حدیث نمبر: 9241
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ الْجُهَنِيِّ - وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ - قَالَ : اسْتَأْذَنَ الْحَكَمُ بْنُ أَبِي الْعَاصِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَرَفَ كَلَامَهُ فَقَالَ : " ائْذَنُوا لَهُ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ، وَمَا يَخْرُجُ مِنْ صُلْبِهِ ( إِلَّا الصَّالِحِينَ مِنْهُمْ ) وَقَلِيلٌ مَا هُمْ يَشْرُفُونَ فِي الدُّنْيَا وَيَرْذُلُونَ فِي الْآخِرَةِ ذَوُو مَكْرٍ وَخَدِيعَةٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ هَكَذَا ، وَفِي غَيْرِهِ : " وَمَا يَخْرُجُ مِنْ صُلْبِهِ إِلَّا الصَّالِحِينَ مِنْهُمْ وَقَلِيلٌ مَا هُمْ " . ¤ وَفِيهِ أَبُو الْحَسَنِ الْجَزَرِيُّ وَهُوَ مَسْتُورٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمرو بن مرہ جہنی رضی اللہ عنہ ، جنہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ حکم بن ابوالعاص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت مانگی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کی آواز پہچان لی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اسے اجازت دیدو ! اس پر اللہ تعالیٰ ، فرشتوں اور انسانوں ، سب کی لعنت ہو ، اور اُن پر بھی لعنت ہو ، جو اس کی پشت سے نکلیں گے ، البتہ اُن لوگوں کا معاملہ مختلف ہے ، جو اُن میں سے نیک ہوں گے ، اور ایسے لوگ تھوڑے ہوں گے وہ ( یعنی اس کی پشت میں سے نکلنے والے ) لوگ ، دنیا میں نمایاں حیثیت کے مالک ہوں گے اور آخرت میں فقیر ہوں گے ، وہ دھوکہ اور فریب کرنے والے لوگ ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اسی طرح نقل کی ہے ، دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” اور وہ جو اس کی پشت میں سے نکلے ، اُس پر بھی لعنت ہو ، البتہ اُن میں سے نیک لوگوں کا حکم مختلف ہے ، اور وہ تھوڑے ہوں گے “ اس کی سند میں ایک راوی ابوالحسن جزری ہے ، اور وہ مستور ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9241
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف