کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: مال غنیمت کی تقسیم
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : رَأَيْتُ الْغَنِيمَةَ تُجَزَّأُ خَمْسَةَ أَجْزَاءٍ ، ثُمَّ يُسْهَمُ عَلَيْهَا فَمَا كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَهُوَ لَهُ يَتَخَيَّرُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے غنیمت کو دیکھا کہ اسے پانچ اجزا میں تقسیم کیا جاتا اور اس کے حصے کیے جاتے ، جو حصہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مخصوص ہو وہ آپ کو ملتا ، اور آپ اسے اختیار کر سکتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس میں ضعف پایا جاتا ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9749
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (5397)»
وَعَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ : سُئِلَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : كَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْخُمُسِ ؟ قَالَ : كَانَ يَحْمِلُ الرَّجُلَ مِنْهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ الرَّجُلَ ثُمَّ الرَّجُلَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوزبیر بیان کرتے ہیں : سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خمس کو کیسے استعمال کرتے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا : آپ اس میں سے اللہ کی راہ میں کسی شخص کو سواری لے کر دیتے تھے پھر کسی اور کو لے کر دیتے تھے پھر کسی اور کو لے کر دیتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ مدلس ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9750
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (365/3)»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا بَعَثَ سَرِيَّةً فَغَنِمُوا خَمَّسَ الْغَنِيمَةَ ، فَضَرَبَ ذَلِكَ فِي خَمْسَةٍ ثُمَّ قَرَأَ : ( وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ ) [ إِلَى قَوْلِهِ :( للَّهِ ) مِفْتَاحُ كَلَامِ : ( للَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ) ] فَجَعَلَ سَهْمَ اللَّهِ وَسَهْمَ الرَّسُولِ وَاحِدًا ( وَلِذِي الْقُرْبَى ) فَجَعَلَ هَذَيْنِ السَّهْمَيْنِ قُوَّةً فِي الْخَيْلِ وَالسِّلَاحِ ، وَجَعَلَ سَهْمَ الْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ لَا يُعْطِيهِ غَيْرَهُمْ ، وَجَعَلَ الْأَسْهُمَ الْأَرْبَعَةَ الْبَاقِيَةَ : لِلْفَرَسِ سَهْمَيْنِ وَلِرَاكِبِهِ سَهْمٌ وَلِلرَّاجِلِ سَهْمٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ نَهْشَلُ بْنُ سَعِيدٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی جنگی مہم روانہ کرتے تھے اور وہ لوگ مال غنیمت حاصل کرتے تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مال غنیمت کو پانچ حصوں میں تقسیم کرتے تھے آپ اس کے پانچ حصے کرتے تھے پھر یہ آیت تلاوت کرتے تھے : ” تم لوگ یہ بات جان لو کہ تم جو بھی چیز غنیمت کے طور پر حاصل کرتے ہو اس کا پانچواں حصہ اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہو گا “ ۔ یہ آیت یہاں تک ہے : ” اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جو کچھ بھی آسمانوں میں اور زمین میں ہے “ ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کا حصہ اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ ایک ہی بناتے تھے اور قریبی رشتہ داروں کے لئے ( حصہ ہو گا ) تو آپ یہ دو حصے گھوڑے اور ہتھیار کے ذریعے قوت حاصل کرنے میں استعمال کرتے تھے آپ یتیموں مسکینوں اور مسافروں کا حصہ ان کے علاوہ کسی اور کو نہیں دیتے تھے جبکہ باقی کے چار حصے آپ گھوڑے کے دو حصے اور اس کے سوار کا ایک حصہ اور پیادہ شخص کا ایک حصہ کے اصول کے تحت تقسیم کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نہشل بن سعید ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9751
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12660)»
وَعَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ أَنَّ أَهْلَ الْبَصْرَةِ غَزَوْا نُهَاوَنْدَ فَأَمَدَّهُمْ أَهْلُ الْكُوفَةِ وَعَلَيْهِمْ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ فَظَهَرُوا فَأَرَادَ أَهْلُ الْبَصْرَةِ أَنْ لَا يَقْسِمُوا لِأَهْلِ الْكُوفَةِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ أَوْ مِنْ بَنِي عُطَارِدٍ : أَيُّهَا الْعَبْدُ الْأَجْدَعُ تُرِيدُ أَنْ تَشْرَكَنَا فِي غَنَائِمِنَا ، وَكَانَتْ أُذُنُهُ جُدِعَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : خَيْرَ أُذُنِي سَبَبْتَ ، فَكَتَبَ إِلَى عُمَرَ ، فَكَتَبَ : إِنَّ الْغَنِيمَةَ لِمَنْ شَهِدَ الْوَقْعَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
