حدیث نمبر: 9741
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَقْبَلَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْجِعْرَانَةِ اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَيْهِ وَتَعَلَّقَ رِدَاؤُهُ بِالشَّجَرَةِ فَقَالَ : " رُدُّوا عَلَيَّ رِدَائِي ، أَتَخَافُونَ أَنْ لَا أَقْسِمَ بَيْنَكُمْ لَوْ كَانَ مِثْلُ شَجَرِ تِهَامَةَ نَعَمًا لَقَسَمْتُهُ بَيْنَكُمْ ، ثُمَّ لَا تَجِدُونِي جَبَانًا وَلَا بَخِيلًا وَلَا كَذُوبًا" . ¤ ثُمَّ قَالَ : " رُدُّوا الْخِيَاطَ وَالْمِخْيَطَ فَإِنَّ الْغُلُولَ عَارٌ وَنَارٌ وَشَنَارٌ عَلَى أَهْلِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ وَقَالَ : " مَا لِي مِنَ الْفَيْءِ مِثْلُ هَذِهِ الْوَبَرَةِ " . - وَأَخَذَهَا مِنْ كَاهِلِ الْبَعِيرِ - " إِلَّا الْخُمُسُ وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ مَخْلَدٍ وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے جا رہے تھے آپ جعرانہ کے مقام پر پہنچے تو لوگ آپ کے اردگرد اکٹھے ہو گئے آپ کی چادر درخت کے ساتھ لٹک گئی آپ نے فرمایا : میری چادر مجھے واپس کرو کیا تمہیں اس بات کا اندیشہ ہے کہ میں تمہارے درمیان تقسیم نہیں کروں گا ؟ اگر تہامہ کے درختوں جتنی نعمتیں بھی ہوں ، تو میں وہ بھی تمہارے درمیان تقسیم کر دوں گا ، اور پھر تم مجھے بزدل یا کنجوس یا جھوٹا نہیں پاؤ گے “ ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر سوئی اور دھاگہ بھی ادا کر دو کیونکہ قیامت کے دن خیانت اپنے متعلقہ فرد کے لئے شرمندگی آگ اور رسوائی کا باعث ہو گی “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا : ” مال غنیمت میں سے مجھے اس بال جتنی چیز بھی ( اضافی ) نہیں ملے گی “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کے کندھے سے ایک بال لے کر یہ بات ارشاد فرمائی تھی : ” البتہ خمس کا حکم مختلف ہے اور خمس بھی تم لوگوں کی طرف لوٹا دیا جائے گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عثمان بن مخلد ہے وہ ثقہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9741
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف