کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ظلم کرنے والے حکمران اور گمراہی والے حکمران
حدیث نمبر: 9194
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ هُمْ شَرٌّ مِنَ الْمَجُوسِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا مُؤَمَّلَ بْنَ إِهَابٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم پر ایسے حکمران آئیں گے ، جو مجوسیوں سے بھی زیادہ برے ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف مومل بن اباب کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9194
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (1018)»
حدیث نمبر: 9195
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صِنْفَانِ مِنْ أُمَّتِي لَا تَنَالُهُمَا شَفَاعَتِي : إِمَامٌ ظَلُومٌ غَشُومٌ وَكُلُّ غَالٍ مَارِقٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَرِجَالُ الْكَبِيرِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رحمہ اللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میری امت کے ، دو قسم کے لوگوں کو میری شفاعت نصیب نہیں ہو گی ، ظالم و جابر حکمران ، اور ( دین میں ) غلو کرنے والا وہ شخص ، جو ( دین سے ) نکل جائے “ ( لفظ ” مارق“ کا مطلب ملحد اور کافر بھی ہے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور کبیر کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9195
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8079)»
حدیث نمبر: 9196
وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " رَجُلَانِ مِنْ أُمَّتِي لَا تَنَالُهُمَا شَفَاعَتِي : سُلْطَانٌ ظَلُومٌ غَشُومٌ ، وَآخَرُ غَالٍ فِي الدِّينِ مَارِقٌ مِنْهُ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت کے دو قسم کے لوگوں کو میری شفاعت نصیب نہیں ہو گی ، ظلم و جبر کرنے والا حکمران اور دوسرا وہ شخص ، جو دین میں غلو کرے اور اُس میں سے نکل جائے “ ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9196
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغیرہ
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (214/20)»
حدیث نمبر: 9197
وَفِي رِوَايَةٍ : " صِنْفَانِ مِنْ أُمَّتِي لَا تَنَالُهُمَا شَفَاعَتِي سُلْطَانٌ ظَلُومٌ غَشُومٌ ، وَغَالٍ فِي الدِّينِ يَشْهَدُ عَلَيْهِمْ وَيَتَبَرَّأُ مِنْهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ فِي أَحَدِهِمَا مَنِيعٌ قَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : لَهُ أَفْرَادٌ ، وَأَرْجُو أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الْأَوَّلِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” میری امت کے دو قسم کے لوگوں کو میری شفاعت نصیب نہیں ہو گی ، ظالم و جابر حکمران ، اور دین میں غلو کرنے والا شخص ، جو اُن لوگوں ( یعنی مسلمانوں ) کے خلاف گواہی دے اور اُن سے لاتعلقی کا اظہار کرے “
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک سند میں ایک راوی منیع ہے ، ابن عدی کہتے ہیں : اس سے منفرد روایات منقول ہیں ، ویسے مجھے یہ امید ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا ، پہلی روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9197
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (213/20)»
حدیث نمبر: 9198
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ أَشَدَّ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ قَتَلَ نَبِيًّا أَوْ قَتَلَهُ نَبِيٌّ ، أَوْ إِمَامٌ جَائِرٌ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " وَإِمَامُ ضَلَالَةٍ " . ( وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَحْمَدُ ) . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن اہل جہنم میں سب سے زیادہ سخت عذاب اس شخص کو ہو گا ، جس نے کسی نبی کو قتل کیا ہو گا ، یا جس کو ، کسی نبی نے قتل کیا ہو گا ، یا جو شخص ، دنیا میں ) ظالم حکمران رہا ہو گا “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس کا کچھ حصہ مذکور ہے ،
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ،
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، تا ہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ۔ ” گمراہی والا حکمران “ اور اس کے رجال بھی ثقہ ہیں ، امام أحمد نے یہ روایت اسی کی مانند نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9198
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1603) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10515) اخرجه احمد فى المسند (3868)»
حدیث نمبر: 9199
وَعَنْ أَبِي قُبَيْلٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ أَنَّهُ صَعِدَ الْمِنْبَرَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ عِنْدَ خُطْبَتِهِ : إِنَّمَا الْمَالُ مَالُنَا وَالْفَيْءُ فَيْئُنَا فَمَنْ شِئْنَا أَعْطَيْنَاهُ وَمَنْ شِئْنَا مَنَعْنَاهُ فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ ، فَلَمَّا كَانَ فِي الْجُمُعَةِ الثَّانِيَةِ قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ ، فَلَمَّا كَانَ فِي الْجُمُعَةِ الثَّالِثَةِ قَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِمَّنْ حَضَرَ الْمَسْجِدَ فَقَالَ : كَلَّا إِنَّمَا الْمَالُ مَالُنَا وَالْفَيْءُ فَيْئُنَا فَمَنْ حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ حَاكَمْنَاهُ إِلَى اللَّهِ بِأَسْيَافِنَا ، فَنَزَلَ مُعَاوِيَةُ فَأَرْسَلَ إِلَى الرَّجُلِ فَأَدْخَلَهُ ، فَقَالَ الْقَوْمُ : هَلَكَ الرَّجُلُ ثُمَّ دَخَلَ النَّاسُ فَوَجَدُوا الرَّجُلَ مَعَهُ عَلَى السَّرِيرِ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لِلنَّاسِ : إِنَّ هَذَا أَحْيَانِي أَحْيَاهُ اللَّهُ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " سَيَكُونُ بَعْدِي أُمَرَاءُ يَقُولُونَ وَلَا يُرَدُّ عَلَيْهِمْ ، يَتَقَاحَمُونَ فِي النَّارِ كَمَا تَتَقَاحَمُ الْقِرَدَةُ " . ¤ وَإِنِّي تَكَلَّمْتُ أَوَّلَ جُمُعَةٍ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ أَحَدٌ فَخَشِيتُ أَنْ أَكُونَ مِنْهُمْ ، ثُمَّ تَكَلَّمْتُ فِي الْجُمُعَةِ الثَّانِيَةِ فَلَمْ يَرُدَّ أَحَدٌ فَقُلْتُ فِي نَفْسِي : إِنِّي مِنَ الْقَوْمِ ، ثُمَّ تَكَلَّمْتُ فِي الْجُمُعَةِ الثَّالِثَةِ فَقَامَ هَذَا الرَّجُلُ فَرَدَّ عَلَيَّ فَأَحْيَانِي أَحْيَاهُ اللَّهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوقبیل بیان کرتے ہیں : سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن منبر پر تشریف فرما ہوئے ، خطبے کے دوران انہوں نے یہ ارشاد فرمایا : ” یہ ( سرکاری ) مال ، ہمارا مال ہے اور مال فے ، ہمارا مال فے ہے ہم جسے چاہیں گے ، اُسے ( یہ مال ) دیں گے اور جسے چاہیں گے اسے نہیں دیں گے ، کسی نے انہیں کچھ نہیں کہا: ، جب اگلا جمعہ آیا ، تو انہوں نے اس کی مانند بات کہی ، لیکن پھر کسی نے انہیں کچھ نہیں کہا: ، جب تیسرا جمعہ آیا ، تو انہوں نے اسی کی مانند بات کہی ، تو مسجد میں موجود حاضرین میں سے ایک صاحب ان کے سامنے کھڑے ہو گئے اور بولے : ہرگز نہیں ! یہ ( سرکاری ) مال ، ہمارا مال ہے اور مال غنیمت ، ہمارا مال غنیمت ہے ، جو شخص اس کے بارے میں رکاوٹ بننے کی کوشش کرے گا ، ہم اپنی تلواروں کے ہمراہ اُس کا مقدمہ ، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کریں گے ، جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ منبر سے نیچے اترے ( اور نماز کے بعد گھر تشریف لے گئے ) تو انہوں نے اُس شخص کو پیغام بھیجا ، اس کو ان کے پاس لے جایا گیا ، لوگوں نے کہا: یہ شخص ہلاکت کا شکار ہو گیا ، جب لوگ اندر اُن کے پاس آئے ، تو انہوں نے اُس شخص کو پلنگ پر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے دیکھا ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے فرمایا : اس شخص نے مجھے زندگی دی ہے ، اللہ تعالیٰ اسے زندگی دے ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” عنقریب میرے بعد حکمران آئیں گے ، وہ ( غلط ) بات کریں گے اور کوئی اُن کو جواب نہیں دے گا اور وہ جہنم میں یوں اچھلتے پھریں گے ، جس طرح بندر اچھلتے ہیں “ ۔ میں نے پہلے جمعہ کلام کیا ، تو کسی نے مجھے کچھ نہیں کہا: ، مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ میں اُن لوگوں میں سے ایک ہوؤں گا ، پھر میں نے دوسرے جمعہ کلام کیا ، تو کسی نے مجھے کچھ نہیں کہا: ، تو میں نے دل میں سوچا کہ میں اُن لوگوں میں سے ہوں ، پھر میں نے تیسرے جمعہ کلام کیا ، تو یہ شخص کھڑا ہو گیا اور اس نے مجھے جواب دیا ، ( یا میری بات کو مسترد کیا ) تو اس نے مجھے زندگی دی ہے ، اللہ تعالیٰ اسے زندگی دے ! “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9199
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (7382) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (5444) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (393/19)»
حدیث نمبر: 9200
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِمَامٌ جَائِرٌ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن ، لوگوں میں سے سب سے زیادہ سخت عذاب ، ظالم حکمران کو ہو گا “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطیہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9200
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 9201
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ : " أَلَا إِنِّي أُوشِكُ فَأُدْعَى فَأُجِيبُ ، فَيَلِيكُمْ عُمَّالٌ مِنْ بَعْدِي يَعْمَلُونَ بِمَا تَعْلَمُونَ وَيَعْمَلُونَ مَا تَعْرِفُونَ وَطَاعَةُ أُولَئِكَ طَاعَةٌ فَتَلْبَثُونَ كَذَلِكَ زَمَانًا ثُمَّ يَلِيكُمْ عُمَّالٌ مِنْ بَعْدِهِمْ يَعْمَلُونَ بِمَا لَا تَعْلَمُونَ وَيَعْمَلُونَ بِمَا لَا تَعْرِفُونَ فَمَنْ قَادَهُمْ وَنَاصَحَهُمْ فَأُولَئِكَ قَدْ هَلَكُوا وَأَهْلَكُوا وَخَالِطُوهُمْ بِأَجْسَادِكُمْ وَزَايِلُوهُمْ بِأَعْمَالِكُمْ وَاشْهَدُوا عَلَى الْمُحْسِنِ أَنَّهُ مُحْسِنٌ وَعَلَى الْمُسِيءِ بِأَنَّهُ مُسِيءٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمَرْوَزِيِّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ، اپنے خطبے کے دوران ہم سے یہ ارشاد فرمایا : ” خبردار ! عنقریب میرا بلاوا آ جائے گا اور میں نے جانا ہو گا ، میرے بعد ایسے لوگ حکمران بنیں گے ، جو اُسی طرح کے عمل کریں گے ، جن سے تم واقف ہو اور ایسے عمل کریں گے ، جو تمہیں معروف لگیں گے ، اُن لوگوں کی فرمانبرداری کرنا ہی حقیقی فرمانبرداری ہے ، کچھ عرصے تک اسی طرح کی صورت حال رہے گی ، پھر اُن کے بعد ایسے لوگ تمہارے حکمران بن جائیں گے ، جو ایسے عمل کریں گے جو تمہارے علم کے مطابق ( ٹھیک ) نہیں ہوں گے اور وہ ایسے عمل کریں گے جو تمہارے نزدیک معروف ( یعنی نیکی ) نہیں ہوں گے جو شخص اُن کے ساتھ چلے گا اور ان کی خیرخواہی کرے گا ، تو یہ لوگ خود ہلاکت کا شکار ہوں گے اور دوسروں کو ہلاکت کا شکار کریں گے ، تم جسمانی طور پر اُن سے ملتے رہنا ، لیکن اپنے اعمال کے حوالے سے ، اُن سے الگ رہنا اور اچھائی کرنے والے کے بارے میں یہ گواہی دینا کہ وہ اچھائی کرنے والا ہے اور برائی کرنے والے کے بارے میں یہ گواہی دینا کہ وہ برائی کرنے والا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ، اپنے استاد محمد بن علی مروزی کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9201
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 9202
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " ثَلَاثٌ أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي : اسْتِشْفَاءٌ بِالْأَنْوَاءِ ، وَحَيْفُ السُّلْطَانِ ، وَتَكْذِيبٌ بِالْقَدَرِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَأَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . وَلِهَذَا الْحَدِيثِ طُرُقٌ فِي الْقَدَرِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : تین امور کے حوالے سے ، مجھے اپنی امت کے بارے میں اندیشہ ہے ، ستاروں کی وجہ سے شفاء کے حصول کی توقع رکھنا حکمرانوں پر حیف اور تقدیر کا انکار کرنا “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ ، امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن قاسم ہے ، جسے یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے ، امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، اس حدیث کے مختلف طرق ہیں ، جو تقدیر سے متعلق باب میں مذکور ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9202
