کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ظلم کرنے والے حکمران اور گمراہی والے حکمران
وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعَمٍ قَالَ : بَيْنَا أَنَا جَالِسٌ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْحِجْرِ إِذْ مَرَّ الْحَكَمُ بْنُ أَبِي الْعَاصِي فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَيْلٌ لِأُمَّتِي مِمَّا فِي صُلْبِ هَذَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ” حطیم “ میں بیٹھا ہوا تھا ، اسی دوران حکم بن ابوالعاص وہاں سے گزرا ، تو نبی اکرم نے ارشاد فرمایا : اس کی پشت میں جو ( بچہ ) موجود ہے ، اُس کی وجہ سے میری اُمت کی بربادی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9234
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1543)»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْبَهِيِّ مَوْلَى الزُّبَيْرِ قَالَ : كُنْتُ فِي الْمَسْجِدِ وَمَرْوَانُ يَخْطُبُ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ : وَاللَّهِ مَا اسْتَخْلَفَ أَبُو بَكْرٍ أَحَدًا مِنْ أَهْلِهِ فَقَالَ مَرْوَانُ : أَنْتَ الَّذِي نَزَلَتْ فِيكَ : وَالَّذِي قَالَ لِوَالِدَيْهِ أُفٍّ لَكُمَا فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : كَذَبْتَ ، وَلَكِنْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَعَنَ أَبَاكَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے غلام ، عبداللہ بہی بیان کرتے ہیں : میں مسجد میں موجود تھا ، مروان خطبہ دے رہا تھا ، سیدنا عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم ! سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے اہل خانہ میں سے ، کسی کو اپنا نائب ( یا جانشین ) مقرر نہیں کیا ، تو مردان بولا: تمہیں وہ فرد ہو ، جس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : ” اور وہ شخص جس نے اپنے ماں باپ کو یہ : کہا تمہارے لیے اُف ہے “ تو سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم نے غلط کہا: ہے ، لیکن اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے باپ پر لعنت کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9235
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1624)»
وَعَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَزَالُ هَذَا أَمْرُ أُمَّتِي قَائِمًا بِالْقِسْطِ حَتَّى يَكُونَ أَوَّلُ مَنْ يَثْلُمُهُ رَجُلٌ مَنْ بَنِيَ أُمَيَّةَ يُقَالُ لَهُ : يَزِيدُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ مَكْحُولًا لَمْ يُدْرِكْ أَبَا عُبَادَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری اُمت کا معاملہ عدل پر گامزن رہے گا ، یہاں تک کہ سب سے پہلے ، اُس میں بنوامیہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص رخنہ ڈالے گا ، جس کا نام یزید ہو گا“ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، البتہ مکحول نے سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9236
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1619) اخرجه ابو يعلى فى المسند (870)»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى بَيْتٍ فِيهِ اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا فَقَالَ : " إِنَّ فِي هَذَا الْبَيْتِ مَنْ فِتْنَتُهُ عَلَى أُمَّتِي أَشَرُّ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ مُسْلِمُ بْنُ كَيْسَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک گھر کے پاس سے گزرے ، جس میں بارہ افراد موجود تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس گھر میں ایسا شخص موجود ہے ، جس کا فتنہ ، میری امت کے لیے ، دجال کے فتنے سے زیادہ برا ہو گا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن کیسان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9237
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1622)»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَكُونُ خَلِيفَةٌ هُوَ وَذُرِّيَّتُهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ایک خلیفہ ہو گا ، وہ اور اُس کی اولاد اہل جہنم میں سے ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9238
