عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : نَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَزُورًا فَانْتَهَبَهَا النَّاسُ فَنَادَى مُنَادِيهِ : " إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَنْهَاكُمْ عَنِ النُّهْبَةِ " . فَجَاءَ النَّاسُ بِمَا أَخَذُوا فَقَسَمَهُ بَيْنَهُمْ .
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونٹ ذبح کیا لوگوں نے اس کو لوٹنا شروع کیا تو آپ کے منادی نے یہ اعلان کیا کہ بے شک اللہ اور اس کے رسول تمہیں لوٹ مار سے منع کرتے ہیں لوگوں نے جو کچھ لیا تھا اسے لے کر آ گئے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ گوشت ان کے درمیان تقسیم کیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي لَيْثٍ قَالَ : أَسَرَنِي أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكُنْتُ مَعَهُمْ فَأَصَابُوا غَنَمًا ، فَانْتَهَبُوهَا فَطَبَخُوهَا قَالَ : فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ النُّهْبَى - أَوِ النُّهْبَةَ - لَا تَصْلُحُ فَاكْفَئُوا الْقُدُورَ " .
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین
بنولیث سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے مجھے قید کر لیا میں ان کے ساتھ رہا انہیں کچھ بکریاں ملیں انہوں نے ان کو لوٹا اور انہیں پکانا شروع کر دیا ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ” لوٹ مار صحیح نہیں ہے تم ہنڈیائیں الٹا دو “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي لَيْلَى قَالَ : شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتْحَ خَيْبَرَ فَلَمَّا انْهَزَمُوا وَقَعْنَا فِي رِحَالِهِمْ فَأَخَذَ النَّاسُ مَا وَجَدُوا مِنْ خِرَافٍ فَلَمْ يَكُنْ أَسْرَعَ مِنْ أَنْ فَارَتِ الْقُدُورُ فَأُكْفِئَتْ وَقَسَمَ بَيْنَنَا فَجَعَلَ لِكُلِّ عَشَرَةٍ شَاةً .
رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارِ النُّهْبَةِ وَإِكْفَاءِ الْقُدُورِ وَكَذَلِكَ أَبُو يَعْلَى ، رِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارِ النُّهْبَةِ وَإِكْفَاءِ الْقُدُورِ وَكَذَلِكَ أَبُو يَعْلَى ، رِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین
سیدنا ابولیلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فتح خبیر میں شریک ہوا ہوں جب وہ لوگ پسپا ہو گئے تو ہم نے ان کی رہائش گاہوں پر حملہ کر دیا لوگوں کو جو بکریاں ملیں وہ انہوں نے حاصل کر لیں ابھی ہنڈیاؤں میں ابال آیا ہی تھا کہ انہیں الٹا دیا گیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے درمیان ( مال غنیمت ) تقسیم کیا اور ہر دس افراد کے لئے ایک بکری مقرر کی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، جس میں لوٹ مار کرنے اور ہنڈیا الٹانے کا ذکر مختصر کر دیا ہے ۔ امام ابویعلیٰ نے بھی اسی طرح نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، جس میں لوٹ مار کرنے اور ہنڈیا الٹانے کا ذکر مختصر کر دیا ہے ۔ امام ابویعلیٰ نے بھی اسی طرح نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْهَى عَنِ النُّهْبَةِ حَتَّى إِنَّهُ لَيَأْمُرُ الرُّفْقَةَ بِلَحْمِ الشَّاةِ وَهُمْ يَطْبُخُونَ يَقُولُ : " لَا تَطْعَمُوهُ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ ، وَإِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ فِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ ، وَإِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ فِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ .
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوٹ مار کرنے سے منع کیا کرتے تھے ، یہاں تک کہ آپ نے سواروں کو یہ حکم دیا جو بکری کا گوشت پکا رہے تھے ۔ آپ نے فرمایا : تم اسے نہ کھانا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند ضعیف ہے ۔ امام طبرانی کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند ضعیف ہے ۔ امام طبرانی کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ النُّهْبَةِ وَقَالَ : " مَنِ انْتَهَبَ فَلَيْسَ مِنَّا " .
قُلْتُ : رَوَى التِّرْمِذِيُّ مِنْهُ : " مَنِ انْتَهَبَ فَلَيْسَ مِنَّا " . فَقَطْ .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ .
قُلْتُ : رَوَى التِّرْمِذِيُّ مِنْهُ : " مَنِ انْتَهَبَ فَلَيْسَ مِنَّا " . فَقَطْ .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوٹ مار کرنے سے منع کیا ہے آپ نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو لوٹ مار کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس میں سے یہ حصہ نقل کیا ہے : ” جو لوٹ مار کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : انْتَهَبَ النَّاسُ غَنَمًا فَذَبَحُوهَا ثُمَّ جَعَلُوا يَطْبُخُونَهَا ثُمَّ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَرَ بِالْقُدُورِ فَأُكْفِئَتْ وَقَالَ : " إِنَّ النُّهْبَةَ لَا تَحِلُّ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : لوگوں نے بکریاں لوٹ لیں اور انہیں ذبح کیا اور انہیں پکانا شروع کر دیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، تو آپ نے ہنڈیاؤں کے بارے میں حکم دیا ، تو انہیں الٹا دیا گیا آپ نے ارشاد فرمایا : ” لوٹ مار حلال نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَيْسَ مِنَّا مَنِ انْتَهَبَ أَوْ سَلَبَ أَوْ أَشَارَ بِالسَّلْبِ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ قَابُوسُ بْنُ أَبِي ظَبْيَانَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ قَابُوسُ بْنُ أَبِي ظَبْيَانَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وہ شخص ہم میں سے نہیں ، جو لوٹ مار کرے یا سلب کر لے ( یعنی ہتھیا لے ) یا سلب کرنے کی طرف اشارہ کرے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قابوس بن ابوظبیان ہے اور وہ ثقہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قابوس بن ابوظبیان ہے اور وہ ثقہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَحِلُّ النُّهْبَةُ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ أَبِي الْحَوَارِيِّ الْعَمِّيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ أَبِي الْحَوَارِيِّ الْعَمِّيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” لوٹ مار حلال نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوحواری عمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوحواری عمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