حدیث نمبر: 9235
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْبَهِيِّ مَوْلَى الزُّبَيْرِ قَالَ : كُنْتُ فِي الْمَسْجِدِ وَمَرْوَانُ يَخْطُبُ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ : وَاللَّهِ مَا اسْتَخْلَفَ أَبُو بَكْرٍ أَحَدًا مِنْ أَهْلِهِ فَقَالَ مَرْوَانُ : أَنْتَ الَّذِي نَزَلَتْ فِيكَ : وَالَّذِي قَالَ لِوَالِدَيْهِ أُفٍّ لَكُمَا فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : كَذَبْتَ ، وَلَكِنْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَعَنَ أَبَاكَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے غلام ، عبداللہ بہی بیان کرتے ہیں : میں مسجد میں موجود تھا ، مروان خطبہ دے رہا تھا ، سیدنا عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم ! سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے اہل خانہ میں سے ، کسی کو اپنا نائب ( یا جانشین ) مقرر نہیں کیا ، تو مردان بولا: تمہیں وہ فرد ہو ، جس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : ” اور وہ شخص جس نے اپنے ماں باپ کو یہ : کہا تمہارے لیے اُف ہے “ تو سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم نے غلط کہا: ہے ، لیکن اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے باپ پر لعنت کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9235
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1624)»