مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْغُلُولِ . باب: ( مال غنیمت میں ) خیانت کرنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَأْخُذُ الْوَبَرَةَ [ مِنْ قِصَّةِ ] مِنْ فَيْءِ اللَّهِ فَيَقُولُ : " مَا لِي مِنْ هَذَا إِلَّا مِثْلُ مَا لِأَحَدِكُمْ ، إِلَّا الْخُمُسَ ، وَهُوَ مَرْدُودٌ فِيكُمْ فَأَدُّوا الْخَيْطَ وَالْمِخْيَطَ فَمَا فَوْقَهَا وَإِيَّاكُمْ وَالْغُلُولَ ، فَإِنَّهُ عَارٌ وَنَارٌ وَشَنَارٌ عَلَى صَاحِبِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ الْعِرْبَاضِ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ وَثَّقَهَا وَلَا جَرَّحَهَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مال فئے میں سے ایک گچھے میں سے ایک بال لیا اور فرمایا : اس میں سے مجھے بھی صرف اتنا ہی ملے گا جتنا تم میں سے کسی ایک کو ملے گا البتہ خمس کا معاملہ مختلف ہے اور وہ بھی تم لوگوں کے درمیان واپس آ جائے گا ، تو تم سوئی اور دھاگہ بھی ادا کرو ، اور اس سے نیچے کی بھی چیز ادا کرو ، اور تم خیانت کرنے سے بچو ! کیونکہ یہ ( یعنی خیانت ) قیامت کے دن اپنے متعلقہ فرد کے لئے شرمندگی ، آگ اور رسوائی کا باعث ہو گی ۔
یہ روایت امام أحمد امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خاتون ام حبیبہ بنت عرباض ہے میں نے کسی کو ان کی توثیق کرتے ہوئے یا ان پر جرح کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