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : هَجَّرْتُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ أَبُو الْحَسَنِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ادْنُ مِنِّي يَا أَبَا الْحَسَنِ " فَلَمْ يَزَلْ يُدْنِيهِ حَتَّى الْتَقَمَ أُذُنَهُ فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِيَسَارِهِ حَتَّى رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأْسَهُ كَالْفَزِعِ فَقَالَ : " قَرَعَ الْخَبِيثُ بِسَمْعِهِ الْبَابَ " . فَقَالَ : " انْطَلِقْ يَا أَبَا الْحَسَنِ فَقُدْهُ كَمَا تُقَادُ الشَّاةُ إِلَى حَالِبِهَا " . فَإِذَا أَنَا بِعَلِيٍّ قَدْ جَاءَ بِالْحَكَمِ آخِذًا بِأُذُنِهِ وَلَهَازِمِهِ جَمِيعًا ، حَتَّى وَقَفَ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَعَنَهُ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثًا ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعَلِيٍّ : " أَجْلِسْهُ نَاحِيَةً " حَتَّى رَاحَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَاسٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ ، ثُمَّ دَعَا بِهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " هَا إِنَّ هَذَا سَيُخَالِفُ كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ وَيَخْرُجُ مِنْ صُلْبِهِ مَنْ فِتْنَتُهُ يَبْلُغُ دُخَانُهَا السَّمَاءَ " . فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ هُوَ أَقَلُّ وَأَذَلُّ مِنْ أَنْ يَكُونَ مِنْهُ ذَلِكَ ؟ قَالَ : " بَلَى وَبَعْضُكُمْ يَوْمَئِذٍ شِيعَتُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ حَسَنُ بْنُ قَيْسٍ الرَّحْبِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جلدی حاضر ہو گیا ، سیدنا ابوالحسن رضی اللہ عنہ تشریف لائے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : اے ابوالحسن ! تم میرے قریب ہو جاؤ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اتنا زیادہ قریب کر لیا کہ اُن کے کان کے پاس منہ کر لیا ، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بائیں طرف سے آئے ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پریشانی کے عالم میں اپنا سر اٹھایا اور فرمایا : خبیث شخص نے دروازہ بجایا ہے ، آپ نے فرمایا : ابوالحسن ! تم جاؤ اور اُسے یوں لے کر آؤ ، جس طرح بکری کو دودھ دوہنے کے لیے لے جایا جاتا ہے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنے ساتھ حکم کو لے کر آئے ، جسے انہوں نے سر اور کانوں سے پکڑا ہوا تھا اور اُسے لا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا کر دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ اس پر لعنت کی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا : اسے کونے میں بٹھا دو ! پھر کچھ مہاجرین اور انصار ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم کو بلوایا اور ارشاد فرمایا : یہ شخص ، عنقریب اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت کی خلاف ورزی کرے گا اور اس کی پشت میں سے وہ شخص نکلے گا ، جس کے فتنہ کا دھواں آسمان تک پہنچے گا ، مسلمانوں میں سے ایک شخص نے یہ کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ہے ، لیکن یہ لوگ تو اس سے کم تعداد میں ہیں اور کم حیثیت کے مالک ہیں کہ ان کا یہ حال ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایسا ہی ہو گا ، اُس وقت تم میں سے کچھ لوگ اس کے ساتھی ہوں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن قیس رحبی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9239
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13602)»
وَعَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ : دَخَلْتُ مَسْجِدَ الْمَدِينَةِ فَإِذَا النَّاسُ يَقُولُونَ : نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِ اللَّهِ وَغَضَبِ رَسُولِهِ قَالَ : قُلْتُ : مَاذَا ؟ قَالُوا : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ عَلَى مِنْبَرِهِ فَقَامَ رَجُلٌ فَأَخَذَ بِيَدِ ابْنِهِ فَأَخْرَجَهُ مِنَ الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَعَنَ اللَّهُ الْقَائِدَ ( وَالْمَقُودَ ، وَيْلٌ لِهَذِهِ يَوْمًا ) - لِهَذِهِ الْأُمَّةِ - مِنْ فُلَانٍ ذِي الْأَسْتَاهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
