حدیث نمبر: 7467
وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ صَالِحٍ - وَاسْمُهُ الَّذِي يُعْرَفُ بِهِ : نُعَيْمُ بْنُ النَّحَّامِ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَمَّاهُ صَالِحًا - [ أَخْبَرَهُ ] أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : اخْطُبْ عَلَيَّ ابْنَةَ صَالِحٍ . قَالَ : إِنَّ لَهُ يَتَامَى ، وَلَمْ يَكُنْ لِيُؤْثِرَنَا عَلَيْهِمْ . فَانْطَلَقَ عَبْدُ اللَّهِ إِلَى عَمِّهِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ لِيَخْطُبَ فَانْطَلَقَ زَيْدٌ إِلَى صَالِحٍ فَقَالَ : إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ يَخْطُبُ ابْنَتَكَ . فَقَالَ : لِي يَتَامَى ، وَلَمْ أَكُنْ لِأُتْرِبَ لَحْمِي وَأَرْفَعَ لَحْمَكَ أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَنْكَحْتُهَا فُلَانًا . وَكَانَ هَوَى أُمِّهَا إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ابْنَتِي خَطَبَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَأَنْكَحَهَا أَبُوهَا يَتِيمًا فِي حِجْرِهِ ، وَلَمْ يُؤَامِرْهَا . فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى صَالِحٍ فَقَالَ : " أَنْكَحْتَ ابْنَتَكَ ، وَلَمْ تُؤَامِرْهَا ؟ " قَالَ : نَعَمْ ! قَالَ : " أَشِيرُوا النِّسَاءَ فِي أَنْفُسِهِنَّ وَهُنَّ بِكْرٌ " فَقَالَ صَالِحٌ : إِنَّمَا فَعَلْتُ هَذَا لَمَّا تَصَدَّقَهَا ابْنُ عُمَرَ ، فَإِنَّ لَهُ فِي مَالِي مِثْلَ مَا أَعْطَاهَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَهُوَ مُرْسَلٌ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

ابراہیم بن صالح سے روایت منقول ہے ، صالح وہ شخص ہے ، جو سیدنا نعیم بن نحام رضی اللہ عنہ کے نام سے معروف ہیں ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام ” صالح “ رکھا تھا ، وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ صالح کی صاحبزادی کو میرے لئے شادی کا پیغام دیں ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کے ( زیر پروش ) یتیم بچے ( یعنی صالح کے اپنے یتیم بھانجے یا بھتیجے ) ہیں ، وہ ہمیں ان پر ترجیح نہیں دے گا ( یعنی وہ اپنے کسی بھتیجے وغیرہ کے ساتھ اس کی شادی کرے گا ) پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اپنے چچا سیدنا زید بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ، تاکہ وہ شادی کا پیغام دے دیں ، تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ سیدنا صالح رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور کہا: عبداللہ بن عمر نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے ، تاکہ وہ آپ کی صاحبزادی کے لئے شادی کا پیغام دے ، انہوں نے فرمایا : میرے زیر پرورش کچھ یتیم بچے ہیں ( یعنی میرے بھتیجے وغیرہ ہیں ) تو میں اپنے خون کو نظر انداز نہیں کروں گا ، اور آپ کے رشتہ دار کو ترجیح نہیں دوں گا ، میں آپ کو گواہ بنا کر یہ کہتا ہوں کہ میں نے اس عورت کی شادی فلاں کے ساتھ کر دی ہے ، اس لڑکی کی ماں کی خواہش یہ تھی کہ اس لڑکی کی شادی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ ہو ، وہ خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور بولی: اے اللہ ! کے نبی ! عبداللہ بن عمر نے میری بیٹی کے لئے شادی کا پیغام دیا ، لیکن اس بچی کے باپ نے اپنے زیر پرورش ایک یتیم لڑکے کے ساتھ اس لڑکی کی شادی کر دی اور اس نے لڑکی سے مرضی بھی معلوم نہیں کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا صالح رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا اور دریافت کیا : کیا تم نے اپنی بیٹی کی شادی کر دی ہے ؟ اور اس کی مرضی بھی معلوم نہیں کی ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : خواتین کے ساتھ ان کی ذات کے بارے میں مشورہ لو ! اگرچہ وہ کنواری ہی کیوں نہ ہوں ۔ سیدنا صالح رضی اللہ عنہ نے کہا: اس خاتون نے ایسا اس لئے کیا ہے کیونکہ عبداللہ بن عمر نے اس خاتون کو پیسے دیے تھے ، اس عورت کو میرے مال میں سے اتنا ہی مال ملتا ہے ، جتنا عبداللہ بن عمر نے اسے دیا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور
یہ روایت ” مرسل“ ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7467
درجۂ حدیث محدثین: إسناده مرسل
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1903) اخرجه احمد فى المسند (5720)»