کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ( مال غنیمت میں ) خیانت کرنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَأْخُذُ الْوَبَرَةَ [ مِنْ قِصَّةِ ] مِنْ فَيْءِ اللَّهِ فَيَقُولُ : " مَا لِي مِنْ هَذَا إِلَّا مِثْلُ مَا لِأَحَدِكُمْ ، إِلَّا الْخُمُسَ ، وَهُوَ مَرْدُودٌ فِيكُمْ فَأَدُّوا الْخَيْطَ وَالْمِخْيَطَ فَمَا فَوْقَهَا وَإِيَّاكُمْ وَالْغُلُولَ ، فَإِنَّهُ عَارٌ وَنَارٌ وَشَنَارٌ عَلَى صَاحِبِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ الْعِرْبَاضِ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ وَثَّقَهَا وَلَا جَرَّحَهَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مال فئے میں سے ایک گچھے میں سے ایک بال لیا اور فرمایا : اس میں سے مجھے بھی صرف اتنا ہی ملے گا جتنا تم میں سے کسی ایک کو ملے گا البتہ خمس کا معاملہ مختلف ہے اور وہ بھی تم لوگوں کے درمیان واپس آ جائے گا ، تو تم سوئی اور دھاگہ بھی ادا کرو ، اور اس سے نیچے کی بھی چیز ادا کرو ، اور تم خیانت کرنے سے بچو ! کیونکہ یہ ( یعنی خیانت ) قیامت کے دن اپنے متعلقہ فرد کے لئے شرمندگی ، آگ اور رسوائی کا باعث ہو گی ۔
یہ روایت امام أحمد امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خاتون ام حبیبہ بنت عرباض ہے میں نے کسی کو ان کی توثیق کرتے ہوئے یا ان پر جرح کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خاتون ام حبیبہ بنت عرباض ہے میں نے کسی کو ان کی توثیق کرتے ہوئے یا ان پر جرح کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتُشْهِدَ مَوْلَاكَ فُلَانٌ قَالَ : " كَلَّا إِنِّي رَأَيْتُ عَلَيْهِ عَبَاءَةً غَلَّهَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ أَبُو الْمُخَيِّسِ، وَهُوَ مَجْهُولٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ۔ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کا فلاں غلام جام شہادت نوش کر گیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے اس پر وہ عباء دیکھی ہے ، جو اس نے فلاں فلاں موقع پر خیانت کے طور پر حاصل کی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابومحنیس ہے اور وہ مجہول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابومحنیس ہے اور وہ مجہول ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ بِوَادِي الْقُرَى وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ وَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ : اسْتُشْهِدَ مَوْلَاكَ - أَوْ قَالَ : غُلَامُكَ فُلَانٌ - قَالَ : " بَلْ يُجَرُّ إِلَى النَّارِ فِي عَبَاءَةٍ غَلَّهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن شقیق بیان کرتے ہیں : انہیں ان صاحب نے یہ بات بتائی ہے جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ اس وقت وادی قری میں موجود تھے آپ ایک گھوڑے پر سوار تھے ایک شخص آپ کی خدمت میں آیا اور اس نے عرض کی : آپ کا غلام جام شہادت نوش کر گیا ہے ( یہاں لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلکہ اسے اس عباء کی وجہ سے گھسیٹ کر جہنم کی طرف لے جایا جا رہا ہے ، جو اس نے خیانت کے طور پر حاصل کی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ يَكْرِبَ الْكِنْدِيِّ : أَنَّهُ جَلَسَ مَعَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، رَحِمَهُ اللَّهُ ، وَأَبِي الدَّرْدَاءِ أَوِ الْحَارِثِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْكِنْدِيِّ فَتَذَاكَرُوا حَدِيثَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ رَحِمَهُ اللَّهُ لِعُبَادَةَ : يَا عُبَادَةُ كَلِمَاتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزْوَةٍ فِي شَأْنِ الْأَخْمَاسِ فَقَالَ عُبَادَةُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى بِهِمْ فِي غَزْوَةٍ إِلَى بَعِيرٍ مِنَ الْمَقْسِمِ ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَنَاوَلَ وَبَرَةً بَيْنَ أُنْمُلَتَيْهِ فَقَالَ : " إِنَّ هَذِهِ مِنْ غَنَائِمِكُمْ وَإِنَّهُ لَيْسَ لِي فِيهَا إِلَّا نَصِيبِي مَعَكُمْ إِلَّا الْخُمُسَ ، وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ فَأَدُّوا الْخَيْطَ وَالْمِخْيَطَ ، وَأَكْبَرَ مِنْ ذَلِكَ وَأَصْغَرَ وَلَا تَغُلُّوا فَإِنَّ الْغُلُولَ نَارٌ وَعَارٌ عَلَى أَصْحَابِهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مقدام بن معدیکرب کندی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے وہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ یا شاید سیدنا حارث بن معاویہ کندی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے یہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے بارے میں مذاکرہ کر رہے تھے ۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا اے عبادہ ! اللہ کے رسول کے وہ کلمات جو آپ نے جنگ میں خمس کی حیثیت کے بارے میں ارشاد فرمائے تھے ( وہ کیا ہیں ؟ ) سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنگ کے دوران ان لوگوں کو نماز پڑھائی آپ نے مال غنیمت کے ایک اونٹ کی طرف رخ کر کے وہ نماز پڑھائی جب آپ نے سلام پھیرا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے آپ آگے بڑھے آپ نے ایک بال دو پوروں کے درمیان پکڑا اور ارشاد فرمایا : یہ بھی تمہارے مال غنیمت میں سے ہے ، اور اس کے بارے میں میرا حصہ بھی تم لوگوں کے ساتھ ایک حصہ ہو گا البتہ خمس کا معاملہ مختلف ہے اور خمس بھی تم لوگوں کی طرف لوٹا دیا جائے گا ، تو تم سوئی اور دھاگہ اس سے بڑی اور چھوٹی ( ہر چیز ) ادا کرو اور خیانت نہ کرو ، کیونکہ خیانت اپنے متعلقہ افراد کے لئے دنیا اور آخرت میں آگ اور شرمندی کا باعث ہو گی “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّهُ أَخْبَرَ مُعَاوِيَةَ حِينَ سَأَلَهُ عَنِ الرَّجُلِ الَّذِي سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِقَالًا قَبْلَ أَنْ يَقْسِمَ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اتْرُكْهُ حَتَّى يُقْسَمَ - أَوْ نَقْسِمَ - ثُمَّ إِنْ شِئْتَ أَعْطَيْنَاكَ عِقَالًا وَإِنْ شِئْتَ أَعْطَيْنَاكَ مِرَارًا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے اس شخص کے بارے میں دریافت کیا : جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک رسی مال غنیمت کی تقسیم سے پہلے مانگی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم اسے چھوڑ دو ! جب تک یہ تقسیم نہیں ہو جاتا ( یا ہم اسے تقسیم نہیں کر دیتے ) پھر اگر تم چاہو گے تو ہم تمہیں رسی دیدیں گے اور اگر تم چاہو گے تو ہم تمہیں بار ، بار ( یعنی ایک سے زیادہ بار ) دیدیں گے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَانْتَهَيْتُ إِلَى بَقِيعِ الْغَرْقَدِ فَالْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ : " هَلْ تَسْمَعُ الَّذِي أَسْمَعُ ؟ " فَقُلْتُ : بِأَبِي وَأُمِّي لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " هَذَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ فِي شَمْلَةٍ اغْتَلَّهَا يَوْمَ خَيْبَرَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ غَسَّانُ بْنُ عُبَيْدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا ، میں ” بقیع غرقد “ تک پہنچا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم وہ چیز سن رہے ہو ؟ جو میں سن رہا ہوں میں نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یا رسول اللہ ! جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ فلاں بن فلان شخص ہے جسے اس کی قبر میں ایک شملہ ( چادر ) کی وجہ سے عذاب ہو رہا ہے ، جو اس نے غزوہ خیبر کے موقع پر خیانت کے طور پر حاصل کیا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عنسان بن عبید ہے اور وہ ضعیف ہے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عنسان بن عبید ہے اور وہ ضعیف ہے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنْ [ لَمْ ] تَغُلَّ أُمَّتِي لَمْ يَقُمْ لَهُمْ عَدُوٌّ أَبَدًا " . قَالَ أَبُو ذَرٍّ لِحَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ : هَلْ بَيَّتَ لَكُمُ الْعَدُوُّ حَلْبَ شَاةٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ وَثَلَاثَ شِيَاهٍ غُزُرٍ ، قَالَ أَبُو ذَرٍّ : غَلَلْتُمْ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ وَقَدْ صَرَّحَ بَقِيَّةُ بِالتَّحْدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
