مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب النكاح— نکاح کے بارے میں روایات
بَابُ الِاسْتِئْمَارِ . باب: مرضی معلوم کرنا
وَعَنْ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُزَوِّجَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ يَأْتِيهَا مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ فَيَقُولُ لَهَا : " يَا بُنَيَّةُ إِنَّ فُلَانًا خَطَبَكِ ، فَإِنْ كَرِهْتِيهِ فَقُولِي : لَا ، فَإِنَّهُ لَا يَسْتَحِي أَحَدٌ أَنْ يَقُولَ : لَا . وَإِنْ أَحْبَبْتِ ، فَإِنَّ سُكُوتَكِ إِقْرَارٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ النَّوْفَلِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ . ¤سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنے خاندان کی خواتین میں سے کسی خاتون کی شادی کروانی ہوتی تو آپ پردے کے پیچھے ان کے پاس تشریف لاتے اور ان سے فرماتے : اے میری بیٹی ! فلاں شخص نے تمہیں شادی کا پیغام دیا ہے اگر تمہیں یہ ناپسند ہے ، تو تم یہ کہہ دو : جی نہیں ! کیونکہ کوئی بھی شخص ” نہ “ کہتے ہوئے نہیں شرماتا ، اور اگر یہ تمہیں پسند ہے ، تو تمہاری خاموشی اقرار شمار ہو گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عبدالملک نوفلی ہے اور وہ متروک ہے ، اور یحیی بن معین نے ایک روایت کے مطابق اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