کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اچھے طریقے سے ادائیگی کرنا اور گندھا ہوا آٹا ، یا کوئی اور چیز ( قرض کے طور پر دینا یا لینا )
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ اسْتِقْرَاضِ الْخَمِيرِ وَالْخُبْزِ ؟ فَقَالَ : " سُبْحَانَ اللَّهِ ! إِنَّمَا هِيَ مِنْ مَكَارِمِ الْأَخْلَاقِ ، خُذِ الصَّغِيرَ وَأَعْطِ الْكَبِيرَ ، وَخُذِ الْكَبِيرَ وَأَعْطِ الصَّغِيرَ ، وَخَيْرُكُمْ أَحَسَنُكُمْ قَضَاءً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ سَلَمَةَ الْخَبَائِرِيُّ ؛ وَنُسِبَ إِلَى الْكَذِبِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گوندھے ہوئے آٹے اور روٹی کو قرض لینے کے بارے میں دریافت کیا گیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : سبحان اللہ ! یہ اچھے اخلاق کا حصہ ہے ، تم چھوٹا لے کر بڑا دے دو ، یا بڑا لے کر چھوٹا دے دو ، اور تم میں زیادہ بہتر وہ لوگ ہیں ، جو اچھے طریقے سے ادائیگی کرتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن سلمہ خبائری ہے ، جس کی نسبت جھوٹ کی طرف کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن سلمہ خبائری ہے ، جس کی نسبت جھوٹ کی طرف کی گئی ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ مَشَى إِلَى غَرِيمِهِ بِحَقِّهِ صَلَّتْ عَلَيْهِ دَوَابُّ الْأَرْضِ ، وَنُونُ الْمَاءِ ، وَيَنْبُتُ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ شَجَرَةٌ فِي الْجَنَّةِ ، وَذَنْبٌ يُغْفَرُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمُهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص قرض خواہ کی طرف ، اس کے حق کے سلسلے میں چل کر جاتا ہے ، زمین کے جانور اور پانی کی مچھلیاں اس شخص کے لئے دعائے رحمت کرتے ہیں اور ہر قدم کے عوض میں اس کے لئے جنت میں درخت لگا دیا جاتا ہے اور اس کے ایک گناہ کی مغفرت ہو جاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک جماعت ایسی ہے ، جن کے حالات بیان کرتے ہوئے ، میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک جماعت ایسی ہے ، جن کے حالات بیان کرتے ہوئے ، میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ۔
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خِيَارُكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم میں زیادہ بہتر وہ لوگ ہیں ، جو اچھے طریقے سے ادائیگی کریں ( یعنی قرض واپس کریں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن مغیرہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن مغیرہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : ابْتَاعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَعْرَابِ جَزُورًا ، أَوْ جَزَائِرَ بِوَسْقٍ مِنْ تَمْرِ الذَّخِيرَةِ . - وَتَمْرُ الذَّخِيرَةِ : الْعَجْوَةُ - فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى بَيْتِهِ فَالْتَمَسَ لَهُ التَّمْرَ فَلَمْ يَجِدْهُ ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ : " يَا عَبْدَ اللَّهِ ، إِنَّا قَدِ ابْتَعْنَا مِنْكَ جَزُورًا - أَوْ جَزَائِرَ - بِوَسْقٍ مِنْ تَمْرِ الذَّخِيرَةِ ، فَالْتَمَسْنَاهُ فَلَمْ نَجِدْهُ " . فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ : وَاغَدْرَاهْ ! قَالَ : فَنَهْنَهَهُ النَّاسُ ، وَقَالُوا : قَاتَلَكَ اللَّهُ ، أَتَغْدِرُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ ! قَالَتْ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " دَعُوهُ ، فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا " . ثُمَّ عَادَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا عَبْدَ اللَّهِ ، إِنَّا ابْتَعْنَا مِنْكَ جَزَائِرَكَ ، وَنَحْنُ نَظُنُّ أَنَّ عِنْدَنَا مَا سَمَّيْنَا لَكَ فَالْتَمَسْنَاهُ فَلَمْ نَجِدْهُ " . فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ : وَاغَدْرَاهْ ! فَنَهْنَهَهُ النَّاسُ ، وَقَالُوا : قَاتَلَكَ اللَّهُ ، أَتَغْدِرُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " دَعُوهُ ، فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا " ، فَرَدَّ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَلَمَّا رَآهُ لَا يَفْقَهُ عَنْهُ قَالَ لِرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ : " اذْهَبْ إِلَى خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمِ بْنِ أُمَيَّةَ ، فَقُلْ لَهَا : إِنْ كَانَ عِنْدَكِ وَسْقٌ مِنْ تَمْرِ الذَّخِيرَةِ فَأَسْلِفِينَا حَتَّى نُؤَدِّيهِ إِلَيْكِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ " . فَذَهَبَ إِلَيْهَا الرَّجُلُ ، ثُمَّ رَجَعَ الرَّجُلُ قَالَ : قَالَتْ : نَعَمْ هُوَ عِنْدِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَابْعَثْ إِلَيَّ مَنْ يَقْبِضُهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اذْهَبْ بِهِ فَأَوْفِهِ الَّذِي لَهُ " . قَالَ : فَذَهَبَ بِهِ فَأَوْفَاهُ الَّذِي لَهُ ، فَمَرَّ الْأَعْرَابِيُّ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، وَهُوَ جَالِسٌ فِي أَصْحَابِهِ فَقَالَ : جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا ، فَقَدْ أَوْفَيْتَ وَأَطَبْتَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أُولَئِكَ خِيَارُ عِبَادِ اللَّهِ [ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ] عِنْدَ اللَّهِ الْمُوفُونَ الْمُطَيِّبُونَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُ أَحْمَدَ صَحِيحٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دیہاتی سے ایک اونٹ خریدا ، یا کچھ اونٹ خریدے ، وہ ذخیرہ کی کھجوروں کے ایک وسق کے عوض میں خریدے ، ذخیرہ سے مراد عجوہ کھجوریں ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر واپس گئے ، آپ نے کھجوریں تلاش کیں ، تو وہ آپ کو نہیں ملیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کے پاس واپس گئے اور اس شخص سے فرمایا : اے اللہ کے بندے ! ہم نے تم سے ایک اونٹ ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) کچھ اونٹ خریدے تھے ، جو عجوہ کھجوروں کے ایک وسق کے عوض میں تھے ، ہم نے اسے تلاش کیا ، لیکن وہ ہمیں نہیں ملیں ، اس دیہاتی نے کہا: یہ کیسی عہد شکنی ہے ؟ تو لوگوں نے اسے ڈانٹا اور کہا: کہ اللہ تعالیٰ تمہیں برباد کرے ! کیا تم اللہ کے رسول کو عہد شکن قرار دے رہے ہو ؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے رہنے دو ! کیونکہ صاحب حق کو بات کرنے کا بھی حق ہوتا ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ اس سے کہا: اے اللہ کے بندے ! ہم نے تم سے تمہارے اونٹ خریدے ہیں ، ہمارا یہ خیال تھا کہ ہمارے پاس وہ چیز موجود ہے ، جو ہم نے تمہارے سامنے بیان کی تھی ، لیکن ہم نے اسے تلاش کیا ، تو وہ ہمیں نہیں ملی ، تو اس دیہاتی نے کہا: یہ کیسی عہد شکنی ہے ؟ لوگوں نے اسے ڈانٹا اور کہا: اللہ تعالیٰ تمہیں برباد کرے کیا تم اللہ کے رسول کو عہد شکن قرار دے رہے ہو ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسے رہنے دو ! کیونکہ صاحب حق کو بات کرنے کا بھی حق ہوتا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات اس کے سامنے دو مرتبہ ، یا تین مرتبہ اس کے سامنے دہرائی ، جب آپ نے یہ ملاحظہ فرمایا کہ اس کو آپ کی بات سمجھ نہیں آ رہی ، تو آپ نے اپنے اصحاب میں سے ایک شخص سے فرمایا : تم خولہ بنت حکیم بن امیہ کے پاس جاؤ ! اور اس سے یہ کہو : کہ اگر تمہارے پاس عجوہ کھجور کا ایک وسق ہے ، تو وہ ہمیں ادھار دے دو ! اگر اللہ نے چاہا تو ہم تمہیں ادا کر دیں گے ، وہ صاحب اس خاتون کی طرف گئے ، پھر وہ صاحب واپس آئے اس نے کہا: کہ وہ خاتون کہہ رہی ہیں کہ جی ہاں ! یا رسول اللہ ! وہ میرے پاس موجود ہیں ، آپ میری طرف اس شخص کو بھجوا دیں ، جو انہیں قبضے میں