حبیب بن مسلمہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے ۔ وہ کہتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اگر میری امت خیانت نہ کرے تو کبھی ان کا دشمن ان کے سامنے کھڑا نہ ہو پائے گا“ ۔ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے حبیب بن مسلمہ سے کہا: کیا دشمن تمہارے لئے اتنی دیر ٹھہرا ہے جتنی دیر میں بکری کا دودھ دوہا جاتا ہے ۔ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! بلکہ تین بکریوں کا دودھ دوہنے جتنے عرصے تک ٹھہرا ہے ، تو سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : رب کعبہ کی قسم تم لوگوں نے خیانت کی ہو گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں بقیہ نے تحدیث کی صراحت کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں بقیہ نے تحدیث کی صراحت کی ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَقْبَلَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْجِعْرَانَةِ اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَيْهِ وَتَعَلَّقَ رِدَاؤُهُ بِالشَّجَرَةِ فَقَالَ : " رُدُّوا عَلَيَّ رِدَائِي ، أَتَخَافُونَ أَنْ لَا أَقْسِمَ بَيْنَكُمْ لَوْ كَانَ مِثْلُ شَجَرِ تِهَامَةَ نَعَمًا لَقَسَمْتُهُ بَيْنَكُمْ ، ثُمَّ لَا تَجِدُونِي جَبَانًا وَلَا بَخِيلًا وَلَا كَذُوبًا" . ¤ ثُمَّ قَالَ : " رُدُّوا الْخِيَاطَ وَالْمِخْيَطَ فَإِنَّ الْغُلُولَ عَارٌ وَنَارٌ وَشَنَارٌ عَلَى أَهْلِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ وَقَالَ : " مَا لِي مِنَ الْفَيْءِ مِثْلُ هَذِهِ الْوَبَرَةِ " . - وَأَخَذَهَا مِنْ كَاهِلِ الْبَعِيرِ - " إِلَّا الْخُمُسُ وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ مَخْلَدٍ وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے جا رہے تھے آپ جعرانہ کے مقام پر پہنچے تو لوگ آپ کے اردگرد اکٹھے ہو گئے آپ کی چادر درخت کے ساتھ لٹک گئی آپ نے فرمایا : میری چادر مجھے واپس کرو کیا تمہیں اس بات کا اندیشہ ہے کہ میں تمہارے درمیان تقسیم نہیں کروں گا ؟ اگر تہامہ کے درختوں جتنی نعمتیں بھی ہوں ، تو میں وہ بھی تمہارے درمیان تقسیم کر دوں گا ، اور پھر تم مجھے بزدل یا کنجوس یا جھوٹا نہیں پاؤ گے “ ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر سوئی اور دھاگہ بھی ادا کر دو کیونکہ قیامت کے دن خیانت اپنے متعلقہ فرد کے لئے شرمندگی آگ اور رسوائی کا باعث ہو گی “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا : ” مال غنیمت میں سے مجھے اس بال جتنی چیز بھی ( اضافی ) نہیں ملے گی “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کے کندھے سے ایک بال لے کر یہ بات ارشاد فرمائی تھی : ” البتہ خمس کا حکم مختلف ہے اور خمس بھی تم لوگوں کی طرف لوٹا دیا جائے گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عثمان بن مخلد ہے وہ ثقہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عثمان بن مخلد ہے وہ ثقہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
وَعَنْ أَبِي حَازِمٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : أُتِيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِنَطْعٍ مِنَ الْغَنِيمَةِ فَقِيلَ : اسْتَظِلَّ بِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ : " أَتُحِبُّونَ أَنْ يُسْتَظَلَّ بَيْنَكُمْ بِظِلٍّ مِنْ نَارٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ صَالِحِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ ضَعَّفَهُ الْأَزْدِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوحازم انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مالِ غنیمت میں ایک دسترخوان ( یا چمڑا ) لایا گیا عرض کی گئی یا رسول اللہ ! اس کے ذریعے سایہ کر لیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ قیامت کے دن تمہارے درمیان آگ کے ذریعے سایہ کیا جائے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن صالح بن ابواسود ہے جسے ازدی نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن صالح بن ابواسود ہے جسے ازدی نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يَغُلُّ مُؤْمِنٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ رُوحُ بْنُ صَلَاحٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَالْحَاكِمُ وَضَعَّفَهُ ابْنُ عَدِيٍّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مومن ( مال غنیمت میں ) خیانت نہیں کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی روح بن صلاح ہے جسے ابن حبان اور امام حاکم رحمہ اللہ نے ثقہ قرار دیا ہے ابن عدی نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی روح بن صلاح ہے جسے ابن حبان اور امام حاکم رحمہ اللہ نے ثقہ قرار دیا ہے ابن عدی نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا سُلُولَ وَلَا غُلُولَ ، وَمَنْ يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ حَسَّنَ التِّرْمِذِيُّ حَدِيثَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” پوشیدہ چوری ، اور ( مال غنیمت میں ) خیانت نہیں ہو گی ، جو شخص خیانت کرے گا ، تو اس نے جو خیانت کی ہو گی ، اس چیز کو وہ قیامت کے دن لے کر آئے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن عبداللہ مزنی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ امام ترمذی نے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن عبداللہ مزنی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ امام ترمذی نے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ خَارِجَةَ بْنِ عُمَرَ - وَكَانَ حَلِيفًا لِأَبِي سُفْيَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَا يَحِلُّ لِي وَلَا لِأَحَدٍ مِنْ مَغَانِمِ الْمُسْلِمِينَ مَا يَزِنُ هَذِهِ الْوَبَرَةَ - وَأَخَذَ وَبَرَةً مِنْ غَارِبِ نَاقَتِهِ - بَعْدَ الَّذِي فَرَضَ اللَّهُ لِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا خارجہ بن عمر رضی اللہ عنہ جو زمانہ جاہلیت میں سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے حلیف تھے ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! مسلمانوں کے مال غنیمت میں سے میرے لئے اور کسی کے لئے بھی اتنی چیز بھی حلال نہیں ہے ، جو اس بال کے وزن جتنی ہو “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی کی پشت سے ایک بال لے کر یہ بات ارشاد فرمائی تھی : ” جو اُس کے بعد ( یعنی اُس کے علاوہ ) ہو ، جو اللہ تعالیٰ نے میرا حصہ مقرر کیا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنِ الْمُسْتَوْرِدِ الْفِهْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " رُدُّوا الْخِيَاطَ وَالْمِخْيَاطَ . مَنْ غَلَّ مِخْيَطًا أَوْ خِيَاطًا كُلِّفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنْ يَجِيءَ بِهِ وَلَيْسَ بِجَاءٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَكِيمٍ الدَّاهِرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ قَوَّاهُ بَعْضُ النَّاسِ فَلَمْ يُلْتَفَتْ إِلَيْهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مستورد فہری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سوئی اور دھاگہ بھی ادا کر دو جو شخص سوئی یا دھاگہ کی خیانت کرے گا ، تو قیامت کے دن اس کو اس بات کا پابند کیا جائے گا کہ وہ اسے لے کر آئے اور وہ نہیں لا پائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر عبداللہ بن حکیم داہری ہے اور وہ ضعیف ہے بعض لوگوں نے اسے قوی قرار دیا ہے ، لیکن اس کی طرف توجہ نہیں کی جائے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر عبداللہ بن حکیم داہری ہے اور وہ ضعیف ہے بعض لوگوں نے اسے قوی قرار دیا ہے ، لیکن اس کی طرف توجہ نہیں کی جائے گی ۔
وَعَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَى الْقَبَائِلَ يَدْعُو لَهُمْ، وَتَرَكَ قَبِيلَةً لَمْ يَأْتِهِمْ فَأَنْكَرُوا ذَلِكَ فَفَتَّشُوا مَتَاعَ صَاحِبٍ لَهُمْ فَوَجَدُوا قِلَادَةً فِي بَرْدَعَةِ رَجُلٍ مِنْهُمْ غَلَّهَا ، فَرَدُّوهَا فَأَتَاهُمْ فَصَلَّى عَلَيْهِمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبائل کے پاس تشریف لے جا کر انہیں دعوت دیا کرتے تھے ۔ آپ نے ایک قبیلہ کو ترک کر دیا آپ ان کے پاس تشریف نہیں لائے وہ اس بات سے پریشان ہو گئے انہوں نے اپنے ایک ساتھی کے سامان کی تلاشی لی تو انہیں ، ان میں سے ایک شخص کے سامان میں ایک ہار مل گیا ، جسے اُس شخص نے خیانت کے طور پر لیا تھا ان لوگوں نے وہ اسے واپس کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے پاس تشریف لائے اور آپ نے ان لوگوں کے لئے دعائے رحمت کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عبداللہ بن مغیرہ بن ابوبردہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عبداللہ بن مغیرہ بن ابوبردہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
وَعَنْ رَبِيعَةَ الْجُرَشِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ كَتَمَ غَلُولًا فَهُوَ مِثْلُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ وَابْنُ لَهِيعَةَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ربیعہ جرشی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص خیانت کی ہوئی چیز چھپائے گا وہ اس کی مانند ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک ایسا شخص ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا اور ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک ایسا شخص ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا اور ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