نصر بن عاصم نے ، اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : وہ بیان کرتے ہیں : میں مسجد نبوی میں داخل ہوا ، تو کچھ لوگ یہ کہہ رہے تھے ہم اللہ تعالیٰ کے غضب اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے غضب سے ، اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں ، میں نے دریافت کیا : کیا ہوا ہے ؟ لوگوں نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے منبر پر خطبہ دے رہے تھے ، اس دوران ایک شخص کھڑا ہوا ، اُس نے اپنے بیٹے کے ہاتھ کو پکڑا ، اور اسے مسجد سے باہر لے گیا ، تو نبی اکرم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ لے جانے والے پر ، اور جانے والے پر لعنت کرے ، ایک دن ، اس امت کی بربادی ہو گی ، جو فلاں شخص کی وجہ سے ہو گی ، جو پیچھے والا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9240
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (176/17)»
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ الْجُهَنِيِّ - وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ - قَالَ : اسْتَأْذَنَ الْحَكَمُ بْنُ أَبِي الْعَاصِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَرَفَ كَلَامَهُ فَقَالَ : " ائْذَنُوا لَهُ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ، وَمَا يَخْرُجُ مِنْ صُلْبِهِ ( إِلَّا الصَّالِحِينَ مِنْهُمْ ) وَقَلِيلٌ مَا هُمْ يَشْرُفُونَ فِي الدُّنْيَا وَيَرْذُلُونَ فِي الْآخِرَةِ ذَوُو مَكْرٍ وَخَدِيعَةٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ هَكَذَا ، وَفِي غَيْرِهِ : " وَمَا يَخْرُجُ مِنْ صُلْبِهِ إِلَّا الصَّالِحِينَ مِنْهُمْ وَقَلِيلٌ مَا هُمْ " . ¤ وَفِيهِ أَبُو الْحَسَنِ الْجَزَرِيُّ وَهُوَ مَسْتُورٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن مرہ جہنی رضی اللہ عنہ ، جنہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ حکم بن ابوالعاص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت مانگی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کی آواز پہچان لی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اسے اجازت دیدو ! اس پر اللہ تعالیٰ ، فرشتوں اور انسانوں ، سب کی لعنت ہو ، اور اُن پر بھی لعنت ہو ، جو اس کی پشت سے نکلیں گے ، البتہ اُن لوگوں کا معاملہ مختلف ہے ، جو اُن میں سے نیک ہوں گے ، اور ایسے لوگ تھوڑے ہوں گے وہ ( یعنی اس کی پشت میں سے نکلنے والے ) لوگ ، دنیا میں نمایاں حیثیت کے مالک ہوں گے اور آخرت میں فقیر ہوں گے ، وہ دھوکہ اور فریب کرنے والے لوگ ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اسی طرح نقل کی ہے ، دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” اور وہ جو اس کی پشت میں سے نکلے ، اُس پر بھی لعنت ہو ، البتہ اُن میں سے نیک لوگوں کا حکم مختلف ہے ، اور وہ تھوڑے ہوں گے “ اس کی سند میں ایک راوی ابوالحسن جزری ہے ، اور وہ مستور ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9241
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ أَنَّهُ كَانَ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ مَرْوَانُ فَكَلَّمَهُ فِي حَوَائِجِهِ ، فَقَالَ : اقْضِ حَاجَتِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، فَوَاللَّهِ إِنَّ مُؤْنَتِي لَعَظِيمَةٌ ، أَصْبَحْتُ أَبَا عَشْرَةٍ ، وَأَخَا عَشْرَةٍ ، وَعَمَّ عَشْرَةٍ ، فَلَمَّا أَدْبَرَ مَرْوَانُ ، وَابْنُ عَبَّاسٍ جَالِسٌ مَعَ مُعَاوِيَةَ عَلَى سَرِيرِهِ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : أَنْشُدُكَ اللَّهَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ أَمَا تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا بَلَغَ بَنُو أَبِي الْحَكَمِ ثَلَاثِينَ رَجُلًا اتَّخَذُوا آيَاتِ اللَّهِ بَيْنَهُمْ دُوَلًا ، وَعِبَادَ اللَّهِ خَوَلًا ، وَكِتَابَهُ دَخَلًا ، فَإِذَا بَلَغُوا سَبْعَةً وَتِسْعِينَ وَأَرْبَعَمِائَةٍ كَانَ هَلَاكُهُمْ أَسْرَعَ مِنَ التَّمْرَةِ " قَالَ : اللَّهُمَّ نَعَمْ . فَذَكَرَ مَرْوَانُ حَاجَةً لَهُ ، فَرَدَّ مَرْوَانُ عَبْدَ الْمَلِكِ إِلَى مُعَاوِيَةَ فَكَلَّمَهُ فِيهَا فَلَمَّا أَدْبَرَ قَالَ مُعَاوِيَةُ : أَنْشُدُكَ اللَّهَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ أَمَا تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَكَرَ هَذَا فَقَالَ : " أَبُو الْجَبَابِرَةِ الْأَرْبَعَةِ ؟ " قَالَ : اللَّهُمَّ نَعَمْ . فَلِذَلِكَ ادَّعَى مُعَاوِيَةُ زِيَادًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن موہب بیان کرتے ہیں : وہ سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے ، مروان اُن کے پاس آیا اور اپنی ضروریات کے بارے میں اُن کے ساتھ بات چیت کی ، اُس نے کہا: اے امیرالمؤمنین ! میری حاجت پوری کر دیں ، اللہ کی قسم میرے اخراجات زیادہ ہیں ، میں دس افراد کا باپ ہوں ، دس افراد کا بھائی ہوں ، دس افراد کا چچا ہوں ، جب مروان چلا گیا ، تو اس وقت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ اُن کے پلنگ پر بیٹھے ہوئے تھے ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے ابن عباس ! میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں کیا آپ یہ بات جانتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب ابوالحکم کے بیٹے تیسں تک پہنچ جائیں گے تو وہ اپنے درمیان اللہ تعالیٰ کی آیات کو دولت بنا لیں گے ، اللہ کے بندوں کو غلام بنا لیں گے اور اس کی کتاب میں دخل دیں گے اور جب وہ چار سو ستانوے ہو جائیں گے ، تو اُن کی ہلاکت کھجور سے زیادہ تیزی سے ہو گی ، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : اللہ جانتا ہے ، مروان نے اپنی حاجت کا ذکر کیا تھا ، پھر مروان نے عبدالملک کو دوبارہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا ، اس نے ان کے ساتھ اس بارے میں بات چیت کی ، جب وہ واپس چلا گیا ، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے ابن عباس ! میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں کیا آپ یہ بات جانتے ہیں ؟ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ذکر کیا تھا اور یہ فرمایا تھا : ” یہ چار ظالموں کا باپ ہے “ ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : اللہ جانتا ہے ، جی ہاں ! راوی بیان کرتے ہیں : اسی وجہ سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے زیاد کا دعوی کیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس میں ضعیف ہونا پایا جاتا ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9242
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12982)»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَوَّلُ مَنْ يَطْلُعُ مِنْ هَذَا الْبَابِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ، فَطَلَعَ فُلَانٌ " . وَفِي رِوَايَةٍ : " لَيَطْلُعَنَّ رَجُلٌ عَلَيْكُمْ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى غَيْرِ سُنَّتِي أَوْ غَيْرِ مِلَّتِي " . وَكُنْتُ تَرَكْتُ أَبِي فِي الْمَنْزِلِ فَخِفْتُ أَنْ يَكُونَ هُوَ ، فَطَلَعَ غَيْرُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هُوَ هَذَا " . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ ، وَحَدِيثُهُ مُسْتَقِيمٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ غَيْرُ مُبَيَّنٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم نے ارشاد فرمایا : ” اس دروازے سے ، سب سے پہلے سامنے آنے والا شخص ، جہنمی ہو گا ، تو فلاں شخص سامنے آیا “ ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” تمہارے سامنے ایک ایسا شخص ضرور آئے گا ، جسے قیامت کے دن میری سنت کے علاوہ ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) میرے دین کے علاوہ پر اٹھایا جائے گا “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں اپنے والد کو گھر چھوڑ کر آیا تھا ، مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ مراد نہ ہوں ، لیکن پھر ایک اور شخص آ گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وہ ، یہ ہے “ ۔ یہ پوری روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسحاق بن راہویہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث مستقیم ہوتی ہے ، اس میں ضعف پایا جاتا ہے لیکن وہ زیادہ واضح نہیں ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9243
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3167)»
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ : كَانَ الْحَكَمُ بْنُ أَبِي الْعَاصِي يَجْلِسُ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا تَكَلَّمَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اخْتَلَجَ ، فَبَصُرَ بِهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : أَنْتَ كَذَلِكَ " فَمَا زَالَ يَخْتَلِجُ حَتَّى مَاتَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حکم بن ابوالعاص ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گفتگو کرنے لگے تو اسے اختلاج ہونے لگا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا اور ارشاد فرمایا : تم اسی طرح رہو ! تو وہ شخص مرتے دم تک مسلسل اختلاج کا شکار رہا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ضرار بن صرد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9244
