کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: مرضی معلوم کرنا
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَرَادَ أَنْ يُزَوِّجَ بِنْتًا مِنْ بَنَاتِهِ جَلَسَ إِلَى خِدْرِهَا فَقَالَ : إِنَّ فُلَانًا يَذْكُرُ فُلَانَةَ " يُسَمِّيهَا وَيُسَمِّي الرَّجُلَ الَّذِي يَذْكُرُهَا ، فَإِنْ هِيَ سَكَتَتْ زَوَّجَهَا ، وَإِنْ هِيَ كَرِهَتْ نَقَرَتِ السِّتْرَ فَإِذَا نَقَرَتْهُ لَمْ يُزَوِّجْهَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی کسی صاحبزادی کی شادی کرنے کا ارادہ کرتے تھے ، تو آپ پردے کے پاس تشریف فرما ہوتے تھے اور فرماتے تھے : فلاں شخص نے فلاں خاتون کا ذکر کیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صاحبزادی کا نام لیتے تھے اور اس شخص کا نام لیتے تھے ، جس نے ذکر کیا ہوتا تھا ، اگر وہ صاحبزادی خاموش رہتی ، تو آپ ان کی شادی طے کر دیتے تھے ، اور اگر وہ ناپسندیدگی کا اظہار کرتی تھی ، تو پردے کو کھٹکھٹا دیتی تھیں ، جب وہ پردہ کھٹکھٹا دیتیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی شادی نہیں کرتے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن عتبہ ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7461
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُزَوِّجَ بِنْتًا مِنْ بَنَاتِهِ جَلَسَ عِنْدَ خِدْرِهَا ، ثُمَّ يَقُولُ : " إِنَّ فُلَانًا يَخْطُبُ فُلَانَةً " . فَإِنْ سَكَتَتْ فَذَلِكَ إِذْنُهَا أَوْ قَالَ : " سُكُوتُهَا إِذْنُهَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : جب آپ نے اپنی صاحبزادی کی شادی کرنے کا ارادہ کیا ، تو آپ پردے کے پاس بیٹھ گئے ، پھر آپ نے فرمایا : فلاں شخص نے فلاں خاتون کے لئے شادی کا پیغام بھیجا ہے ، اگر وہ صاحبزادی خاموش رہیں ، تو یہ ان کی اجازت شمار ہوئی ، آپ نے ارشاد فرمایا : اس کی خاموشی اس کی اجازت ہو گی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7462
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا خُطِبَ بَعْضُ بَنَاتِهِ جَلَسَ إِلَى الْخِدْرِ فَقَالَ : " إِنَّ فُلَانًا يَخْطُبُ فُلَانَةً " . فَإِنْ هِيَ سَكَتَتْ كَانَ سُكُوتُهَا رِضَاهَا ، وَإِنْ هِيَ كَرِهَتْ طَعَنَتْ فِي الْحِجَابِ فَكَانَ ذَلِكَ مِنْهَا كَرَاهِيَةً . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْحُصَيْنِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کسی صاحبزادی کے لئے شادی کا پیغام دیا گیا ، تو آپ پردے کے پیچھے تشریف فرما ہوئے ، آپ نے فرمایا : فلاں شخص نے فلاں خاتون کے لئے شادی کا پیغام دیا ہے ، اگر وہ صاحبزادی خاموش رہیں ، تو ان کی خاموشی ان کی رضامندی شمار ہوئی ، اور اگر انہیں ناگوار گزرا ، تو انہوں نے پردے کو کھٹکھٹا دیا ، تو یہ چیز ان کی طرف سے ناگواری کا اظہار شمار ہوا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن حصین ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7463
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا خُطِبَ إِلَيْهِ بَعْضُ بَنَاتِهِ أَتَى الْخِدْرَ فَقَالَ : " إِنَّ فُلَانًا يَخْطُبُ فُلَانَةً " . فَإِنْ طَعَنَتْ فِي الْخِدْرِ لَمْ يُزَوِّجْهَا ، وَإِنْ لَمْ تَطْعَنْ فِي الْخِدْرِ زَوَّجَهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَانِيُّ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب آپ کی کسی صاحبزادی کے لئے شادی کا پیغام دیا گیا تو آپ پردے کے پاس تشریف لائے ، آپ نے ارشاد فرمایا : فلاں شخص نے فلاں خاتون کے لئے شادی کا پیغام دیا ہے ، اگر اس صاحبزادی نے پردے کو ہاتھ لگا دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی شادی نہیں کی ، اور اگر انہوں نے پردے کو ہاتھ نہیں لگایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی شادی کروا دی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے ، جس کی توثیق کی گئی ہے ، ویسے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7464
