حدیث نمبر: 10298
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِوَفْدِ هَوَازِنَ بِحُنَيْنٍ ، وَسَأَلَهُمْ عَنْ مَالِكِ بْنِ عَوْفٍ النَّصْرِيِّ : " مَاذَا فَعَلَ مَالِكٌ ؟ " . قَالَ : هُوَ بِالطَّائِفِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَخْبِرُوا مَالِكًا أَنَّهُ إِنْ يَأْتِنِي مُسْلِمًا رَدَدْتُ إِلَيْهِ أَهْلَهُ وَمَالَهُ ، وَأَعْطَيْتُهُ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ " . فَأُتِيَ مَالِكٌ بِذَلِكَ ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ مِنَ الطَّائِفِ ، وَكَانَ مَالِكٌ خَافَ ثَقِيفًا عَلَى نَفْسِهِ أَنْ يَعْلَمُوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ قَالَ لَهُ مَا قَالَ ، فَيَحْبِسُوهُ ، فَأَمَرَ بِرَاحِلَةٍ لَهُ فَهُيِّئَتْ ، وَأَمَرَ بِفَرَسٍ لَهُ فَأُتِيَ بِهِ مِنَ الطَّائِفِ ، فَخَرَجَ لَيْلًا فَجَلَسَ عَلَى فَرَسِهِ فَلَحِقَ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَدْرَكَهُ بِالْجِعْرَانَةِ أَوْ مَكَّةَ ، فَرَدَّ عَلَيْهِ أَهْلَهُ وَمَالَهُ ، وَأَعْطَاهُ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین میں ہوازن قبیلے کے وفد سے فرمایا جب کہ ان لوگوں سے آپ نے مالک بن عوف نصری کے بارے میں دریافت کیا تھا کہ مالک کا کیا حال ہے ، تو انہوں نے بتایا : وہ طائف میں ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ مالک کو یہ بتا دو کہ اگر وہ مسلمان ہو کر میرے پاس آ گیا تو میں اس کے اہلخانہ اور اس کا مال اسے واپس کر دوں گا اور اسے ایک سو اونٹ بھی دوں گا ، اس بات کی اطلاع مالک کو دی گئی ، تو وہ طائف سے نکل کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے مالک کو اپنی ذات کے حوالے سے ثقیف قبیلے کے لوگوں سے اندیشہ تھا کہ وہ یہ بات جان چکے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں یہ بات کہی ہے ، تو کہیں وہ ان کو قید نہ کر لیں مالک نے اپنی سواری کے بارے میں حکم دیا وہ تیار کی گئی ۔ انہوں نے اپنے گھوڑے کے بارے میں حکم دیا وہ طائف سے ان کے پاس لایا گیا اور وہ رات کے وقت نکل آئے وہ اپنے گھوڑے پر بیٹھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آ ملے وہ جعرانہ یا شاید مکہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اہلخانہ اور ان کا مال انہیں واپس کر دیا ، اور انہیں ایک سو اونٹ بھی عطا کیے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10298
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (302/19)»