آپ کے رشتے دار ہیں آج کے دن کے لئے ہی ہم نے آپ کو سنبھال کے رکھا ہوا تھا یہ خواتین آپ کی مائیں ہیں آپ کی بہنیں ہیں آپ کی خالائیں ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے ساتھ اس بارے میں بات چیت کی اور ان لوگوں کے قیدی انہیں واپس کر دیے صرف دو افراد کا معاملہ مختلف تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ جاؤ اور ان دونوں کو اختیار دو تو ان دونوں میں سے ایک نے کہا: میں اپنا حصہ چھوڑتا ہوں ، اور دوسرے نے کہا: میں اسے نہیں چھوڑوں گا جب وہ شخص چلا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ تو اس کے حصے کو خراب کر دے ، تو وہ شخص ایک کنواری کنیز اور لڑکے کے پاس سے گزرا اس نے اسے چھوڑ دیا پھر وہ ایک بوڑھی عورت کے پاس سے گزرا ، تو اس نے یہ سوچا کہ مجھے اس کو لے لینا چاہیے کیونکہ یہ قبیلے کی ماں ہے وہ لوگ بھرپور کوشش کر کے مجھ سے اس کو چھڑوائیں گے ، تو سیدنا عطیہ رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی اور کہا: اسے لے لو پھر انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ نہ تو اس عورت کا منہ ٹھنڈا ہے ، اور نہ ہی اس کی چھاتی ابھری ہے ، اور نہ ہی اس کا کوئی سگا ہے ، یا رسول اللہ یہ ایک بوڑھی عورت ہے ، اس کا کوئی نہیں ہے ، جب اس شخص نے یہ صورت حال دیکھی کہ کوئی اس عورت کی طرف توجہ نہیں دے رہا تو اس نے اس عورت کو چھوڑ دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زبیر ہے ، جو نعمان بن زبیر صنعانی کا والد ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