طارق بن شہاب بیان کرتے ہیں : اہل بصرہ نے نہاوند کے مقام پر جنگ میں حصہ لیا ، تو اہل کوفہ نے ان کی امداد کی ان کے امیر سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ تھے ۔ وہ لوگ غالب آ گئے اہل بصرہ نے یہ ارادہ کیا کہ وہ اہل کوفہ کو تقسیم میں کوئی حصہ نہیں دیں گے تو بنو تمیم یا بنو عطارد سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے کہا: اے ناک کٹے غلام کیا تم یہ چاہتے ہو کہ تم ہمارے مال غنیمت میں ہمارے شراکت دار بن جاؤ ۔ راوی کہتے ہیں : ان کے کان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتے ہوئے کاٹے گئے تھے ، تو انہوں نے فرمایا : تم نے میرے اچھے کانوں کو برا کہا: ہے پھر انہوں نے اس بارے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خط لکھا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جوابی خط لکھا کہ غنیمت میں اس شخص کو حصہ ملے گا ، جس نے جنگ میں حصہ لیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9752
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8203)»
وَعَنِ الْقَاسِمِ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - : وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ لَقَدْ قَسَمَ اللَّهُ تَعَالَى هَذَا الْفَيْءَ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَبْلَ أَنْ يَفْتَحَ فَارِسَ وَالرُّومَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ . ¤
محمد محی الدین
قاسم بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی اس مال فئے کو فارس اور روم کے فتح ہونے سے پہلے تقسیم کروا دیا تھا ( یعنی اس کا حکم بیان کر دیا تھا ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9753
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8951)»
وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ أَنَّهُ قَدِمَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ فِي سَفِينَةٍ وَمَعَهُ فَرَسٌ أَبْلَقُ، فَلَمَّا رَسَوْا وَجَدُوا إِبِلًا كَثِيرَةً مِنْ إِبِلِ الْمُشْرِكِينَ ، فَأَخَذُوهَا فَأَمَرَهُمْ أَبُو مَالِكٍ أَنْ يَنْحَرُوا مِنْهَا بَعِيرًا فَيَسْتَعِينُوا بِهِ ، ثُمَّ مَضَى عَلَى قَدَمَيْهِ حَتَّى قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ بِسَفَرِهِ وَبِأَصْحَابِهِ وَبِالْإِبِلِ الَّتِي أَصَابُوا ثُمَّ رَجَعَ إِلَى أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ الَّذِينَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَعْطِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ هَذِهِ الْإِبِلِ . قَالَ : " اذْهَبُوا إِلَى أَبِي مَالِكٍ " . فَلَمَّا أَتَوْهُ قَسَمَهَا أَخْمَاسًا خُمُسًا بَعَثَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَخَذَ ثُلُثَ الْبَاقِي بَعْدَ الْخُمُسِ فَقَسَمَهُ بَيْنَ أَصْحَابِهِ وَالثُّلُثَيْنِ الْبَاقِيَيْنِ لِلْمُسْلِمِينَ فَقَسَمَهُ بَيْنَهُمْ فَجَاءُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا : مَا رَأَيْنَا مِثْلَ أَبِي مَالِكٍ بِهَذَا الْمَغْنَمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ كُنْتُ أَنَا مَا صَنَعْتُ إِلَّا كَمَا صَنَعَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ الْمِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ اور اُن کے ساتھی کشتی میں بیٹھ کر آئے ، ان کے ساتھ ایک ” ابلق “ ( یعنی سفید و سیاہ رنگ کا ) گھوڑا تھا ۔ جب وہ لوگ کشتی سے اترے تو انہوں نے مشرکین کے بہت سے اونٹ پائے انہوں نے ان کو حاصل کیا سیدنا ابومالک رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو حکم دیا کہ ان میں سے ایک اونٹ قربان کریں اور اس کے ذریعے مدد حاصل کریں ( یعنی اپنی خوراک حاصل کریں ) پھر وہ لوگ چلتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سفر اور اپنے ساتھیوں اور ان اونٹوں کے بارے میں بتایا جو انہیں ملے تھے پھر وہ اپنے ساتھیوں کے پاس واپس آئے جو لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اونٹوں میں سے کچھ ہمیں بھی دیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ ابومالک کے پاس چلے جاؤ جب وہ لوگ سیدنا ابومالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے ان اونٹوں کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا پانچواں حصہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھجوا دیا اور خمس کے بعد باقی بچ جانے والے کا ایک تہائی حصہ لے کر اپنے ساتھیوں میں تقسیم کیا اور باقی دو حصے انہوں نے دوسرے مسلمانوں میں تقسیم کیے پھر وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بولے : ابومالک نے مال غنیمت کے بارے میں جو کیا ہے ہم نے اس طرح کی صورت حال کبھی نہیں دیکھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر میں نے کچھ کرنا ہوتا ، تو میں بھی اسی طرح کرتا جس طرح اس نے کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9754
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَقْسِمْ لِبَنِي عَبْدِ شَمْسٍ وَلَا لِبَنِي نَوْفَلٍ مِنَ الْخُمُسِ شَيْئًا كَمَا كَانَ يَقْسِمُ لِبَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ ، وَأَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَانَ يَقْسِمُ الْخُمُسَ نَحْوَ قَسْمِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يُعْطِي قُرْبَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعْطِيهِمْ وَكَانَ عُمَرُ يُعْطِيهِمْ وَعُثْمَانُ مِنْ بَعْدِهِ [ مِنْهُ ] . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جبیر بن معطم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبد شمس اور بنو نوفل کو خمس میں سے کچھ بھی نہیں دیا تھا ۔ جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنو ہاشم اور بنو مطلب کو اس میں سے حصہ دیتے تھے ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ جب خمس تقسیم کرتے تھے ، تو وہ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے مطابق تقسیم کرتے تھے البتہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ داروں کو اس طرح ادائیگی نہیں کرتے تھے جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ انہیں ادائیگی کرتے رہے اور ان کے بعد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بھی انہیں اس میں سے ادائیگی کرتے رہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس کا ایک حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9755
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (83/4)»
وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا جَاءَهُ فَيْءٌ قَسَمَهُ مِنْ يَوْمِهِ فَأَعْطَى الْأَهْلَ حَظَّيْنِ وَأَعْطَى الْأَعْرَابَ حَظًّا وَاحِدًا فَدُعِينَا وَكُنْتُ أُدْعَى قَبْلَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ فَأُعْطِيَ حَظًّا وَاحِدًا فَتَسَخَّطَ حَتَّى عَرَفَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي وَجْهِهِ وَمَنْ حَضَرَهُ فَبَقِيَتْ فَضْلَةٌ مِنْ ذَهَبٍ فَجَعَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَرْفَعُهَا بِطَرَفِ عَصَاهُ فَتَسْقُطُ ثُمَّ يَرْفَعُهَا فَتَسْقُطُ وَهُوَ يَقُولُ : " كَيْفَ أَنْتُمْ يَوْمَ يُكْنَزُ لَكُمْ مِنْ هَذَا ؟ " فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ ، فَقَالَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ : وَدِدْنَا وَاللَّهِ لَوْ أُكْنِزَ لَنَا ، فَصَبَرَ مَنْ صَبَرَ وَفُتِنَ مَنْ فُتِنَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَعَلَّكَ تَكُونُ فِيهِ شَرَّ مَفْتُونٍ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ إِلَى قَوْلِهِ : وَأَعْطَى الْعَرَبَ حَظًّا فَقَطْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ وَمَتْنُهُ مُنْكَرٌ فَإِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَقُولُ ذَلِكَ لِرَجُلٍ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب مال غنیمت میں سے کچھ آتا تھا ، تو آپ اسی دن میں اسے تقسیم کر دیتے تھے آپ شہریوں کو دو حصے دیتے تھے اور دیہاتیوں کو ایک حصہ دیتے تھے ہمیں بلایا گیا مجھے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے پہلے بلا لیا گیا تھا ، انہیں ایک حصہ دیا گیا تو وہ ناراض ہو گئے ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اور حاضرین کو ان کے چہرے سے اس بات کا اندازہ ہو گیا پھر سونے کا کچھ حصہ باقی رہ گیا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عصا کے کونے کے ذریعے اسے اٹھایا تو وہ گر گیا پھر آپ نے اسے اٹھایا پھر وہ گر گیا آپ نے فرمایا : اس وقت تمہارا کیا عالم ہو گا کہ جب تم اس سونے کے خزانے بناؤ گے کسی نے آپ کو جواب نہیں دیا ، تو سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : ہماری یہ خواہش ہے ۔ اللہ کی قسم ! کہ ہمیں خزانے دیے جائیں ، تو جس نے صبر کرنا ہو وہ صبر کرے اور جس نے آزمائش میں مبتلاء ہونا ہے وہ آزمائش میں مبتلاء ہو ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا شاید تم اس میں سب سے زیادہ بری آزمائش میں مبتلاء ہو گے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت میں سے یہاں تک الفاظ نقل کیے ہیں : ” عربوں کو ایک حصہ دیا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رحال ہیں اور اس کا متن منکر ہے ، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل بدر میں سے کسی بھی شخص کے لئے اس طرح کی بات ارشاد نہیں فرمائی ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9756
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح ولکن متنہ منکر
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1048)»
وَعَنْ أَبِي لَيْلَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَسَمَ غَنَمًا فَجَعَلَ لِكُلِّ عَشَرَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ شَاةً . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَأَحْمَدُ أَتَمَّ مِنْ هَذَا وَأَطْوَلَ ، وَتَقَدَّمَ حَدِيثُ أَحْمَدَ فِي بَابِ النَّهْيِ عَنِ النُّهْبَةِ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابولیلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت تقسیم کیا تو آپ نے اپنے اصحاب میں سے دس افراد کو ایک بکری دی ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام أحمد نے اسے زیادہ مکمل اور زیادہ طویل روایت کے طور پر نقل کیا ہے ۔ امام أحمد کی نقل کردہ حدیث اس سے پہلے لوٹ مار کی ممانعت سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9757
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَسَمَ لِثَمَانِينَ فَرَسًا يَوْمَ حُنَيْنٍ سَهْمَيْنِ سَهْمَيْنِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ كَثِيرٌ مَوْلَى بَنِي مَخْزُومٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے موقع پر اسی گھوڑوں کو دو دو حصے دیے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی کثیر ہے ، جو بنو مخزوم کا غلام ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9758
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (11464)»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يُعْطِ الْكَوْدَنَ شَيْئًا وَأَعْطَاهُ دُونَ سَهْمِ الْعِرَابِ فِي الْقُوَّةِ وَالْجَوْدَةِ . وَالْكَوْدَنُ : الْبِرْذَوْنُ الْبَطِيءُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خچر کو کچھ نہیں دیا ، آپ نے قوت اور جودت میں اس کو عربی ( گھوڑے ) کے حصے سے کم دیا ۔ راوی کہتے ہیں : ” کودن “ سے مراد سست خچر ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبلال اشعری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9759
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12717)»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْطَى يَوْمَ بَدْرٍ الْفَرَسَ سَهْمَيْنِ وَالرَّجُلَ سَهْمًا . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى ، وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ ، وَيَتَقَوَّى بِالْمُتَابَعَاتِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر کے موقع پر گھڑ سوار کو دو حصے دیے تھے اور پیادہ کو ایک حصہ دیا تھا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے وہ خراب حافظے کا مالک ہے ، لیکن
یہ روایت متابعات کے ذریعے قوی ہو جاتی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9760
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (2451)»
وَعَنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْطَى الزُّبَيْرَ سَهْمًا وَأُمَّهُ سَهْمًا وَفَرَسَهُ سَهْمَيْنِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو ایک حصہ دیا تھا ، اور ان کی والدہ کو ایک حصہ دیا تھا ، اور ان کے گھوڑے کو دو حصے دیے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9761
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (1425)»
وَعَنْ أَبِي رُهْمٍ وَأَخِيهِ أَنَّهُمَا كَانَا فَارِسَيْنِ يَوْمَ حُنَيْنٍ، فَأُعْطِيَا سِتَّةَ أَسْهُمٍ ، أَرْبَعَةً لِفَرَسَيْهِمَا وَسَهْمَيْنِ لَهُمَا، فَبَاعَا السَّهْمَيْنِ بِبَكْرَيْنِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : عَنْ أَبِي رُهْمٍ قَالَ : شَهِدْتُ أَنَا وَأَخِي خَيْبَرَ ، وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ . ¤ وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي فَرْوَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابورہم رضی اللہ عنہ اور ان کے بھائی یہ دونوں غزوہ حنین کے موقع پر گھڑ سوار تھے ، تو ان دونوں کو چھ حصے دیے گئے چار حصے ان دونوں کے گھوڑوں کے اور دو حصے ان دونوں حضرات کے تھے ، تو ان دونوں حضرات نے دو حصے ، دو جوان اونٹوں کے بدلے میں فروخت کر دیے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : سیدنا ابورہم رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں : میں اور میرا بھائی غزوہ خیبر میں شریک ہوئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد باقی حدیث حسب سابق ہے ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابوفروہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9762
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (6876) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (186/19)»
وَعَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّهُ كَانَ يَوْمَ بَدْرٍ عَلَى فَرَسٍ يُقَالُ لَهَا : سُبْحَةُ فَأَسْهَمَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِفَرَسِهِ سَهْمًا وَلَهُ سَهْمًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْوَاقِدِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مقداد بن عمرو رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : غزوہ بدر کے موقع پر وہ ایک گھوڑے پر سوار تھے جس کا نام سبحہ تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھوڑے کا ایک حصہ انہیں دیا تھا ، اور ان کا ایک حصہ انہیں دیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی واقدی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9763
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (261/20)»
وَعَنْ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ قَالَ : لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَكَّةَ كَانَ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ عَلَى الْمُجَنِّبَةِ الْيُسْرَى وَكَانَ الْمِقْدَادُ عَلَى الْمُجَنِّبَةِ الْيُمْنَى ، فَلَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَكَّةَ وَهَدَأَ النَّاسُ جَاءَا بِفَرَسَيْهِمَا فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَسَحَ الْغُبَارَ عَنْ وُجُوهِهِمَا بِثَوْبِهِ قَالَ : " إِنِّي جَعَلْتُ لِلْفَرَسِ سَهْمَيْنِ، وَلِلْفَارِسِ سَهْمًا فَمَنْ نَقَضَهَا نَقَضَهُ اللَّهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بِشْرٍ الْحُبْرَانِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوکبشہ انماری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ بائیں طرف موجود دستے کے امیر تھے اور سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ دائیں طرف موجود دستے کے امیر تھے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو لوگ ان دونوں حضرات کے گھوڑے لے کے آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے آپ نے ان دونوں کے چہروں سے غبار اپنے کپڑے کے ذریعے اتارا اور فرمایا : میں گھوڑے کے لئے دو حصے اور گھڑ سوار کے لئے ایک حصہ مقرر کرتا ہوں جو شخص اس کی خلاف ورزی کرے گا اللہ تعالیٰ اسے سزا دے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن بشر حبرانی ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9764
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (342/22)»
وَعَنْ أَبِي رُهْمٍ عَنْ أَخِيهِ أَنَّهُمَا كَانَا فَارِسَيْنِ يَوْمَ خَيْبَرَ فَأُعْطِيَا سِتَّةَ أَسْهُمٍ ، أَرْبَعَةٌ لِفَرَسَيْهِمَا ، وَسَهْمَانِ لَهُمَا فَبَاعَا السَّهْمَيْنِ بِبَكْرَيْنِ . . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي فَرْوَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابورہم رضی اللہ عنہ اپنے بھائی کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : یہ دونوں حضرات غزوہ خیبر کے موقع پر گھڑ سوار تھے ، تو ان حضرات کو چھ حصہ دیے گئے چار حصے ان دونوں کے گھوڑوں کے لئے تھے اور دو حصے ان دونوں حضرات کے تھے ، تو انہوں نے دو جوان اونٹوں کے عوض میں دو حصے فروخت کیے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابوفروہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9765
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (186/19)»
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَسَمَ لِلْفَرَسِ سَهْمَيْنِ وَلِلرَّجُلِ سَهْمًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ سَعِيدٍ الْمُسَاحِقِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑے کے لئے دو حصے اور آدمی کے لئے ایک حصہ مقرر کیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالجبار بن سعید مساحقی ہے اور وہ ضعیف ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9766
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4867)»