حدیث نمبر: 7471
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَدَّ نِكَاحَ ثَيِّبٍ وَبِكْرٍ أَنْكَحَهُمَا أَبُوهُمَا كَارِهَتَيْنِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جُوثَى ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ثیبہ اور ایک کنواری لڑکی کے نکاح کو مسترد کر دیا تھا ، ان کے باپ نے ان دونوں کی شادیاں کروائیں تھیں ، اور زبردستی کروائیں تھیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم بن جوثی ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

وَعَنِ الْعُرْسِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " آمِرُوا النِّسَاءَ تُعْرِبُ الثَّيِّبُ عَنْ نَفْسِهَا وَإِذْنُ الْبِكْرِ صَمْتُهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَقَالَ : زَادَ سُفْيَانُ فِي الْإِسْنَادِ الْعُرْسَ . ¤ وَرَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، وَلَمْ يُجَاوِزْ عَدِيَّ بْنَ عَدِيٍّ . قُلْتُ : وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا العرس (بن عمیرہ) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : «عورتوں سے (ان کے نکاح کے بارے میں) اجازت و مشورہ لیا کرو ؛ چنانچہ ثیب (بیوہ یا مطلقہ عورت) اپنے نفس کے بارے میں خود کھل کر بات کرے گی (اپنی زبان سے صراحت کرے گی) ، اور دوشیزہ (کنواری لڑکی) کا خاموش رہنا ہی اس کی اجازت ہے » ۔
اسے امام طبرانی رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے اور فرمایا کہ سفیان نے اس کی سند میں العرس رضی اللہ عنہ کا اضافہ کیا ہے ۔ جبکہ لیث بن سعد نے اسے ابن ابی حسین سے روایت کیا اور انہوں نے اس سند کو عدی بن عدی پر ہی روک دیا یعنی مرسل رکھا ۔ میں [حافظ ہیثمی رحمہ اللہ] کہتا ہوں : اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7471
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (138/17)»