حدیث نمبر: 10294
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ يَوْمَ حُنَيْنٍ ] وَجَاءَتْهُ وُفُودُ هَوَازِنَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا أَهْلٌ وَعَشِيرَةٌ فَمُنَّ عَلَيْنَا مَنَّ اللَّهُ عَلَيْكَ ; فَإِنَّهُ [ قَدْ ] نَزَلَ بِنَا مِنَ الْبَلَاءِ مَا لَمْ يَخْفَ عَلَيْكَ ، فَقَالَ : " اخْتَارُوا بَيْنَ نِسَائِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ وَأَنْسَابِكُمْ " . قَالُوا : خَيَّرْتَنَا بَيْنَ أَحْسَابِنَا وَأَمْوَالِنَا ، نَخْتَارُ أَبْنَاءَنَا ، فَقَالَ : " مَا كَانَ لِي وَلِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَهُوَ لَكُمْ ، فَإِذَا صَلَّيْتُ الظُّهْرَ فَقُولُوا : إِنَّا [ نَسْتَشْفِعُ ] بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْمُسْلِمِينَ وَبِالْمُسْلِمِينَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي نِسَائِنَا وَأَبْنَائِنَا " . ¤ قَالَ : فَفَعَلُوا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَمَّا مَا كَانَ لِي وَلِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَهُوَ لَكُمْ " ، وَقَالَ الْمُهَاجِرُونَ : مَا كَانَ لَنَا فَهُوَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَتِ الْأَنْصَارُ مِثْلَ ذَلِكَ ، وَقَالَ عُيَيْنَةُ بْنُ بَدْرٍ : أَمَّا مَا كَانَ لِي وَلِبَنِي فَزَارَةَ فَلَا ، وَقَالَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ : أَمَّا أَنَا وَبَنُو تَمِيمٍ فَلَا ، وَقَالَ عَبَّاسُ بْنُ مِرْدَاسٍ : أَمَّا أَنَا وَبَنُو سُلَيْمٍ فَلَا ، فَقَالَ الْحَيَّانِ : كَذَبْتَ ! ! بَلْ هُوَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ [ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ] : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، رُدُّوا عَلَيْهِمْ نِسَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ فَمَنْ تَمَسَّكَ بِشَيْءٍ مِنْ هَذَا الْفَيْءِ فَلَهُ عَلَيْنَا سِتَّةُ فَرَائِضَ مِنْ أَوَّلِ مَا يَفِيءُ اللَّهُ عَلَيْنَا " . ¤ ثُمَّ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ وَتَعَلَّقَ بِهِ النَّاسُ يَقُولُونَ : اقْسِمْ عَلَيْنَا فَيْئَنَا بَيْنَنَا حَتَّى أَلْجَئُوهُ إِلَى سَمُرَةٍ فَخَطَفَتْ رِدَاءَهُ ، فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، رُدُّوا عَلَيَّ رِدَائِي ، فَوَاللَّهِ لَوْ كَانَ بِعَدَدِ شَجَرِ تِهَامَةَ نَعَمً لَقَسَمْتُهُ بَيْنَكُمْ ، ثُمَّ لَا تَلْقُونِي بَخِيلًا وَلَا جَبَانًا وَلَا كَذُوبًا " . ¤ ثُمَّ دَنَا مِنْ بَعِيرٍ فَأَخَذَ وَبَرَةً مِنْ سَنَامِهِ فَجَعَلَهَا بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى ثُمَّ رَفَعَهَا ، فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، لَيْسَ لِي مِنْ هَذَا الْفَيْءِ وَلَا هَذِهِ ، إِلَّا الْخُمُسُ ، وَالْخَمُسُ مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ ، فَرُدُّوا الْخِيَاطَ وَالْمَخِيطَ ، فَإِنَّ الْغُلُولَ يَكُونُ عَلَى أَهْلِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَارًا وَنَارًا وَشَنَارًا " . ¤ فَقَامَ رَجُلٌ مَعَهُ كُبَّةٌ مِنْ شَعْرٍ ، فَقَالَ : إِنِّي أَخَذْتُ هَذِهِ أُصْلِحُ بِهَا بَرْدَعَةَ بَعِيرٍ لِي دَبِرَ . فَقَالَ : " أَمَّا مَا كَانَ لِي وَلِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَهُوَ لَكَ " . فَقَالَ الرَّجُلُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَمَّا إِذَا بَلَغَتْ مَا أَرَى فَلَا أَرَبَ لِي بِهَا . وَنَبَذَهَا . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُ أَحَدِ إِسْنَادَيْهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ حنین کے موقع پر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا ہوازن کے وفود آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم اصل ہیں اور خاندان کے لوگ ہیں آپ ہم پر احسان کیجئے اللہ تعالیٰ آپ پر احسان کرے گا کیونکہ ہمیں جس آزمائش کا سامنا کرنا پڑا ہے وہ آپ سے مخفی نہیں ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنی بیویوں اموال اور بچوں میں سے کسی کو اختیار کر لو انہوں نے عرض کی : آپ نے ہمارے حسب اور ہمارے اموال کے درمیان ہمیں اختیار دیا ہے تو ہم اپنے بیٹوں کو اختیار کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو میرے حصے میں اور بنو عبدالمطلب کے حصے میں آتا ہے وہ تمہارا ہوا جب میں ظہر کی نماز ادا کر لوں گا ، تو تم یہ کہنا کہ ہم اللہ کے رسول کی سفارش مسلمانوں کے سامنے پیش کرتے ہیں ، اور مسلمانوں کی سفارش اللہ کے رسول کے سامنے پیش کرتے ہیں جو ہماری خواتین اور ہمارے بچوں کے بارے میں ہے ۔ انہوں نے ایسا ہی کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا : جو کچھ میرے حصے میں اور بنو عبدالمطلب کے حصے میں آتا ہے وہ تمہارا ہوا مہاجرین نے کہا: جو ہمارے حصے میں آتا ہے وہ اللہ کے رسول کا ہوا انصار نے بھی اس کی مانند بات کہی عیینہ بن بدر نے کہا: جہاں تک اس چیز کا تعلق ہے ، جو میرے اور بنوفزارہ کے حصے میں آتی ہے ، تو وہ ہم نہیں دیتے اقرع بن حابس نے کہا: جو چیز میرے اور بنو تمیم کے حصے میں آتی ہے وہ بھی ہم نہیں چھوڑتے عباس بن مرداس نے کہا: جو چیز میرے اور بنوسلیم کے حصے میں آتی ہے وہ ہم نہیں چھوڑتے حیان نے کہا: تم غلط کہہ رہے ہو بلکہ وہ بھی اللہ کے رسول کی ہو گی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے لوگو تم ان کی عورتیں اور ان کے بیٹے انہیں واپس کر دو تم میں سے جو شخص اس مال غنیمت میں سے کوئی چیز رکھنا چاہتا ہو ، تو اللہ تعالیٰ ہمیں جو پہلا مال فئے عطا کرے گا اس میں سے ہم چھ حصے اسے دے دیں گے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہوئے ، اور لوگوں کے ساتھ ملے لوگوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ آپ ہمارے درمیان تقسیم کریں جو ہمارا مال فئے ہے ، یہاں تک کہ لوگوں نے آپ کو درخت کی طرف جانے پر مجبور کر دیا آپ کی چادر کھینچ لی گئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے لوگو میری چادر مجھے واپس کرو اللہ کی قسم اگر تمہارے لئے تہامہ کے درختوں کی تعداد جتنی نعمتیں ہوں تو میں وہ تمہارے درمیان تقسیم کر دوں گا اور پھر تم مجھ سے ایسی حالت میں نہیں ملو گے کہ مجھے کنجوس یا بزدل یا جھوٹا پاؤ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک اونٹ کے قریب ہوئے آپ نے اس کی کوہان میں سے ایک بال لیا اور اسے اپنی دو انگلیوں کے درمیان شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کے درمیان رکھا پھر اسے بلند کیا اور فرمایا : اے لوگو اس مال فئے میں سے اور اس میں سے میرے لئے اتنی چیز لینے کی بھی اجازت نہیں ہے البتہ خمس کا حکم مختلف ہے ، اور خمس بھی تم لوگوں کی طرف لوٹا دیا جائے گا ، تو تم دھاگہ اور سوئی تک ادا کر دو کیونکہ خیانت قیامت کے دن اپنے کرنے والے کے لئے شرمندگی آگ اور رسوائی کا باعث ہو گی تو ایک شخص کھڑا ہوا جس کے پاس بالوں کا ایک گچھا تھا اس نے کہا: یا رسول اللہ ! یہ میں نے اس لئے لیا تھا تاکہ اپنے اونٹ کو نکلنے والے پھوڑے کی خاطر اسے پالان کے نیچے رکھ دوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو کچھ میرا اور بنو عبدالمطلب کے حصے کا ہے وہ تمہارا ہوا اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اب میں نے جو چیز دیکھی ہے جب یہ صورت حال ہو چکی ہے ، تو پھر مجھے اس میں کوئی دلچسپی نہیں ہے پھر اس نے اسے رکھ دیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت امام ابوداؤد نے بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور ان کی مختلف اسانید میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10294
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (6729)»