کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: آدمی کا ، اپنی زیر پرورش لڑکی کے رشتہ کی ، نیک لوگوں کو پیش کش کرنا
حدیث نمبر: 7459
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : لَمَّا تَأَيَّمَتْ حَفْصَةُ مِنْ خُنَيْسِ بْنِ حُذَافَةَ لَقِيَ عُمَرُ عُثْمَانَ فَعَرَضَهَا عَلَيْهِ فَقَالَ عُثْمَانُ : مَا لِي فِي النِّسَاءِ حَاجَةٌ وَسَأَنْظُرُ . فَلَقِيَ أَبَا بَكْرٍ فَعَرَضَهَا عَلَيْهِ فَسَكَتَ فَوَجَدَ عُمَرُ فِي نَفْسِهِ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ خَطَبَهَا فَلَقِيَ أَبَا بَكْرٍ عُمَرُ فَقَالَ : إِنِّي كُنْتُ عَرَضْتُهَا عَلَى عُثْمَانَ فَرَدَّنِي ، وَإِنِّي عَرَضْتُهَا عَلَيْكَ فَسَكَتَّ عَنِّي فَلَا أَنَا عَلَيْكَ كُنْتُ أَشُدَّ غَضَبًا مِنِّي عَلَى عُثْمَانَ ، وَقَدْ رَدَّنِي . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : إِنَّهُ قَدْ كَانَ سِرٌّ فَكَرِهْتُ أَنْ أُفْشِيَ السِّرَّ . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عُمَرَ نَفْسِهِ ، وَهُوَ هُنَا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَفِي حَدِيثِهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ وَزَادَ : قَالَ عُمَرُ : فَشَكَوْتُ عُثْمَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَزَوَّجَ حَفْصَةَ خَيْرٌ مِنْ عُثْمَانَ وَيُزَوَّجُ عُثْمَانَ خَيْرٌ مِنْ حَفْصَةَ " فَزَوَّجَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ابْنَتَهُ . ¤ وَفِي إِسْنَادِهِ الْوَلِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُوَقَّرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا ، خنیس بن حذافہ کے حوالے سے بیوہ ہو گئیں ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی ملاقات سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا رشتہ دیا ، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے خواتین کی ضرورت نہیں ہے البتہ میں اس بارے میں غور کروں گا ، پھر اُن کی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو انہوں نے اس بارے میں پیشکش کی ، تو وہ خاموش رہے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے الجھن محسوس ہوئی ، پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے لئے شادی کا پیغام دے دیا ، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے عثمان کو پیشکش کی تھی لیکن انہوں نے جواب دے دیا ، میں نے آپ کو پیشکش کی لیکن آپ خاموش رہے ، مجھے آپ پر عثمان سے زیادہ غصہ آیا ، کیونکہ اس نے مجھے جواب تو دے دیا تھا ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ ایک راز تھا ، مجھے یہ اچھا نہیں لگا کہ میں اس راز کو ظاہر کروں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث کے طور پر مذکور ہے ، اور یہاں یہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سفیان بن حسین ہے اور وہ ثقہ ہے ، زہری سے اس کے حدیث نقل کرنے میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شکایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” حفصہ کے ساتھ وہ شادی کرے گا ، جو عثمان سے زیادہ بہتر ہے ، اور عثمان کی شادی اس سے ہو گی ، جو حفصہ سے زیادہ بہتر ہے “ ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی کی شادی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے کروا دی ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ولید بن محمد موقری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت ” صحیح “ میں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث کے طور پر مذکور ہے ، اور یہاں یہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سفیان بن حسین ہے اور وہ ثقہ ہے ، زہری سے اس کے حدیث نقل کرنے میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شکایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” حفصہ کے ساتھ وہ شادی کرے گا ، جو عثمان سے زیادہ بہتر ہے ، اور عثمان کی شادی اس سے ہو گی ، جو حفصہ سے زیادہ بہتر ہے “ ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی کی شادی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے کروا دی ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ولید بن محمد موقری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 7460
وَعَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كُنْتُ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَعْرَابِيٌّ مَعَهُ ابْنَةٌ لَهُ حَسْنَاءُ فَجَعَلَ الْأَعْرَابِيُّ يَعْرِضُهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجَاءَ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا قَالَ : فَجَعَلْتُ أَلْتَفِتُ إِلَيْهَا وَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْخُذُ بِرَأْسِي فَيَلْوِيهِ [ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ ] . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری پر موجود تھا ، ایک دیہاتی کے پیچھے اس کی سواری پر اس کی خوبصورت بیٹی بھی تھی ، اس دیہاتی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس عورت کو کیا ، یہ امید رکھتے ہوئے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ شادی کر لیں گے ، سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے اس عورت کی طرف دیکھنا شروع کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا سر پکڑ کر اس کی طرف سے موڑ دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل تلبیہ پڑھتے رہے ، یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کر لی ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