حدیث نمبر: 9251
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّهَا سَتَخْرُجُ رَايَتَانِ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ لِبَنِي الْعَبَّاسِ ، أَوَّلُهَا مَثْبُورٌ وَآخِرُهَا مَبْتُورٌ ، لَا تَنْصُرُوهُمْ لَا نَصَرَهُمُ اللَّهُ ، مَنْ مَشَى تَحْتَ رَايَةٍ مِنْ رَايَتِهِمْ أَدْخَلَهُ اللَّهُ تَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ جَهَنَّمَ ، أَلَا إِنَّهُمْ شِرَارُ خَلْقِ اللَّهِ ، وَأَتْبَاعُهُمْ شِرَارُ خَلْقِ اللَّهِ ، يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ مِنِّي أَلَا إِنِّي مِنْهُمْ بَرِيءٌ وَهُمْ مُنِّيَ بُرَآءُ ، عَلَامَاتُهُمْ يُطِيلُونَ الشُّعُورَ وَيَلْبَسُونَ السَّوَادَ ، فَلَا تُجَالِسُوهُمْ فِي الْمَلَأِ وَلَا تُبَايِعُوهُمْ فِي الْأَسْوَاقِ وَلَا تَهْدُوهُمُ الطَّرِيقَ وَلَا تَسْقُوهُمُ الْمَاءَ ، يَتَأَذَّى بِتَكْبِيرِهِمْ أَهْلُ السَّمَاءِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عَنْبَسَةُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ وَقَدِ اتُّهِمَ بِالْكَذِبِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مشرق کی طرف سے ، بنو عباس کے لیے جھنڈے نکلیں گے ، جن کا پہلا حصہ بربادی والا ہو گا اور آخری دم کٹا ہو گا ، تم اُن لوگوں کی مدد نہ کرنا ، اللہ تعالیٰ اُن کی مدد نہ کرے ، جو شخص ان کے جھنڈوں میں سے کسی جھنڈے کے نیچے چلے گا ، اللہ تعالیٰ اس شخص کو قیامت کے دن جہنم میں داخل کرے گا ، خبردار ! وہ لوگ اللہ کی مخلوق کے بدترین لوگ ہوں گے اور ان کے پیروکار ، اللہ کی مخلوق کے بدترین لوگ ہوں گے ، وہ لوگ یہ کہیں گے : کہ اُن کا مجھ سے تعلق ہے ، حالانکہ میں اُن سے لاتعلق ہوں اور وہ مجھ سے لاتعلق ہیں ، ان کی علامت یہ ہیں کہ وہ لوگ لمبے بال رکھیں گے اور سیاہ لباس پہنیں گے ، تم محفلوں میں اُن کے ساتھ نہ بیٹھنا اور بازاروں میں اُن کے ساتھ خرید و فروخت نہ کرنا ، انہیں راستہ نہ بتانا ، پانی نہ پلانا ، اُن کے تکبیر کہنے سے آسمان والوں کو اذیت ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عنبسہ بن ابوصغیرہ ہے اور اُس پر جھوٹا ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9251
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7494)»