حدیث نمبر: 9747
وَعَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَى الْقَبَائِلَ يَدْعُو لَهُمْ، وَتَرَكَ قَبِيلَةً لَمْ يَأْتِهِمْ فَأَنْكَرُوا ذَلِكَ فَفَتَّشُوا مَتَاعَ صَاحِبٍ لَهُمْ فَوَجَدُوا قِلَادَةً فِي بَرْدَعَةِ رَجُلٍ مِنْهُمْ غَلَّهَا ، فَرَدُّوهَا فَأَتَاهُمْ فَصَلَّى عَلَيْهِمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبائل کے پاس تشریف لے جا کر انہیں دعوت دیا کرتے تھے ۔ آپ نے ایک قبیلہ کو ترک کر دیا آپ ان کے پاس تشریف نہیں لائے وہ اس بات سے پریشان ہو گئے انہوں نے اپنے ایک ساتھی کے سامان کی تلاشی لی تو انہیں ، ان میں سے ایک شخص کے سامان میں ایک ہار مل گیا ، جسے اُس شخص نے خیانت کے طور پر لیا تھا ان لوگوں نے وہ اسے واپس کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے پاس تشریف لائے اور آپ نے ان لوگوں کے لئے دعائے رحمت کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عبداللہ بن مغیرہ بن ابوبردہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9747
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (195/22)»