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (112) أخرجه أبو يعلى فى المسند (7470 و 7462) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1853) أخرجه احمد فى المسند (89/5)»
حدیث نمبر: 9203
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ بِلَالٍ قَالَ : رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُسْرٍ - صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ قَاعِدٌ فِي الْمَسْجِدِ وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا مُسِنًّا فَجَاءَهُ غُلَامُهُ فَقَالَ : يَا مَوْلَايَ هَذِهِ جِمَالُكَ قَدْ أُخِذَتْ فِي سُخْرَةِ الرِّيلَةِ - يَعْنِي دَارَ الْعَبَّاسِ بْنِ الْوَلِيدِ الَّتِي عِنْدَ بَابِ مَسْجِدِ حِمْصَ - وَكَانَ مَعَهُ رَجُلَانِ فَأَخَذَ بِضَبْعَيْهِ حَتَّى قَامَ ، قَالَ عُمَرُ : فَمَشَيْتُ مَعَهُ حَتَّى أَتَى الرِّيلَةَ فَإِذَا جِمَالُهُ مُنَاخَةٌ وَإِذَا هُمْ يَسُفُّونَ التُّرَابَ بِالْغَرَائِرِ فَأَخَذَ الْغِرَارَةَ وَجَعَلَ يَفْتَحُ لَهُمْ فَقَالَ نَاسٌ مِنَ النَّصَارَى : هَذَا صَاحِبُ نَبِيِّكُمْ تَصْنَعُونَ بِهِ هَذَا لَوْ رَأَيْنَا رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ عِيسَى حَمَلْنَاهُ عَلَى رُؤُوسِنَا ، فَأَهْوَى الْقَوْمُ لِيَأْخُذُوهُ فَقَالَ : دَعُونِي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا جَارَتْ عَلَيْكُمُ الْوُلَاةُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ . وَعُمَرُ بْنُ بِلَالٍ جَهِلَهُ ابْنُ عَدِيٍّ . ¤
محمد محی الدین
عمر بن بلال بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ، سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کو دیکھا ، وہ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے ، وہ ایک بوڑھے ، عمر رسیدہ شخص تھے ، اُن کا غلام اُن کے پاس آیا اور بولا: اے میرے آقا ! آپ کا یہ اونٹ ” سخرہ ریلہ “ میں پکڑا گیا ہے ( راوی بیان کرتے ہیں : ) یعنی مسجد کے دروازے کے پاس موجود ، عباس بن ولید کے گھر میں پکڑا گیا ہے ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ دو افراد تھے ، انہوں نے دونوں پہلوؤں سے انہیں پکڑا ، وہ کھڑے ہوئے ، عمر بن بلال کہتے ہیں : میں ان کے ساتھ چل کر گیا ، وہ آئے ، وہاں اُن کا اونٹ بندھا ہوا تھا ، اُن لوگوں نے برتنوں میں ڈال کر ان پر مٹی پھینکنا شروع کی ، انہوں نے برتن پکڑا اور ان لوگوں کے لیے اس کو کھولنا شروع کر دیا ، تو عیسائیوں سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد نے یہ کہا: یہ تمہارے نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے صحابی ہیں ، اور تم ان کے ساتھ یہ سلوک کر رہے ہو ؟ اگر ہم نے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے اصحاب میں سے کسی شخص کو پایا ہوتا ، تو ہم انہیں سروں پر اُٹھاتے ، پھر کچھ لوگ انہیں پکڑنے کے لیے آگے بڑھے ، تو انہوں نے فرمایا : مجھے چھوڑ دو ! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اُس وقت تمہارا کیا عالم ہو گا ؟ جب تمہارے حکمران تم پر ظلم کریں گے “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، عمر بن بلال نامی راوی کو ابن عدی نے مجہول قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9203
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 9204
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ أَئِمَّةِ الْحَرَجِ الَّذِينَ يُخْرِجُونَ أُمَّتِي إِلَى الظُّلْمِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اے اللہ ! میں ، حرج ( یعنی قتل و غارتگری کرنے ) والے حکمرانوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، جو میری امت کو ظلم کی طرف لے جائیں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9204
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 9205
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " ثَلَاثَةٌ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ : رَجُلٌ أَتَى قَوْمًا عَلَى إِسْلَامٍ دَامِجٍ فَشَقَّ عَصَاهُمْ حَتَّى اسْتَحَلُّوا الْمَحَارِمَ وَسَفَكُوا الدِّمَاءَ ، وَسُلْطَانٌ جَائِرٌ قَالَ : مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ " . وَسَكَتَ سُفْيَانُ عَنِ الثَّالِثَةِ فَلَمْ يَذْكُرْهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ، وَهُوَ صَدُوقٌ كَثِيرُ الْوَهْمِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قیامت کے دن ، اللہ تعالیٰ تین قسم کے لوگوں کی طرف نظر رحمت نہیں کرے گا اور ان کا تزکیہ نہیں کرے گا اور ان لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہو گا ، ( پہلا ) وہ شخص ، جو کچھ لوگوں کے پاس آئے اور وہ لوگ اسلام پر گامزن ہوں ، اور پھر وہ اُن کے عصا کو چیر دے یہاں تک کہ وہ لوگ حرام چیزوں کو حلال قرار دیں اور خون بہائیں ، اور ( دوسرا شخص ) وہ ظالم حکمران ، جو یہ کہے کہ جس نے میری اطاعت کی ، اُس نے اللہ کی اطاعت کی ، اور جس نے میری نافرمانی کی ، اُس نے اللہ کی نافرمانی کی “ ۔ سفیان نامی راوی نے تیسرے شخص کا ذکر نہیں کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن بشار رمادی ہے اور وہ صدوق ہے اور بکثرت وہم کا شکار ہونے والا شخص ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9205
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 9206
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " سَيَكُونُ بَعْدِي أَئِمَّةٌ يُعْطُونَ الْحِكْمَةَ عَلَى مَنَابِرِهِمْ ، فَإِذَا نَزَلُوا نُزِعَتْ مِنْهُمْ ، وَأَجْسَادُهُمْ شَرٌّ مِنَ الْجِيَفِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سَعْدُ بْنُ مَسْلَمَةَ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : يُخْطِئُ ، وَلَيْثٌ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” عنقریب میرے بعد ایسے حکمران آئیں گے ، جو منبروں پر حکمت کی باتیں کریں گے اور جب وہ ( منبروں سے ) نیچے آئیں گے ، تو حکمت اُن سے الگ ہو جائے گی ، اُن کے جسم ، مردار سے بدتر ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعد بن مسلمہ ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے ، وہ یہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے ، اور لیث نامی راوی مدلس ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9206
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 9207
وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ بَعْدِي أَئِمَّةً إِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ أَكْفَرُوكُمْ وَإِنْ عَصَيْتُمُوهُمْ قَتَلُوكُمْ أَئِمَّةُ الْكُفْرِ وَرُؤُوسُ الضَّلَالَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ زِيَادُ بْنُ الْمُنْذِرِ وَهُوَ كَذَّابٌ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میرے بعد ایسے حکمران ہوں گے کہ اگر تم ان کی اطاعت کرو گے ، تو وہ تمہاری ناشکری کریں گے ، اور اگر تم ان کی نافرمانی کرو گے ، تو وہ تمہیں قتل کروا دیں گے ، وہ کفر کے پیشوا اور گمراہی کے سربراہ ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زیاد بن منذر ہے اور وہ کذاب اور متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9207
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (7440)»
حدیث نمبر: 9208
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " خُذُوا الْعَطَاءَ مَا دَامَ عَطَاءً ، فَإِذَا صَارَ رِشْوَةً عَلَى الدِّينِ فَلَا تَأْخُذُوهُ ، وَلَسْتُمْ بِتَارِكِيهِ يَمْنَعُكُمُ الْفَقْرَ وَالْحَاجَةَ ، ( أَلَا إِنَّ رَحَا بَنِي مَرَحٍ قَدْ دَارَتْ ، وَقَدَ قُتِلَ بَنُو مَرَحٍ ) أَلَا إِنَّ رَحَا الْإِسْلَامِ دَائِرَةٌ ، فَدُورُوا مَعَ الْكِتَابِ حَيْثُ دَارَ ، أَلَا إِنَّ الْكِتَابَ وَالسُّلْطَانَ سَيَفْتَرِقَانِ فَلَا تُفَارِقُوا الْكِتَابَ . أَلَا إِنَّهُ سَيَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يَقْضُونَ لِأَنْفُسِهِمْ مَا لَا يَقْضُونَ لَكُمْ ، فَإِنْ عَصَيْتُمُوهُمْ قَتَلُوكُمْ وَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ أَضَلُّوكُمْ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ نَصْنَعُ ؟ قَالَ : " كَمَا صَنَعَ أَصْحَابُ عِيسَى بْنِ مَرْيَمَ ، نُشِرُوا بِالْمَنَاشِيرِ وَحُمِلُوا عَلَى الْخَشَبِ مَوْتٌ فِي طَاعَةِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ حَيَاةٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَيَزِيدُ بْنُ مَرْثَدٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ مُعَاذٍ ، وَالْوَضِينُ بْنُ عَطَاءٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” سرکاری عطیات ، اُس وقت تک وصول کرو ، جب تک وہ عطیات رہیں ، جب وہ دین کے بارے میں رشوت بن جائیں ، تو تم انہیں نہ لو ، لیکن تم انہیں نہیں چھوڑو گے ، وہ تمہیں غربت اور حاجت مندی سے بچاتے ہیں ، خبردار ! بنومرح کی چکی گھومتی رہی اور پھر بنومرح قتل ہو گئے ، اور اسلام کی چکی گھومتی رہے گی ، تو تم کتاب کے حکم کے ہمراہ گھومتے رہو ، خواہ وہ جہاں بھی جائے ، خبردار ! کتاب اور حکمران ، عنقریب جدا ہو جائیں گے ، تو تم کتاب سے جدا نہ ہونا ، خبردار ! عنقریب تم پر ایسے حکمران آئیں گے ، جو اپنے لیے ایسے فیصلے دیں گے ، جو وہ تمہارے حق میں نہیں دیں گے ، اگر تم اُن کی نافرمانی کرو گے ، تو وہ تمہیں قتل کروا دیں گے ، اور اگر تم ان کی اطاعت کرو گے ، تو وہ تمہیں گمراہ کر دیں گے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر ہمیں کیا کرنا چاہیے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اُسی طرح ( کرنا چاہیے ) جس طرح سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے ساتھیوں نے کیا تھا ، ان لوگوں کو آروں کے ذریعے چیر دیا گیا اور سولی پر لٹکا دیا گیا انہوں نے موت کو گلے لگا لیا ، لیکن دین کو نہیں چھوڑا ) اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی حالت میں مر جانا اللہ تعالیٰ کی معصیت کی حالت میں زندہ رہنے سے بہتر ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، یزید بن مرثد نامی راوی نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، اور وضین بن عطاء نامی راوی کو ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9208
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (749) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (90/20)»
حدیث نمبر: 9209
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْأُمَرَاءَ فَقَالَ : " يَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ إِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ أَدْخَلُوكُمُ النَّارَ وَإِنْ عَصَيْتُمُوهُمْ قَتَلُوكُمْ " . فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ سَمِّهِمْ لَنَا لَعَلَّنَا نَحْثُوا فِي وُجُوهِهِمُ التُّرَابَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَعَلَّهُمْ يَحْثُونَ فِي وَجْهِكَ وَيَفْقَؤُونَ عَيْنَكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ سُنَيْدُ بْنُ دَاوُدَ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَأَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکمرانوں کا ذکر کرتے ہوئے ، ارشاد فرمایا : ” تم پر ایسے حکمران آئیں گے ، اگر تم ان کی اطاعت کرو گے ، تو وہ تمہیں جہنم میں داخل کروا دیں گے اور اگر تم ان کی نافرمانی کرو گے ، تو وہ تمہیں قتل کروا دیں گے ، حاضرین میں سے ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اُن کا حلیہ ( یا اوصاف ) ہمارے سامنے بیان کریں ، تاکہ ہم اُن کے چہروں پر مٹی ڈال سکیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہو سکتا ہے ، وہ تمہارے چہرے پر مٹی ڈال دیں ، اور وہ تمہاری آنکھ کو پھوڑ دیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سفید بن داؤد ہے ، اسے امام أحمد نے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن حبان اور ابوحاتم نے اسے ثقہ کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9209