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11999)»
وَعَنْ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُزَوِّجَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ يَأْتِيهَا مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ فَيَقُولُ لَهَا : " يَا بُنَيَّةُ إِنَّ فُلَانًا خَطَبَكِ ، فَإِنْ كَرِهْتِيهِ فَقُولِي : لَا ، فَإِنَّهُ لَا يَسْتَحِي أَحَدٌ أَنْ يَقُولَ : لَا . وَإِنْ أَحْبَبْتِ ، فَإِنَّ سُكُوتَكِ إِقْرَارٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ النَّوْفَلِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنے خاندان کی خواتین میں سے کسی خاتون کی شادی کروانی ہوتی تو آپ پردے کے پیچھے ان کے پاس تشریف لاتے اور ان سے فرماتے : اے میری بیٹی ! فلاں شخص نے تمہیں شادی کا پیغام دیا ہے اگر تمہیں یہ ناپسند ہے ، تو تم یہ کہہ دو : جی نہیں ! کیونکہ کوئی بھی شخص ” نہ “ کہتے ہوئے نہیں شرماتا ، اور اگر یہ تمہیں پسند ہے ، تو تمہاری خاموشی اقرار شمار ہو گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عبدالملک نوفلی ہے اور وہ متروک ہے ، اور یحیی بن معین نے ایک روایت کے مطابق اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7465
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (88)»
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ قَالَ : أَرْسَلَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ إِلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ أَخْطُبُ عَلَى يَزِيدَ بِنْتًا لَهُ أَوْ أُخْتًا لَهُ فَأَتَيْتُهُ فَذَكَرْتُ لَهُ يَزِيدَ فَقَالَ : إِنَّا قَوْمٌ لَا نُزَوِّجُ نِسَاءَنَا حَتَّى نَسْتَأْمِرَهُنَّ . فَأَتَيْتُهَا فَذَكَرْتُ لَهَا يَزِيدَ فَقَالَتْ : وَاللَّهِ لَا يَكُونُ ذَلِكَ حَتَّى يَسِيرَ فِينَا صَاحِبُكَ كَمَا سَارَ فِرْعَوْنُ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ يُذَبِّحُ أَبْنَاءَهُمْ وَيَسْتَحْيِي نِسَاءَهُمْ . فَرَجَعْتُ إِلَى الْحَسَنِ فَقُلْتُ : أَرْسَلْتَنِي إِلَى فِلْقَةٍ مِنَ الْفِلَقِ تُسَمِّي أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فِرْعَوْنَ . قَالَ : يَا مُعَاوِيَةُ إِيَّاكَ وَبُغْضَنَا ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يُبْغِضُنَا ، وَلَا يَحْسُدُنَا أَحَدٌ إِلَّا زِيدَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَنِ الْحَوْضِ بِسِيَاطٍ مِنْ نَارٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْوَاقِفِيُّ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
معاویہ بن حدیج بیان کرتے ہیں : سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے مجھے سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا ، تاکہ میں ان کی صاحبزادی ، یا اُن کی کسی بہن کے لئے یزید کا رشتہ پیش کروں ، میں ان کے پاس آیا ، میں نے ان کے سامنے یزید کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا : ہم ایسے لوگ ہیں کہ ہم اپنی خواتین کی شادیاں اُن کی مرضی معلوم کیے بغیر نہیں کرتے ہیں ، میں اس خاتون کے پاس آیا اور میں نے اس خاتون کے سامنے یزید کا ذکر کیا ، تو اس خاتون نے کہا: اللہ کی قسم ! ایسا اس وقت تک نہیں ہو گا ، جب تک تمہارے آقا ہمارے درمیان یوں نہیں چلتے ، جس طرح فرعون ، بنی اسرائیل کے درمیان چلا تھا کہ اس نے ان کے بیٹوں کو ذبح کر دیا تھا اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھا تھا ، راوی کہتے ہیں : میں واپس سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، اور میں نے کہا: آپ نے مجھے ایک تیز مزاج خاتون کی طرف بھیجا تھا ، جس نے امیرالمؤمنین کو ” فرعون “ کا نام دیا ہے ، تو سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے معاویہ ! ہمارے ساتھ بغض رکھنے سے بچنا ! کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” ہمارے ساتھ جو بھی شخص بغض رکھے گا ، یا جو بھی شخص حسد رکھے گا ، قیامت کے دن اُسے آگ کے کوڑوں کے ذریعے حوض سے پرے کیا جائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عمر واقفی ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7466
