مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الخلافة— خلافت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي أَئِمَّةِ الظُّلْمِ وَالْجَوْرِ وَأَئِمَّةِ الضَّلَالَةِ . باب: ظلم کرنے والے حکمران اور گمراہی والے حکمران
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ أَنَّهُ كَانَ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ مَرْوَانُ فَكَلَّمَهُ فِي حَوَائِجِهِ ، فَقَالَ : اقْضِ حَاجَتِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، فَوَاللَّهِ إِنَّ مُؤْنَتِي لَعَظِيمَةٌ ، أَصْبَحْتُ أَبَا عَشْرَةٍ ، وَأَخَا عَشْرَةٍ ، وَعَمَّ عَشْرَةٍ ، فَلَمَّا أَدْبَرَ مَرْوَانُ ، وَابْنُ عَبَّاسٍ جَالِسٌ مَعَ مُعَاوِيَةَ عَلَى سَرِيرِهِ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : أَنْشُدُكَ اللَّهَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ أَمَا تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا بَلَغَ بَنُو أَبِي الْحَكَمِ ثَلَاثِينَ رَجُلًا اتَّخَذُوا آيَاتِ اللَّهِ بَيْنَهُمْ دُوَلًا ، وَعِبَادَ اللَّهِ خَوَلًا ، وَكِتَابَهُ دَخَلًا ، فَإِذَا بَلَغُوا سَبْعَةً وَتِسْعِينَ وَأَرْبَعَمِائَةٍ كَانَ هَلَاكُهُمْ أَسْرَعَ مِنَ التَّمْرَةِ " قَالَ : اللَّهُمَّ نَعَمْ . فَذَكَرَ مَرْوَانُ حَاجَةً لَهُ ، فَرَدَّ مَرْوَانُ عَبْدَ الْمَلِكِ إِلَى مُعَاوِيَةَ فَكَلَّمَهُ فِيهَا فَلَمَّا أَدْبَرَ قَالَ مُعَاوِيَةُ : أَنْشُدُكَ اللَّهَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ أَمَا تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَكَرَ هَذَا فَقَالَ : " أَبُو الْجَبَابِرَةِ الْأَرْبَعَةِ ؟ " قَالَ : اللَّهُمَّ نَعَمْ . فَلِذَلِكَ ادَّعَى مُعَاوِيَةُ زِيَادًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ . ¤عبداللہ بن موہب بیان کرتے ہیں : وہ سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے ، مروان اُن کے پاس آیا اور اپنی ضروریات کے بارے میں اُن کے ساتھ بات چیت کی ، اُس نے کہا: اے امیرالمؤمنین ! میری حاجت پوری کر دیں ، اللہ کی قسم میرے اخراجات زیادہ ہیں ، میں دس افراد کا باپ ہوں ، دس افراد کا بھائی ہوں ، دس افراد کا چچا ہوں ، جب مروان چلا گیا ، تو اس وقت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ اُن کے پلنگ پر بیٹھے ہوئے تھے ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے ابن عباس ! میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں کیا آپ یہ بات جانتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب ابوالحکم کے بیٹے تیسں تک پہنچ جائیں گے تو وہ اپنے درمیان اللہ تعالیٰ کی آیات کو دولت بنا لیں گے ، اللہ کے بندوں کو غلام بنا لیں گے اور اس کی کتاب میں دخل دیں گے اور جب وہ چار سو ستانوے ہو جائیں گے ، تو اُن کی ہلاکت کھجور سے زیادہ تیزی سے ہو گی ، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : اللہ جانتا ہے ، مروان نے اپنی حاجت کا ذکر کیا تھا ، پھر مروان نے عبدالملک کو دوبارہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا ، اس نے ان کے ساتھ اس بارے میں بات چیت کی ، جب وہ واپس چلا گیا ، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے ابن عباس ! میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں کیا آپ یہ بات جانتے ہیں ؟ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ذکر کیا تھا اور یہ فرمایا تھا : ” یہ چار ظالموں کا باپ ہے “ ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : اللہ جانتا ہے ، جی ہاں ! راوی بیان کرتے ہیں : اسی وجہ سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے زیاد کا دعوی کیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس میں ضعیف ہونا پایا جاتا ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