مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْغُلُولِ . باب: ( مال غنیمت میں ) خیانت کرنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ يَكْرِبَ الْكِنْدِيِّ : أَنَّهُ جَلَسَ مَعَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، رَحِمَهُ اللَّهُ ، وَأَبِي الدَّرْدَاءِ أَوِ الْحَارِثِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْكِنْدِيِّ فَتَذَاكَرُوا حَدِيثَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ رَحِمَهُ اللَّهُ لِعُبَادَةَ : يَا عُبَادَةُ كَلِمَاتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزْوَةٍ فِي شَأْنِ الْأَخْمَاسِ فَقَالَ عُبَادَةُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى بِهِمْ فِي غَزْوَةٍ إِلَى بَعِيرٍ مِنَ الْمَقْسِمِ ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَنَاوَلَ وَبَرَةً بَيْنَ أُنْمُلَتَيْهِ فَقَالَ : " إِنَّ هَذِهِ مِنْ غَنَائِمِكُمْ وَإِنَّهُ لَيْسَ لِي فِيهَا إِلَّا نَصِيبِي مَعَكُمْ إِلَّا الْخُمُسَ ، وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ فَأَدُّوا الْخَيْطَ وَالْمِخْيَطَ ، وَأَكْبَرَ مِنْ ذَلِكَ وَأَصْغَرَ وَلَا تَغُلُّوا فَإِنَّ الْغُلُولَ نَارٌ وَعَارٌ عَلَى أَصْحَابِهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا مقدام بن معدیکرب کندی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے وہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ یا شاید سیدنا حارث بن معاویہ کندی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے یہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے بارے میں مذاکرہ کر رہے تھے ۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا اے عبادہ ! اللہ کے رسول کے وہ کلمات جو آپ نے جنگ میں خمس کی حیثیت کے بارے میں ارشاد فرمائے تھے ( وہ کیا ہیں ؟ ) سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنگ کے دوران ان لوگوں کو نماز پڑھائی آپ نے مال غنیمت کے ایک اونٹ کی طرف رخ کر کے وہ نماز پڑھائی جب آپ نے سلام پھیرا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے آپ آگے بڑھے آپ نے ایک بال دو پوروں کے درمیان پکڑا اور ارشاد فرمایا : یہ بھی تمہارے مال غنیمت میں سے ہے ، اور اس کے بارے میں میرا حصہ بھی تم لوگوں کے ساتھ ایک حصہ ہو گا البتہ خمس کا معاملہ مختلف ہے اور خمس بھی تم لوگوں کی طرف لوٹا دیا جائے گا ، تو تم سوئی اور دھاگہ اس سے بڑی اور چھوٹی ( ہر چیز ) ادا کرو اور خیانت نہ کرو ، کیونکہ خیانت اپنے متعلقہ افراد کے لئے دنیا اور آخرت میں آگ اور شرمندی کا باعث ہو گی “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