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2726)»
وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ صَالِحٍ - وَاسْمُهُ الَّذِي يُعْرَفُ بِهِ : نُعَيْمُ بْنُ النَّحَّامِ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَمَّاهُ صَالِحًا - [ أَخْبَرَهُ ] أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : اخْطُبْ عَلَيَّ ابْنَةَ صَالِحٍ . قَالَ : إِنَّ لَهُ يَتَامَى ، وَلَمْ يَكُنْ لِيُؤْثِرَنَا عَلَيْهِمْ . فَانْطَلَقَ عَبْدُ اللَّهِ إِلَى عَمِّهِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ لِيَخْطُبَ فَانْطَلَقَ زَيْدٌ إِلَى صَالِحٍ فَقَالَ : إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ يَخْطُبُ ابْنَتَكَ . فَقَالَ : لِي يَتَامَى ، وَلَمْ أَكُنْ لِأُتْرِبَ لَحْمِي وَأَرْفَعَ لَحْمَكَ أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَنْكَحْتُهَا فُلَانًا . وَكَانَ هَوَى أُمِّهَا إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ابْنَتِي خَطَبَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَأَنْكَحَهَا أَبُوهَا يَتِيمًا فِي حِجْرِهِ ، وَلَمْ يُؤَامِرْهَا . فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى صَالِحٍ فَقَالَ : " أَنْكَحْتَ ابْنَتَكَ ، وَلَمْ تُؤَامِرْهَا ؟ " قَالَ : نَعَمْ ! قَالَ : " أَشِيرُوا النِّسَاءَ فِي أَنْفُسِهِنَّ وَهُنَّ بِكْرٌ " فَقَالَ صَالِحٌ : إِنَّمَا فَعَلْتُ هَذَا لَمَّا تَصَدَّقَهَا ابْنُ عُمَرَ ، فَإِنَّ لَهُ فِي مَالِي مِثْلَ مَا أَعْطَاهَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَهُوَ مُرْسَلٌ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابراہیم بن صالح سے روایت منقول ہے ، صالح وہ شخص ہے ، جو سیدنا نعیم بن نحام رضی اللہ عنہ کے نام سے معروف ہیں ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام ” صالح “ رکھا تھا ، وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ صالح کی صاحبزادی کو میرے لئے شادی کا پیغام دیں ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کے ( زیر پروش ) یتیم بچے ( یعنی صالح کے اپنے یتیم بھانجے یا بھتیجے ) ہیں ، وہ ہمیں ان پر ترجیح نہیں دے گا ( یعنی وہ اپنے کسی بھتیجے وغیرہ کے ساتھ اس کی شادی کرے گا ) پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اپنے چچا سیدنا زید بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ، تاکہ وہ شادی کا پیغام دے دیں ، تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ سیدنا صالح رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور کہا: عبداللہ بن عمر نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے ، تاکہ وہ آپ کی صاحبزادی کے لئے شادی کا پیغام دے ، انہوں نے فرمایا : میرے زیر پرورش کچھ یتیم بچے ہیں ( یعنی میرے بھتیجے وغیرہ ہیں ) تو میں اپنے خون کو نظر انداز نہیں کروں گا ، اور آپ کے رشتہ دار کو ترجیح نہیں دوں گا ، میں آپ کو گواہ بنا کر یہ کہتا ہوں کہ میں نے اس عورت کی شادی فلاں کے ساتھ کر دی ہے ، اس لڑکی کی ماں کی خواہش یہ تھی کہ اس لڑکی کی شادی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ ہو ، وہ خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور بولی: اے اللہ ! کے نبی ! عبداللہ بن عمر نے میری بیٹی کے لئے شادی کا پیغام دیا ، لیکن اس بچی کے باپ نے اپنے زیر پرورش ایک یتیم لڑکے کے ساتھ اس لڑکی کی شادی کر دی اور اس نے لڑکی سے مرضی بھی معلوم نہیں کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا صالح رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا اور دریافت کیا : کیا تم نے اپنی بیٹی کی شادی کر دی ہے ؟ اور اس کی مرضی بھی معلوم نہیں کی ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : خواتین کے ساتھ ان کی ذات کے بارے میں مشورہ لو ! اگرچہ وہ کنواری ہی کیوں نہ ہوں ۔ سیدنا صالح رضی اللہ عنہ نے کہا: اس خاتون نے ایسا اس لئے کیا ہے کیونکہ عبداللہ بن عمر نے اس خاتون کو پیسے دیے تھے ، اس عورت کو میرے مال میں سے اتنا ہی مال ملتا ہے ، جتنا عبداللہ بن عمر نے اسے دیا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور
یہ روایت ” مرسل“ ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7467
درجۂ حدیث محدثین: إسناده مرسل
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1903) اخرجه احمد فى المسند (5720)»
وَعَنْ أَبِي مُوسَى عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا أَرَادَ الرَّجُلُ أَنْ يُزَوِّجَ ابْنَتَهُ فَلْيَسْتَأْذِنْهَا " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب کوئی شخص اپنی بیٹی کی شادی کا ارادہ کرے ، تو اُس سے مرضی معلوم کر لے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7468
درجۂ حدیث محدثین: إسناده اس
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (7229)»
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ وَإِذْنُهَا الصُّمُوتُ . وَالثَّيِّبُ تُصِيبُ مِنْ أَمْرِهَا مَا لَمْ تَدْعُ إِلَى سَخْطَةٍ ، فَإِنْ دَعَتْ إِلَى سَخْطَةٍ ، وَكَانَ أَوْلِيَاؤُهَا يَدْعُونَ إِلَى رِضًا رُفِعَ ذَلِكَ إِلَى السُّلْطَانِ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ : قُلْتُ لِعِيسَى بْنِ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ : آخِرُ الْحَدِيثِ مِنْ حَدِيثِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : هَكَذَا أَنْبَأَنَا الْأَوْزَاعِيُّ . وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا إِبْرَاهِيمَ بْنَ مُرَّةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” کنواری کی شادی ، اُس وقت تک نہ کی جائے گی ، جب تک اس کی مرضی معلوم نہ کی جائے ، اس کی مرضی اس کی خاموشی ہو گی اور ثیبہ عورت ، اپنی مرضی کے مطابق عمل کرے گی ، جبکہ وہ کسی ناراضگی کی طرف نہ جاتی ہو ، لیکن اگر وہ کسی ناراضگی کی طرف جا رہی ہو ، اور اس کے اولیاء اسے رضا مندی کی طرف لے جا رہے ہوں ، تو پھر معاملہ سلطان کے سامنے پیش کیا جائے گا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں : میں نے عیسیٰ بن یونس بن اسحاق سے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول وہ آخری حدیث کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : امام اوزاعی نے اسی طرح بیان کیا ہے ، اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابراہیم بن مرہ کا معاملہ مختلف ہے ، ویسے وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7469
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَمْرُ النِّسَاءِ بِأَيْدِي آبَائِهِنَّ وَإِذْنُهُنَّ سُكُوتُهُنَّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ الْهَمْدَانِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” خواتین کا معاملہ ان کے باپوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور ان کی خاموشی ان کی اجازت ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سالم ہمدانی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7470
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12001)»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَدَّ نِكَاحَ ثَيِّبٍ وَبِكْرٍ أَنْكَحَهُمَا أَبُوهُمَا كَارِهَتَيْنِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جُوثَى ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ثیبہ اور ایک کنواری لڑکی کے نکاح کو مسترد کر دیا تھا ، ان کے باپ نے ان دونوں کی شادیاں کروائیں تھیں ، اور زبردستی کروائیں تھیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم بن جوثی ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7471
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (138/17)»
وَعَنِ الْعُرْسِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " آمِرُوا النِّسَاءَ تُعْرِبُ الثَّيِّبُ عَنْ نَفْسِهَا وَإِذْنُ الْبِكْرِ صَمْتُهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَقَالَ : زَادَ سُفْيَانُ فِي الْإِسْنَادِ الْعُرْسَ . ¤ وَرَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، وَلَمْ يُجَاوِزْ عَدِيَّ بْنَ عَدِيٍّ . قُلْتُ : وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا العرس (بن عمیرہ) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : «عورتوں سے (ان کے نکاح کے بارے میں) اجازت و مشورہ لیا کرو ؛ چنانچہ ثیب (بیوہ یا مطلقہ عورت) اپنے نفس کے بارے میں خود کھل کر بات کرے گی (اپنی زبان سے صراحت کرے گی) ، اور دوشیزہ (کنواری لڑکی) کا خاموش رہنا ہی اس کی اجازت ہے » ۔
اسے امام طبرانی رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے اور فرمایا کہ سفیان نے اس کی سند میں العرس رضی اللہ عنہ کا اضافہ کیا ہے ۔ جبکہ لیث بن سعد نے اسے ابن ابی حسین سے روایت کیا اور انہوں نے اس سند کو عدی بن عدی پر ہی روک دیا یعنی مرسل رکھا ۔ میں [حافظ ہیثمی رحمہ اللہ] کہتا ہوں : اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7471
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ جَارِيَةً زَوَّجَهَا أَبُوهَا وَأَرَادَتْ أَنْ تُزَوَّجَ رَجُلًا آخَرَ فَأَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَنَزَعَهَا مِنَ الَّذِي زَوَّجَهَا أَبُوهَا وَزَوَّجَهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الَّذِي أَرَادَتْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک لڑکی کی شادی اس کے باپ نے کر دی ، وہ لڑکی کسی اور کے ساتھ شادی کرنا چاہتی تھی ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئی ، اور یہ چیز آپ کے سامنے ذکر کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اس شخص سے علیحدگی کروا دی ، جس کے ساتھ اس کے باپ نے اس کی شادی کی تھی ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکی کی شادی اس شخص کے ساتھ کروا دی ، جس کے ساتھ وہ شادی کرنا چاہتی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7472
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (256/23)»
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَمُجَمِّعٍ ابْنَيْ يَزِيدَ بْنِ جَارِيَةَ قَالَا : أَنْكَحَ حِذَامُ ابْنَتَهُ - وَهِيَ كَارِهَةٌ - رَجُلًا وَهِيَ ثَيِّبٌ فَأَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَرَدَّ نِكَاحَهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ اور سیدنا مجمع بن یزید بن جاریہ رضی اللہ عنہ یہ دونوں حضرات بیان کرتے ہیں : سیدنا حذام رضی اللہ عنہ نے اپنی صاحبزادی کی شادی زبردستی ایک شخص کے ساتھ کر دی ، وہ صاحبزادی ثیبہ تھیں ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، اور یہ بات آپ کے سامنے ذکر کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے نکاح کو کالعدم قرار دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7473
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح