مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الخلافة— خلافت کے بارے میں روایات
بَابُ وِلَايَةِ الْمَنَاصِبِ غَيْرَ أَهْلِهَا . باب: نااہل افراد کو مناصب پر فائز کرنا
عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي صَالِحٍ قَالَ : أَقْبَلَ مَرْوَانُ يَوْمًا فَوَجَدَ رَجُلًا وَاضِعًا وَجْهَهُ عَلَى الْقَبْرِ فَقَالَ : أَتَدْرِي مَا تَصْنَعُ ؟ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ فَإِذَا هُوَ أَبُو أَيُّوبَ فَقَالَ : نَعَمْ جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَمْ آتِ الْحَجَرَ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا تَبْكُوا عَلَى الدِّينِ إِذَا وَلِيَهُ أَهْلُهُ وَلَكِنِ ابْكُوا عَلَى الدِّينِ إِذَا وَلِيَهُ غَيْرُ أَهْلِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ . ¤داؤد بن ابوصالح بیان کرتے ہیں : ایک دن مروان آیا ، اس نے ایک شخص کو پایا کہ اس نے اپنا چہرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک پر رکھا ہوا تھا ، تو مروان نے کہا: کیا تم جانتے ہو کہ تم کیا کر رہے ہو ؟ اس شخص نے مڑ کر دیکھا ، تو وہ سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ تھے ، انہوں نے فرمایا : جی ہاں ! میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ہوں ، میں کسی پتھر کے پاس نہیں آیا ہوں ، میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تم لوگ اُس وقت دین پر نہ رونا ، جب اہل افراد ، اُس کے نگران ہوں ، لیکن تم دین پر اُس وقت رونا ، جب اس کا نگران ، نا اہل فرد بن جائے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن زید ہے ، جسے امام أحمد اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