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : لَمَّا قُبِضَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ قِيلَ لَهُ فِي الْحَكَمِ بْنِ أَبِي الْعَاصِي فَقَالَ : مَا كُنْتُ لِأَحُلَّ عُقْدَةً عَقَدَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ حَمَّادُ بْنُ عِيسَى الْعَبْسِيُّ قَالَ الذَّهَبِيُّ : فِيهِ جَهَالَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنا دیا گیا ، تو اُن سے حکم بن ابوالعاص کے بارے میں بات کی گئی ، تو انہوں نے فرمایا : میں اُس گرہ کو نہیں کھولوں گا ، جو گرہ ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لگائی ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حماد بن عیسیٰ عبسی ہے ، امام ذہبی کہتے ہیں : اس میں مجہول ہونا پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9245
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3168)»
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأَى فِي مَنَامِهِ كَأَنَّ بَنِي الْحَكَمِ يَنْزُونَ عَلَى مِنْبَرِهِ وَيَنْزِلُونَ فَأَصْبَحَ كَالْمُتَغَيِّظِ فَقَالَ : " مَا لِي رَأَيْتُ بَنِي الْحَكَمِ يَنْزُونَ عَلَى مِنْبَرِي نَزْوَ الْقِرَدَةِ " . قَالَ : فَمَا رُئِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُسْتَجْمِعًا ضَاحِكًا بَعْدَ ذَلِكَ حَتَّى مَاتَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُصْعَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں دیکھا کہ حکم کے بچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر اتر اور چڑھ رہے ہیں ، صبح کے وقت آپ کو غصہ آیا ہوا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا وجہ ہے کہ میں نے حکم کے بیٹوں کو دیکھا کہ وہ میرے منبر پر ، بندروں کی طرح چڑھ رہے تھے ، راوی بیان کرتے ہیں : اُس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال تک کبھی کھل کر ہنستے ہوئے نہیں دیکھا گیا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف مصعب بن عبداللہ بن زبیر کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9246
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ ثَوْبَانَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أُرِيتُ بَنِي مَرْوَانَ يَتَعَاوَرُونَ مِنْبَرِي فَسَاءَنِي ذَلِكَ ، وَرَأَيْتُ بَنِي الْعَبَّاسِ يَتَعَاوَرُونَ مِنْبَرِي فَسَرَّنِي ذَلِكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ زَيْدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مجھے خواب میں ، بنو مروان دکھائے گئے ، جو میرے منبر پر اتر چڑھ رہے تھے ، تو مجھے یہ بات بری لگی ، پھر میں نے بنوعباس کو دیکھا کہ وہ میرے منبر پر چڑھ اور اتر رہے تھے ، تو مجھے یہ بات اچھی لگی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زید بن معاویہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9247
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1425)»
وَعَنْ أُمِّ حَكِيمٍ بِنْتِ عَمْرِو بْنِ سِنَانٍ الْجَدَلِيَّةِ قَالَتْ : اسْتَأْذَنَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ عَلَى عَلِيٍّ ، فَرَدَّهُ قُنْبُرٌ فَأَدْمَى أَنْفَهُ فَخَرَجَ عَلِيٌّ فَقَالَ : مَا لَكَ وَمَا لَهُ يَا أَشْعَثُ ؟ أَمَا وَاللَّهِ لَوْ بِعَبْدِ ثَقِيفٍ تَمَرَّسْتَ اقْشَعَرَّتْ شُعَيْرَاتُ اسْتِكَ ، قِيلَ لَهُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَمَنْ عَبْدُ ثَقِيفٍ ؟ قَالَ : غُلَامٌ يَلِيهِمْ لَا يُبْقِي أَهْلَ بَيْتٍ مِنَ الْعَرَبِ إِلَّا أَدْخَلَهُمْ ذُلًّا ، قِيلَ : كَمْ يَمْلِكُ ؟ قَالَ : عِشْرِينَ إِنْ بَلَغَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ الْأَجْلَحُ الْكِنْدِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام حکیم بنت عمرو بن سنان رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : اشعث بن قیس نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آنے کی اجازت مانگی ، قنبر نے انہیں روکا ، اور ان کی ناک کو خون آلود کر دیا ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ باہر تشریف لائے تو انہوں نے فرمایا : اے اشعث ! تمہارا اس کے ساتھ کیا مقابلہ ہے ؟ اللہ کی قسم ! اگر ثقیف قبیلے کے کسی غلام کے ساتھ تمہارا جھگڑا ہوا ہوتا ، تو تمہاری شرمگاہ کے بالوں پر بھی لرزہ طاری ہو جانا تھا ، اُن سے کہا: گیا : اے امیرالمؤمنین ! ثقیف قبیلے کا غلام کون ہے ؟ انہوں نے فرمایا : وہ ایک غلام ہو گا ، جو لوگوں کا امیر بن جائے گا اور عربوں کے ہر ایک گھرانے میں ، ذلت داخل کر دے گا ، اُن سے دریافت کیا گیا : وہ کتنا عرصہ حکمران رہے گا ؟ انہوں نے جواب دیا بیس سال ، اگر وہ پہنچ گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اجلح کندی ہے جے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9248
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (651)»
وَعَنْ ثَوْبَانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ لِبَنِي الْعَبَّاسِ رَايَتَيْنِ أَعْلَاهَا كُفْرٌ وَمَرْكَزُهَا ضَلَالَةٌ فَإِنْ أَدْرَكْتَهَا فَلَا تَضِلَّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ نُسِبَ إِلَى الْوَضْعِ ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : لَا بَأْسَ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بنو عباس کے دو جھنڈے ہوں گے ، جن میں سے اوپر والا ( حصہ ) کفر ہو گا ، اور گاڑھے جانے کی جگہ والا ( حصہ ) گمراہی ہو گا ، اگر تم اس کو پاؤ تو تم گمراہ نہ ہونا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ربیعہ ہے اور وہ متروک ہے ، اس کی نسبت حدیث ایجاد کرنے کی طرف کی گئی ہے ، ابن عدی کہتے ہیں : اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9249
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1424)»
وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا لِي وَلِبَنِي الْعَبَّاسِ شَيَّعُوا أُمَّتِي وَسَفَكُوا دِمَاءَهُمْ وَأَلْبَسُوهَا ثِيَابَ السَّوَادِ أَلْبَسَهُمُ اللَّهُ ثِيَابَ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ زَيْدُ بْنُ رَبِيعَةَ ، وَقَدْ تَقَدَّمَ الْكَلَامُ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرا بنو عباس کے ساتھ کیا واسطہ ؟ وہ میری اُمت کو لے کر چلیں گے اور اُن کا خون بہائیں گے اور انہیں سیاہ رنگ کے کپڑے پہنائیں گے ، اللہ تعالیٰ انہیں جہنم کے کپڑے پہنائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زید بن ربیع ہے ، جس پر کلام ، پہلے گزر چکا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9250
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1426)»
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّهَا سَتَخْرُجُ رَايَتَانِ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ لِبَنِي الْعَبَّاسِ ، أَوَّلُهَا مَثْبُورٌ وَآخِرُهَا مَبْتُورٌ ، لَا تَنْصُرُوهُمْ لَا نَصَرَهُمُ اللَّهُ ، مَنْ مَشَى تَحْتَ رَايَةٍ مِنْ رَايَتِهِمْ أَدْخَلَهُ اللَّهُ تَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ جَهَنَّمَ ، أَلَا إِنَّهُمْ شِرَارُ خَلْقِ اللَّهِ ، وَأَتْبَاعُهُمْ شِرَارُ خَلْقِ اللَّهِ ، يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ مِنِّي أَلَا إِنِّي مِنْهُمْ بَرِيءٌ وَهُمْ مُنِّيَ بُرَآءُ ، عَلَامَاتُهُمْ يُطِيلُونَ الشُّعُورَ وَيَلْبَسُونَ السَّوَادَ ، فَلَا تُجَالِسُوهُمْ فِي الْمَلَأِ وَلَا تُبَايِعُوهُمْ فِي الْأَسْوَاقِ وَلَا تَهْدُوهُمُ الطَّرِيقَ وَلَا تَسْقُوهُمُ الْمَاءَ ، يَتَأَذَّى بِتَكْبِيرِهِمْ أَهْلُ السَّمَاءِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عَنْبَسَةُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ وَقَدِ اتُّهِمَ بِالْكَذِبِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مشرق کی طرف سے ، بنو عباس کے لیے جھنڈے نکلیں گے ، جن کا پہلا حصہ بربادی والا ہو گا اور آخری دم کٹا ہو گا ، تم اُن لوگوں کی مدد نہ کرنا ، اللہ تعالیٰ اُن کی مدد نہ کرے ، جو شخص ان کے جھنڈوں میں سے کسی جھنڈے کے نیچے چلے گا ، اللہ تعالیٰ اس شخص کو قیامت کے دن جہنم میں داخل کرے گا ، خبردار ! وہ لوگ اللہ کی مخلوق کے بدترین لوگ ہوں گے اور ان کے پیروکار ، اللہ کی مخلوق کے بدترین لوگ ہوں گے ، وہ لوگ یہ کہیں گے : کہ اُن کا مجھ سے تعلق ہے ، حالانکہ میں اُن سے لاتعلق ہوں اور وہ مجھ سے لاتعلق ہیں ، ان کی علامت یہ ہیں کہ وہ لوگ لمبے بال رکھیں گے اور سیاہ لباس پہنیں گے ، تم محفلوں میں اُن کے ساتھ نہ بیٹھنا اور بازاروں میں اُن کے ساتھ خرید و فروخت نہ کرنا ، انہیں راستہ نہ بتانا ، پانی نہ پلانا ، اُن کے تکبیر کہنے سے آسمان والوں کو اذیت ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عنبسہ بن ابوصغیرہ ہے اور اُس پر جھوٹا ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9251
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7494)»