حدیث نمبر: 9248
وَعَنْ أُمِّ حَكِيمٍ بِنْتِ عَمْرِو بْنِ سِنَانٍ الْجَدَلِيَّةِ قَالَتْ : اسْتَأْذَنَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ عَلَى عَلِيٍّ ، فَرَدَّهُ قُنْبُرٌ فَأَدْمَى أَنْفَهُ فَخَرَجَ عَلِيٌّ فَقَالَ : مَا لَكَ وَمَا لَهُ يَا أَشْعَثُ ؟ أَمَا وَاللَّهِ لَوْ بِعَبْدِ ثَقِيفٍ تَمَرَّسْتَ اقْشَعَرَّتْ شُعَيْرَاتُ اسْتِكَ ، قِيلَ لَهُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَمَنْ عَبْدُ ثَقِيفٍ ؟ قَالَ : غُلَامٌ يَلِيهِمْ لَا يُبْقِي أَهْلَ بَيْتٍ مِنَ الْعَرَبِ إِلَّا أَدْخَلَهُمْ ذُلًّا ، قِيلَ : كَمْ يَمْلِكُ ؟ قَالَ : عِشْرِينَ إِنْ بَلَغَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ الْأَجْلَحُ الْكِنْدِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ ام حکیم بنت عمرو بن سنان رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : اشعث بن قیس نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آنے کی اجازت مانگی ، قنبر نے انہیں روکا ، اور ان کی ناک کو خون آلود کر دیا ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ باہر تشریف لائے تو انہوں نے فرمایا : اے اشعث ! تمہارا اس کے ساتھ کیا مقابلہ ہے ؟ اللہ کی قسم ! اگر ثقیف قبیلے کے کسی غلام کے ساتھ تمہارا جھگڑا ہوا ہوتا ، تو تمہاری شرمگاہ کے بالوں پر بھی لرزہ طاری ہو جانا تھا ، اُن سے کہا: گیا : اے امیرالمؤمنین ! ثقیف قبیلے کا غلام کون ہے ؟ انہوں نے فرمایا : وہ ایک غلام ہو گا ، جو لوگوں کا امیر بن جائے گا اور عربوں کے ہر ایک گھرانے میں ، ذلت داخل کر دے گا ، اُن سے دریافت کیا گیا : وہ کتنا عرصہ حکمران رہے گا ؟ انہوں نے جواب دیا بیس سال ، اگر وہ پہنچ گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اجلح کندی ہے جے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9248
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (651)»