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 9210
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " إِنَّهَا سَتَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ مِنْ بَعْدِي يَعِظُونَ بِالْحِكْمَةِ عَلَى مَنَابِرَ فَإِذَا نَزَلُوا اخْتُلِسَتْ مِنْهُمْ وَقُلُوبُهُمْ أَنْتَنُ مِنَ الْجِيَفِ " . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ( ایک مرتبہ ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ارشاد فرمایا : ” میرے بعد تم پر ایسے حکمران آئیں گے ، جو منبروں پر حکمت کے مطابق وعظ کریں گے اور جب وہ ( منبروں سے ) نیچے اُتریں گے ، تو اُن کے دلوں سے حکمت کو اُچک لیا جائے گا ، اُن کے قلوب مردار سے زیادہ بدبودار ہوں گے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9210
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 9211
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَيَسُوقَنَّ رَجُلٌ مِنْ قَحْطَانَ النَّاسَ بِعَصَاهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى بْنِ مَيْسَرَةَ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قحطان سے تعلق رکھنے والا ایک شخص اپنے عصا کے ذریعے لوگوں کو ضرور ہانک کر لے جائے گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسحاق ہے اور وہ مدلس ہے اور ایک راوی حسین بن عیسیٰ بن میسرہ ہے ، میں اُس سے واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9211
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13198)»
حدیث نمبر: 9212
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " لَغَيْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفَنِي عَلَى أُمَّتِي " قَالَهَا ثَلَاثًا قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا هَذَا الَّذِي غَيْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفَكَ عَلَى أُمَّتِكَ ؟ قَالَ : " أَئِمَّةً مُضِلِّينَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلتا ہوا جا رہا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اپنی اُمت کے بارے میں ، مجھے دجال کے علاوہ ، دوسرے لوگوں سے زیادہ اندیشہ ہے “ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! دجال کے علاوہ ، وہ چیز کیا ہے ؟ جس سے آپ کو اپنی امت کے حوالے سے زیادہ اندیشہ ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” گمراہ کرنے والے حکمران “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اُس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9212
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (145/5)»
حدیث نمبر: 9213
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ نَائِمٌ فَذَكَرْنَا الدَّجَّالَ فَاسْتَيْقَظَ مُحْمَرًّا وَجْهُهُ فَقَالَ : " غَيْرُ الدَّجَّالِ ، أَخْوَفُ عَلَى أُمَّتِي عِنْدِي عَلَيْكُمْ : أَئِمَّةً مُضِلِّينَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو رہے تھے ، ہم نے دجال کا ذکر کیا ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے ، تو آپ کا چہرہ سرخ تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگوں کے حوالے سے ، میرے نزدیک ، میری امت کے بارے میں ، دجال کے علاوہ ( دوسرے لوگوں ) سے زیادہ اندیشہ ہے اور وہ گمراہ کرنے والے حکمران ہیں “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9213
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (466) اخرجه احمد فى المسند (765)»
حدیث نمبر: 9214
وَعَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعْدٍ - وَكَانَ عُمَرُ وَلَّاهُ حِمْصَ - قَالَ : قَالَ عُمَرُ لِكَعْبٍ : إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ أَمْرٍ فَلَا تَكْتُمْنِي قَالَ : وَاللَّهِ مَا أَكْتُمُكَ شَيْئًا أَعْلَمُهُ قَالَ : مَا أَخْوَفُ مَا تَخَافُ عَلَى أُمَّةِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : أَئِمَّةً مُضِلِّينَ . قَالَ عُمَرُ : صَدَقْتَ ، قَدْ أَسَرَّ ذَلِكَ إِلَيَّ وَأَعْلَمَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عمیر بن سعد ، جنہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ” حمص “ کا والی مقرر کیا تھا ، وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کعب ( احبار ) سے کہا: میں تم سے ایک چیز کے بارے میں دریافت کرنے لگا ہوں ، تم نے وہ مجھ سے نہیں چھپانی ، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم ! میں آپ سے ایسی کوئی چیز نہیں چھپاؤں گا ، جس کا میں علم رکھتا ہوں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہیں سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے حوالے سے ، سب سے زیادہ اندیشہ کس بات کا ہے ؟ تو کعب ( احبار ) نے جواب دیا : گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم نے ٹھیک کہا: ہے ، نبی اکرم نے مجھے اس بارے میں بتایا تھا ، اور مجھے راز داری کے ساتھ یہ بات بتائی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9214
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (293)»
حدیث نمبر: 9215
وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّمَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي الْأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے اپنی امت کے بارے میں گمراہ کرنے والے حکمرانوں کے حوالے سے اندیشہ ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9215
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (278/5)»
حدیث نمبر: 9216
