حدیث نمبر: 9738
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّهُ أَخْبَرَ مُعَاوِيَةَ حِينَ سَأَلَهُ عَنِ الرَّجُلِ الَّذِي سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِقَالًا قَبْلَ أَنْ يَقْسِمَ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اتْرُكْهُ حَتَّى يُقْسَمَ - أَوْ نَقْسِمَ - ثُمَّ إِنْ شِئْتَ أَعْطَيْنَاكَ عِقَالًا وَإِنْ شِئْتَ أَعْطَيْنَاكَ مِرَارًا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے اس شخص کے بارے میں دریافت کیا : جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک رسی مال غنیمت کی تقسیم سے پہلے مانگی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم اسے چھوڑ دو ! جب تک یہ تقسیم نہیں ہو جاتا ( یا ہم اسے تقسیم نہیں کر دیتے ) پھر اگر تم چاہو گے تو ہم تمہیں رسی دیدیں گے اور اگر تم چاہو گے تو ہم تمہیں بار ، بار ( یعنی ایک سے زیادہ بار ) دیدیں گے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9738
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (5/321)»