حدیث نمبر: 9739
وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَانْتَهَيْتُ إِلَى بَقِيعِ الْغَرْقَدِ فَالْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ : " هَلْ تَسْمَعُ الَّذِي أَسْمَعُ ؟ " فَقُلْتُ : بِأَبِي وَأُمِّي لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " هَذَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ فِي شَمْلَةٍ اغْتَلَّهَا يَوْمَ خَيْبَرَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ غَسَّانُ بْنُ عُبَيْدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا ، میں ” بقیع غرقد “ تک پہنچا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم وہ چیز سن رہے ہو ؟ جو میں سن رہا ہوں میں نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یا رسول اللہ ! جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ فلاں بن فلان شخص ہے جسے اس کی قبر میں ایک شملہ ( چادر ) کی وجہ سے عذاب ہو رہا ہے ، جو اس نے غزوہ خیبر کے موقع پر خیانت کے طور پر حاصل کیا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عنسان بن عبید ہے اور وہ ضعیف ہے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9739
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (17351)»