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : عَهِدَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي الْأَئِمَّةُ الْمُضِلُّونَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ رَاوِيَانِ لَمْ يُسَمَّيَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ بات بتائی تھی : ” مجھے اپنی امت کے بارے میں ، سب سے زیادہ اندیشہ ، گمراہ کرنے والے حکمرانوں کے حوالے سے ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں دو راوی ایسے ہیں ، جن کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9216
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (441/6)»
حدیث نمبر: 9217
وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنِّي لَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي إِلَّا الْأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ ، وَإِذَا وُضِعَ السَّيْفُ فِي أُمَّتِي لَا يُرْفَعُ عَنْهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے اپنی امت کے بارے میں ، صرف گمراہ کرنے والے حکمرانوں کے حوالے سے اندیشہ ہے ، جب میری امت میں تلوار رکھ دی جائے گی ، تو قیامت کے دن تک وہ اُن سے نہیں اٹھائی جائے گی “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9217
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (123/4)»
حدیث نمبر: 9218
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَسْتُ أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي جُوعًا يَقْتُلُهُمْ وَلَا عَدُوًّا يَجْتَاحُهُمْ وَلَكِنِّي أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي أَئِمَّةً مُضِلِّينَ ، إِنْ أَطَاعُوهُمْ فَتَنُوهُمْ وَإِنْ عَصَوْهُمْ قَتَلُوهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” مجھے اپنی امت کے بارے میں یہ اندیشہ نہیں ہے ، کہ بھوک انہیں قتل کر دے گی ، یا دشمن انہیں ختم کر دے گا ، مجھے اپنی امت کے بارے میں ، گمراہ کرنے والے حکمرانوں کے حوالے سے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ اگر ان حکمرانوں کی اطاعت کریں گے ، تو وہ ( حکمران ) انہیں آزمائش کا شکار کر دیں گے ، اور اگر وہ ( لوگ ) اُن ( حکمرانوں ) کی نافرمانی کریں گے ، تو وہ حکمران انہیں قتل کروا دیں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9218
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7653)»
حدیث نمبر: 9219
وَعَنْ أَبِي الْأَعْوَرِ السُّلَمِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي شُحٌّ مُطَاعٌ وَهَوًى مُتَّبَعٌ وَإِمَامٌ ضَالٌّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابواعور سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” مجھے اپنی امت کے بارے میں ، سب سے زیادہ اندیشہ اس بات کا ہے ، کہ کنجوسی کی پیروی کی جائے گی ، نفسانی خواہش کے پیچھے چلا جائے گا ، اور گمراہ کرنے والے حکمران ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9219
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1602)»
حدیث نمبر: 9220
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنِّي أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي مِنْ بَعْدِي مِنْ أَعْمَالٍ ثَلَاثَةٍ " . قَالُوا : مَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " زَلَّةُ الْعَالِمِ ، وَحُكْمُ جَائِرٍ ، وَهَوًى مُتَّبَعٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اپنے بعد ، اپنی امت کے بارے میں ، مجھے تین قسم کے اعمال کے حوالے سے اندیشہ ہے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ کون سے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : عالم کی لغزش ، ظالم کی حکمرانی اور نفسانی خواہش کی پیروی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن عبداللہ مزنی ہے اور وہ ضعیف ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9220
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (182) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (17/17)»
حدیث نمبر: 9221
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ شَرَّ الْوُلَاةِ الْحُطَمَةُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی االلہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سب سے برے حکمران ، وہ ہیں جو ( لوٹ مار کر کے کھانے کے باوجود ) سیر نہ ہوں“ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم بن ابوامیہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9221
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1604)»
حدیث نمبر: 9222
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كَأَنَّكُمْ بِرَاكِبٍ قَدْ أَتَاكُمْ فَيَنْزِلُ بِكُمْ فَيَقُولُ : الْأَرْضُ أَرْضُنَا وَالْمِصْرُ مِصْرُنَا وَإِنَّمَا أَنْتُمْ عَبِيدُنَا وَأُجَرَاؤُنَا ، فَحَالَ بَيْنَ الْأَرَامِلِ وَالْيَتَامَى وَمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى إِمَامِهِمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ عَنْبَسَةُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ کسی سوار کے سامنے ہو گے ، جو تمہارے پاس آئے گا ، تمہارے پاس پڑاؤ کرے گا اور پھر یہ کہے گا : یہ زمین ہماری زمین ہے ، یہ شہر ، ہمارا شہر ہے ، اور تم لوگ ہمارے غلام اور مزدور ہو ، اور پھر وہ شخص بیوہ اور یتیموں ، اور اس مال کے درمیان رکاوٹ بن جائے گا ، جو اللہ تعالیٰ نے اُن لوگوں کے حکمران کو مال غنیمت کے طور پر عطا کیا ہوا تھا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عنبسہ بن ابوصغیرہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9222
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 9223
وَعَنْ مَهْدِيٍّ قَالَ : قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : كَيْفَ أَنْتَ يَا مَهْدِيُّ إِذَا ظُهِرَ بِخِيَارِكُمْ وَاسْتُعْمِلَ عَلَيْكُمْ أَحْدَاثُكُمْ وَشِرَارُكُمْ وَصُلِّيَتِ الصَّلَاةُ لِغَيْرِ وَقْتِهَا ؟ قُلْتُ : لَا أَدْرِي . قَالَ : لَا تَكُنْ جَابِيًا وَلَا عَرِيفًا وَلَا شُرَطِيًّا وَلَا بَرِيدًا . وَصَلِّ الصَّلَاةَ لِمِيقَاتِهَا . ¤ وَمَهْدِيٌّ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
