حدیث نمبر: 9246
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأَى فِي مَنَامِهِ كَأَنَّ بَنِي الْحَكَمِ يَنْزُونَ عَلَى مِنْبَرِهِ وَيَنْزِلُونَ فَأَصْبَحَ كَالْمُتَغَيِّظِ فَقَالَ : " مَا لِي رَأَيْتُ بَنِي الْحَكَمِ يَنْزُونَ عَلَى مِنْبَرِي نَزْوَ الْقِرَدَةِ " . قَالَ : فَمَا رُئِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُسْتَجْمِعًا ضَاحِكًا بَعْدَ ذَلِكَ حَتَّى مَاتَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُصْعَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں دیکھا کہ حکم کے بچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر اتر اور چڑھ رہے ہیں ، صبح کے وقت آپ کو غصہ آیا ہوا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا وجہ ہے کہ میں نے حکم کے بیٹوں کو دیکھا کہ وہ میرے منبر پر ، بندروں کی طرح چڑھ رہے تھے ، راوی بیان کرتے ہیں : اُس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال تک کبھی کھل کر ہنستے ہوئے نہیں دیکھا گیا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف مصعب بن عبداللہ بن زبیر کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9246
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح