مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الخلافة— خلافت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي أَئِمَّةِ الظُّلْمِ وَالْجَوْرِ وَأَئِمَّةِ الضَّلَالَةِ . باب: ظلم کرنے والے حکمران اور گمراہی والے حکمران
وَعَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ : دَخَلْتُ مَسْجِدَ الْمَدِينَةِ فَإِذَا النَّاسُ يَقُولُونَ : نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِ اللَّهِ وَغَضَبِ رَسُولِهِ قَالَ : قُلْتُ : مَاذَا ؟ قَالُوا : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ عَلَى مِنْبَرِهِ فَقَامَ رَجُلٌ فَأَخَذَ بِيَدِ ابْنِهِ فَأَخْرَجَهُ مِنَ الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَعَنَ اللَّهُ الْقَائِدَ ( وَالْمَقُودَ ، وَيْلٌ لِهَذِهِ يَوْمًا ) - لِهَذِهِ الْأُمَّةِ - مِنْ فُلَانٍ ذِي الْأَسْتَاهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤نصر بن عاصم نے ، اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : وہ بیان کرتے ہیں : میں مسجد نبوی میں داخل ہوا ، تو کچھ لوگ یہ کہہ رہے تھے ہم اللہ تعالیٰ کے غضب اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے غضب سے ، اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں ، میں نے دریافت کیا : کیا ہوا ہے ؟ لوگوں نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے منبر پر خطبہ دے رہے تھے ، اس دوران ایک شخص کھڑا ہوا ، اُس نے اپنے بیٹے کے ہاتھ کو پکڑا ، اور اسے مسجد سے باہر لے گیا ، تو نبی اکرم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ لے جانے والے پر ، اور جانے والے پر لعنت کرے ، ایک دن ، اس امت کی بربادی ہو گی ، جو فلاں شخص کی وجہ سے ہو گی ، جو پیچھے والا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