مہدی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے مہدی ! اُس وقت تمہارا کیا بنے گا ؟ جب تمہارے بہترین لوگ مغلوب ہو جائیں گے اور تم پر کم عمر اور برے لوگ حکمران بن جائیں گے ، اور نماز کو اُس کے مخصوص وقت کے علاوہ ادا کیا جائے گا ، میں نے جواب دیا : مجھے نہیں معلوم ! انہوں نے فرمایا : تم جابی ، یا عریف ، یا کوتوال ، یا برید ( یعنی سرکاری اہلکار ) نہ بننا ، اور نماز کو اس کے مخصوص وقت پر ادا کر لینا ۔ مہدی نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9223
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9498)»
حدیث نمبر: 9224
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُصَلِّيهَا مَعَهُمْ إِذَا أَخَّرُوا قَلِيلًا وَيَرَى أَنَّهُمْ يَتَحَمَّلُونَ إِثْمَ ذَلِكَ . ¤ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ إِبْرَاهِيمَ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت ، جو ابراہیم نخعی کے حوالے سے منقول ہے ، اس میں راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اُن ( حکمران ) لوگوں کے ساتھ نماز اُس وقت ادا کر لیتے تھے ، جب وہ لوگ تھوڑی سی تاخیر کرتے تھے اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ یہ سمجھتے تھے کہ اس کا گناہ اُن لوگوں کے سر ہو گا ۔ اس روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، تاہم ابراہیم نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9224
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9499)»
حدیث نمبر: 9225
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَكُونُ عَلَيْهِمْ أُمَرَاءُ سُفَهَاءُ ، يُقَدِّمُونَ شِرَارَ النَّاسِ وَيُظْهِرُونَ بِخِيَارِهِمْ ، وَيُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ مَوَاقِيتِهَا فَمَنْ أَدْرَكَ مِنْكُمْ فَلَا يَكُونَنَّ عَرِيفًا وَلَا شُرَطِيًّا وَلَا جَابِيًا وَلَا خَازِنًا " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَسْعُودٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” لوگوں پر ایسا زمانہ ضرور آئے گا کہ جب اُن کے حکمران بے وقوف لوگ ہوں گے ، وہ برے لوگوں کو آگے کریں گے اور اچھے لوگوں کو پیچھے کر دیں گے ، وہ نماز کو اس کے مخصوص وقت سے تاخیر سے ادا کریں گے ، تم میں سے جو شخص اُن کا زمانہ پائے ، وہ عریف ، یا کوتوال ، یا جابی ، یا خزانچی ( یعنی ریاستی اہلکار ) نہ بنے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبدالرحمن بن مسعود کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9225
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلي فى المسند (1115)»
حدیث نمبر: 9226
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : وُلِدَ لِأَخِي أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غُلَامٌ فَسَمَّوْهُ الْوَلِيدَ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سَمَّيْتُمُوهُ بِأَسْمَاءِ فَرَاعِنَتِكُمْ لَيَكُونَنَّ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ : الْوَلِيدُ لَهْوَ أَشَّرُّ عَلَى هَذِهِ الْأُمَّةِ مِنْ فِرْعَوْنَ لِقَوْمِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے بھائی کے ہاں بچہ پیدا ہوا ، اُن لوگوں نے اس کا نام ” ولید “ رکھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم نے اس کا نام اپنے فرعونوں کے نام کے مطابق رکھا ہے ، عقریب اس امت میں ایک شخص آئے گا ، جس کا نام ” ولید “ ہو گا ، اور وہ اس اُمت کے لیے اس سے زیادہ برا ہو گا ، جتنا فرعون اپنی قوم کے لئے برا تھا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9226
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (109)»
حدیث نمبر: 9227
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَيَرْعُفَنَّ عَلَى مِنْبَرِي جَبَّارٌ مِنْ جَبَابِرَةِ بَنِي أُمَيَّةَ فَيَسِيلُ رُعَافُهُ " . ¤ فَحَدَّثَنِي مَنْ رَأَى عَمْرَو بْنَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِيَ رَعَفَ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى سَالَ رُعَافُهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میرے اس منبر پر ، بنوامیہ کے ایک ظالم حکمران کی ضرور نکسیر پھوٹے گی اور اُس کی نکسیر بہنے لگے گی “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : مجھے اُس شخص نے یہ بات بتائی ہے ، جس نے عمرو بن سعید بن العاص کو دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر اس کی نکسیر پھوٹ پڑی اور وہ بہنے لگی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9227
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (522/2)»
حدیث نمبر: 9228
وَعَنْ أَبِي يَحْيَى قَالَ : كُنْتُ بَيْنَ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنُ وَمَرْوَانُ يَتَشَاتَمَانِ فَجَعَلَ الْحَسَنُ يَكُفُّ الْحُسَيْنَ فَقَالَ مَرْوَانُ : أَهْلُ بَيْتٍ مَلْعُونُونَ . فَغَضِبَ الْحَسَنُ وَقَالَ : أَقُلْتَ أَهْلُ بَيْتٍ مَلْعُونُونَ ؟ فَوَاللَّهِ لَعَنَكَ اللَّهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنْتَ فِي صُلْبِ أَبِيكَ . . ¤
محمد محی الدین
ابویحیی بیان کرتے ہیں : میں ، سیدنا امام حسن رحمہ اللہ رضی اللہ عنہ سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ اور مروان کے پاس موجود تھا ، سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ اور مروان کے درمیان تلخ کلامی شروع ہوئی ، سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کو روکنا شروع کیا ، مروان نے کہا: اہل بیت ملعون ہیں ، تو سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ غصے میں آ گئے اور بولے : کیا تم یہ کہہ رہے ہو کہ اہل بیت ملعون ہیں ؟ اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی تم پر لعنت کی ہے ، جبکہ تم اُس وقت اپنے باپ کی پشت میں تھے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9228
