مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الخلافة— خلافت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي أَئِمَّةِ الظُّلْمِ وَالْجَوْرِ وَأَئِمَّةِ الضَّلَالَةِ . باب: ظلم کرنے والے حکمران اور گمراہی والے حکمران
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : هَجَّرْتُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ أَبُو الْحَسَنِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ادْنُ مِنِّي يَا أَبَا الْحَسَنِ " فَلَمْ يَزَلْ يُدْنِيهِ حَتَّى الْتَقَمَ أُذُنَهُ فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِيَسَارِهِ حَتَّى رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأْسَهُ كَالْفَزِعِ فَقَالَ : " قَرَعَ الْخَبِيثُ بِسَمْعِهِ الْبَابَ " . فَقَالَ : " انْطَلِقْ يَا أَبَا الْحَسَنِ فَقُدْهُ كَمَا تُقَادُ الشَّاةُ إِلَى حَالِبِهَا " . فَإِذَا أَنَا بِعَلِيٍّ قَدْ جَاءَ بِالْحَكَمِ آخِذًا بِأُذُنِهِ وَلَهَازِمِهِ جَمِيعًا ، حَتَّى وَقَفَ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَعَنَهُ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثًا ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعَلِيٍّ : " أَجْلِسْهُ نَاحِيَةً " حَتَّى رَاحَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَاسٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ ، ثُمَّ دَعَا بِهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " هَا إِنَّ هَذَا سَيُخَالِفُ كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ وَيَخْرُجُ مِنْ صُلْبِهِ مَنْ فِتْنَتُهُ يَبْلُغُ دُخَانُهَا السَّمَاءَ " . فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ هُوَ أَقَلُّ وَأَذَلُّ مِنْ أَنْ يَكُونَ مِنْهُ ذَلِكَ ؟ قَالَ : " بَلَى وَبَعْضُكُمْ يَوْمَئِذٍ شِيعَتُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ حَسَنُ بْنُ قَيْسٍ الرَّحْبِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جلدی حاضر ہو گیا ، سیدنا ابوالحسن رضی اللہ عنہ تشریف لائے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : اے ابوالحسن ! تم میرے قریب ہو جاؤ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اتنا زیادہ قریب کر لیا کہ اُن کے کان کے پاس منہ کر لیا ، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بائیں طرف سے آئے ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پریشانی کے عالم میں اپنا سر اٹھایا اور فرمایا : خبیث شخص نے دروازہ بجایا ہے ، آپ نے فرمایا : ابوالحسن ! تم جاؤ اور اُسے یوں لے کر آؤ ، جس طرح بکری کو دودھ دوہنے کے لیے لے جایا جاتا ہے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنے ساتھ حکم کو لے کر آئے ، جسے انہوں نے سر اور کانوں سے پکڑا ہوا تھا اور اُسے لا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا کر دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ اس پر لعنت کی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا : اسے کونے میں بٹھا دو ! پھر کچھ مہاجرین اور انصار ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم کو بلوایا اور ارشاد فرمایا : یہ شخص ، عنقریب اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت کی خلاف ورزی کرے گا اور اس کی پشت میں سے وہ شخص نکلے گا ، جس کے فتنہ کا دھواں آسمان تک پہنچے گا ، مسلمانوں میں سے ایک شخص نے یہ کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ہے ، لیکن یہ لوگ تو اس سے کم تعداد میں ہیں اور کم حیثیت کے مالک ہیں کہ ان کا یہ حال ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایسا ہی ہو گا ، اُس وقت تم میں سے کچھ لوگ اس کے ساتھی ہوں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن قیس رحبی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