کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: یتیم لڑکی سے مرضی معلوم کرنا
حدیث نمبر: 7474
عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تُسْتَأْمَرُ الْيَتِيمَةُ فِي نَفْسِهَا ، فَإِنْ سَكَتَتْ ، فَقَدْ أَذِنَتْ ، وَإِذَا أَبَتْ لَمْ تُكْرَهْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یتیم لڑکی سے ، اُس کی ذات کے بارے میں ، اس کی مرضی معلوم کی جائے گی ، اگر وہ خاموش رہے ، تو یہ اُس کی مرضی شمار ہو گی اور اگر وہ انکار کر دے ، تو اسے مجبور نہیں کیا جائے گا“ ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7474
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1422 و 1423) اخرجه أبو يعلى فى المسند (3727) اخرجه احمد فى المسند (411,408,394/4)»
حدیث نمبر: 7475
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ قَالَ : تُوُفِّيَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ وَتَرَكَ ابْنَةً لَهُ مِنْ خُوَيْلَةَ بِنْتِ حَكِيمِ بْنِ أُمَيَّةَ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ الْأَوْقَصِ قَالَ : وَأَوْصَى إِلَى أَخِيهِ قُدَامَةَ بْنِ مَظْعُونٍ . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : وَهُمَا خَالَايَ . قَالَ : فَخَطَبْتُ إِلَى قُدَامَةَ بْنِ مَظْعُونٍ ابْنَةَ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ فَزَوَّجَنِيهَا وَدَخَلَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ - يَعْنِي إِلَى أُمِّهَا - فَأَرْغَبَهَا بِالْمَالِ فَحَطَّتْ إِلَيْهِ وَحَطَّتِ الْجَارِيَةُ إِلَى هَوَى أُمِّهَا فَأَبَتَا حَتَّى ارْتَفَعَ أَمْرُهُمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ قُدَامَةُ بْنُ مَظْعُونٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنَةُ أَخِي وَأَوْصَى بِهَا إِلَيَّ فَزَوَّجْتُهَا ابْنَ عَمِّهَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَلَمْ أُقَصِّرْ بِهَا فِي الصَّلَاحِ ، وَلَا فِي الْكَفَاءَةِ ، وَلَكِنَّهَا امْرَأَةٌ ، وَإِنَّمَا حَطَّتْ إِلَى أُمِّهَا . قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هِيَ يَتِيمَةٌ ، وَلَا تُنْكَحُ إِلَّا بِإِذْنِهَا " . ¤ قَالَ : فَانْتُزِعَتْ وَاللَّهِ مِنِّي بَعْدَ أَنْ مَلَكْتُهَا فَزَوَّجُوهَا الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ طَرَفًا مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ، انہوں نے خویلہ بنت حکیم بن امیہ بن اوقص سے اپنی ایک بیٹی چھوڑی ، راوی بیان کرتے ہیں : انہوں نے اپنے بھائی قدامہ بن مظعون کو وصی مقرر کیا ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : وہ دونوں حضرات میرے ماموں تھے ، میں نے قدامہ بن مظعون کو سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کے لئے شادی کا پیغام دیا ، تو انہوں نے میری شادی اس خاتون کے ساتھ طے کر دی ، مغیرہ بن شعبہ اس خاتون کی ماں کے پاس آئے اور انہیں مال کے حوالے سے رغبت دلائی ، تو اس خاتون کا جھکاؤ ان کی طرف ہو گیا اور لڑکی کا جھکاؤ بھی ماں کی خواہش کی طرف تھا ، ان دونوں نے انکار کر دیا ، ان دونوں کا معاملہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا ، تو سیدنا قدامہ بن مطعون رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ ! یہ میری بھتیجی ہے اور میرے بھائی نے اس کا مجھے وصی مقرر کیا تھا ، اور میں نے اس کی شادی اس کے چچازاد عبداللہ بن عمر سے کی ہے ، میں نے بہتری میں کوئی کوتاہی نہیں کی ہے ، لیکن یہ عورت اپنی ماں کی طرف مائل ہو گئی ہے ، راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ یتیم لڑکی ہے ، اس کی شادی اس کی مرضی کے بغیر نہیں کی جا سکتی ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! میں اس کا مالک ہو چکا تھا ، اس کے بعد اسے مجھ سے الگ کر دیا گیا ، اور ان لوگوں نے اس کی شادی سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کر دی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7475
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (6136)»