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (6764) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2740)»
حدیث نمبر: 9229
وَفِي رِوَايَةٍ : فَقَالَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ : وَاللَّهِ ثُمَّ وَاللَّهِ لَقَدْ لَعَنَكَ اللَّهُ . وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَاللَّفْظُ لَهُ وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَقَدْ تَغَيَّرَ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! پھر اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ نے تم پر لعنت کی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد کی روایت حسب سابق ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، روایت کے الفاظ اُن کے نقل کردہ ہیں اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو تغیر کا شکار ہو گیا تھا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9229
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (6766)»
حدیث نمبر: 9230
وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ وَهُوَ مُسْتَنِدٌ إِلَى الْكَعْبَةِ وَهُوَ يَقُولُ : وَرَبِّ هَذِهِ الْكَعْبَةِ لَقَدْ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فُلَانًا وَمَا وُلِدَ مِنْ صُلْبِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : لَقَدْ لَعَنَ اللَّهُ الْحَكَمَ - وَمَا وُلِدَ - عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ ، وَعِنْدَهُ رِوَايَةٌ كَرِوَايَةِ أَحْمَدَ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
امام شعبی بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو سنا ، انہوں نے اُس وقت خانہ کعبہ کے ساتھ ٹیک لگائی ہوئی تھی اور وہ یہ بیان کر رہے تھے : رب کعبہ کی قسم ! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تم نے فلاں شخص پر لعنت کی ہے اور وہ ابھی اپنے باپ کی پشت سے پیدا ہی نہیں ہوا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اللہ تعالیٰ نے ، اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ، حکم پر لعنت کی تھی ، حالانکہ وہ اس وقت پیدا ہی نہیں ہوا تھا ۔ امام طبرانی نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، انہوں نے ایک روایت امام أحمد کی روایت کی مانند بھی نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9230
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1623) اخرجه احمد فى المسند (5/4)»
حدیث نمبر: 9231
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا بَلَغَ بَنُو أَبِي فُلَانٍ ثَلَاثِينَ رَجُلًا اتَّخَذُوا مَالَ اللَّهِ دُوَلًا ، وَدِينَ اللَّهِ دَخَلًا ، وَعِبَادَ اللَّهِ خَوَلًا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا بَلَغَ بَنُو أَبِي الْعَاصِي " . ¤ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب بنوابی فلاں ، تیس کی تعداد میں پہنچ جائیں گے ، تو وہ اللہ تعالیٰ کے مال کو ذاتی دولت بنا لیں گے ، اللہ تعالیٰ کے دین میں دخل دیں گے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کو غلام بنا لیں گے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” جب ابوالعاص کے بچے ، تیس تک پہنچ جائیں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے بھی نقل کی ہے اس میں ضعیف ہونا پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9231
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1620 و 1621) اخرجه أبو يعلى فى المسند (1152) اخرجه احمد فى المسند (80/3)»
حدیث نمبر: 9232
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ : إِذَا بَلَغَ بَنُو أَبِي الْعَاصِي ثَلَاثِينَ كَانَ دِينُ اللَّهِ دَخَلًا ، وَمَالُ اللَّهِ دُوَلًا ، وَعِبَادُ اللَّهِ خَوَلًا . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى مِنْ رِوَايَةِ إِسْمَاعِيلَ وَلَمْ يَنْسُبْهُ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ وَلَمْ أَعْرِفْ إِسْمَاعِيلَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب ابوالعاص کے بچے ، تیس تک پہنچ جائیں گے ، تو اللہ تعالیٰ کے دین میں دخل دیا جائے گا ، اللہ تعالیٰ کا مال ، ذاتی دولت بن جائے گا ، اور اللہ تعالیٰ کے بندے ، غلام بن جائیں گے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اسماعیل کی نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، جو اُس نے ابن عجلان سے روایت کی ہے ، انہوں نے اسماعیل کا اسم منسوب بیان نہیں کیا ہے ، اور میں اسماعیل سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9232
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (6523)»
حدیث نمبر: 9233
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ ذَهَبَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِي يَلْبَسُ ثِيَابَهُ لِيَلْحَقَنِي فَقَالَ وَنَحْنُ عِنْدُهُ " لِيَدْخُلَنَّ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ لَعِينٌ " فَوَاللَّهِ مَا زِلْتُ وَجِلًا أَتَشَوَّفُ خَارِجًا وَدَاخِلًا حَتَّى دَخَلَ فُلَانٌ - يَعْنِي الْحَكَمَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : حَتَّى دَخَلَ الْحَكَمُ بْنُ أَبِي الْعَاصِي . ¤ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کپڑے پہننے ( یعنی تبدیل کرنے ) کے لئے گئے ، اُن کا ہم سے آ کے ملنے کا ارادہ تھا ، ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ابھی تم لوگوں کے سامنے ایک لعین شخص آئے گا ، سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! میں پریشانی کے عالم میں ، ہر آنے جانے والے کو غور سے دیکھتا رہا ، یہاں تک کہ فلاں شخص آ گیا ، اُن کی مراد حکم تھا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” یہاں تک کہ حکم بن ابوالعاص آ گیا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9233
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1625) اخرجه احمد فى المسند (6520)»