لے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس شخص کو ساتھ لے جاؤ اور اسے پوری ادائیگی کروا دو ! راوی بیان کرتے ہیں : وہ شخص اسے ساتھ لے گیا اور اسے پوری ادائیگی کروا دی ، پھر اس دیہاتی کا گزر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ہوا ، آپ اس وقت اپنے اصحاب کے درمیان تشریف فرماتے تھے ، اس دیہاتی نے کہا: اللہ تعالی آپ کو جزائے خیر عطا کرے ، آپ نے پوری ادائیگی کی ہے اور اچھا کام کیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قیامت کے دن ، وہ لوگ اللہ کے نزدیک اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سب سے بہتر ہوں گے ، جو اچھے طریقے سے پوری ادائیگی کرتے ہوں “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے امام أحمد کی سند صحیح ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے امام أحمد کی سند صحیح ہے ۔
وَعَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ قَيْسٍ امْرَأَةِ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَتْ : كَانَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَسْقٌ مِنْ تَمْرٍ لِرَجُلٍ مِنْ بَنِي سَاعِدَةَ فَأَتَاهُ يَقْضِيهِ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَنْ يَقْضِيَهُ فَقَضَاهُ تَمْرًا دُونَ تَمْرِهِ فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَهُ فَقَالَ : أَتَرُدُّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَعَمْ ، وَمَنْ أَحَقُّ بِالْعَدْلِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ ! فَاكْتَحَلَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِدُمُوعِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " صَدَقَ ، مَنْ أَحَقُّ بِالْعَدْلِ مِنِّي ؟ ! لَا قَدَّسَ اللَّهُ أُمَّةً لَا يَأْخُذُ ضَعِيفُهَا حَقَّهُ مِنْ شَدِيدِهَا ، وَلَا يُتَعْتِعُهُ " . ثُمَّ قَالَ : " يَا خَوْلَةُ ، غَدِّيهِ وَادْهَنِيهِ ، وَاقْضِيهِ ، فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ غَرِيمٍ يَخْرُجُ مِنْ عِنْدِ غَرِيمِهِ رَاضِيًا إِلَّا صَلَّتْ عَلَيْهِ دَوَابُّ الْأَرْضِ ، وَنُونُ الْبِحَارِ ، وَلَيْسَ مِنْ عَبْدٍ يَلْوِي غَرِيمَهُ ، وَهُوَ يَجِدُ إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ إِثْمًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ حِبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ ، وَضَعَّفَهُ آخَرُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ خولہ بنت قیس رضی اللہ عنہا ، جو سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی اہلیہ ہیں ، وہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوروں کا ایک وسق بنو ساعدہ سے تعلق رکھنے والے کسی شخص کا دینا تھا ، وہ شخص آپ کے پاس آیا اور آپ سے تقاضا کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ اسے ادائیگی کر دے ، تو اس نے ایسی کھجوریں ادا کیں ، جو اس شخص کی کھجوروں سے کم تر تھیں ، تو اس شخص نے لینے سے انکار کر دیا ، انصاری شخص نے کہا: کیا تم اللہ کے رسول کی بات کو واپس کر رہے ہو ؟ اس نے کہا: جی ہاں ! عدل کرنے کا اللہ کے رسول سے زیادہ حق دار اور کون ہے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ، آپ نے فرمایا : اس نے سچ کہا: ہے ، عدل کرنے کا مجھ سے زیادہ حق دار اور کون ہے ؟ اللہ تعالیٰ ایسی امت کو پاکیزگی عطا نہیں کرتا ، جس کا کمزور شخص ، طاقتور شخص سے اپنا حق کسی مشکل کے بغیر نہیں لیتا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے خولہ ! اسے کھانا دو اسے تیل دو ، اور اسے ادائیگی کر دو کیونکہ جب بھی کوئی قرض خواہ ، اپنے مقروض کے پاس سے راضی ہو کر نکلتا ہے ، تو ( مقروض ) کے لئے زمین کے جانور اور سمندر کی مچھلیاں دعائے رحمت کرتے ہیں اور جو بھی بندہ اپنے قرض خواہ کے ساتھ ٹامٹول سے کام لیتا ہے ، حالانکہ اس کے پاس ( ادائیگی کی ) گنجائش ہو ، تو اللہ تعالیٰ روزانہ اس شخص کے خلاف ایک گناہ نوٹ کر لیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حبان بن علی ہے ، جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر لوگوں نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حبان بن علی ہے ، جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر لوگوں نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ : جَاءَ يَهُودِيٌّ يَتَقَاضَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَمْرًا ، فَأَغْلَظَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَهَمَّ بِهِ أَصْحَابُهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا قَدَّسَ اللَّهُ - أَوْ يَرْحَمُ اللَّهُ - أُمَّةً لَا يَأْخُذُونَ لِلضَّعِيفِ مِنْهُمْ حَقَّهُ غَيْرَ مُتَعْتَعٍ " . ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ ، فَاسْتَقْرَضَهَا تَمْرًا ، فَقَضَاهُ ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كَذَلِكَ يَفْعَلُ عِبَادُ اللَّهِ الْمُوفُونَ ، أَمَا إِنَّهُ قَدْ كَانَ عِنْدَنَا تَمْرٌ ، وَلَكِنَّهُ قَدْ كَانَ غَبِرًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک یہودی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کھجوروں کا تقاضا کرنے کے لئے آیا ، اور اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سخت لہجے میں بات کی ، صحابہ کرام اس کی طرف بڑھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالی ایسی امت کو پاکیزگی عطا نہیں کرتا ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) ایسی امت پر رحم نہیں کرتا ، جس کے کمزور افراد ، اپنے حق کو کسی پریشانی کے بغیر نہیں لے سکتے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا کو پیغام بھیجوایا اور ان سے کچھ کھجوریں ادھار طلب کیں ، تو انہوں نے وہ ادا کر دیں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ کے بندے اس طرح پوری ادائیگی کرتے ہیں ، ہمارے پاس کھجوریں موجود تھیں ، لیکن وہ غبار آلود تھیں ( یا ہلکی قسم کی تھیں ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ : اسْتَسْلَفَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ رَجُلٍ تَمْرَ لَوْنٍ فَلَمَّا جَاءَهُ يَتَقَاضَاهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَيْسَ عِنْدَنَا الْيَوْمَ مِنْ شَيْءٍ فَلَوْ تَأَخَّرْتَ عَنَّا حَتَّى يَأْتِيَنَا شَيْءٌ فَنِقْضِيَكَ " . فَقَالَ الرَّجُلُ : وَاغَدْرَاهْ ! فَتَذَمَّرَ لَهُ عُمَرُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " دَعْهُ يَا عُمَرُ ، فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا . انْطَلِقْ إِلَى خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ الْأَنْصَارِيَّةِ ، فَالْتَمِسُوا عِنْدَهَا تَمْرًا " . فَانْطَلَقُوا ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا عِنْدِي إِلَّا تَمْرُ ذَخِيرَةٍ فَأَخْبَرَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " خُذُوا فَاقْضُوا " . فَلَمَّا قَضَوْهُ أَقْبَلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَسْتَوْفَيْتَ ؟ " قَالَ : نَعَمْ قَدْ أَوْفَيْتَ وَأَطَبْتَ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ خِيَارَ عِبَادِ اللَّهِ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ الْمُطَيِّبُونَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالصَّغِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرَوَى الْبَزَّارُ بَعْضَهُ ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے عمدہ کھجوریں ادھار لیں ، جب وہ شخص آپ کے پاس آیا اور آپ سے تقاضا کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ابھی تو ہمارے پاس کوئی چیز نہیں ہے اگر تم ہمیں موقع دو ، جب ہمارے پاس کوئی چیز آئے گی تو ہم تمہیں ادائیگی کر دیں گے ، اس شخص نے کہا: یہ کیسی عہد شکنی ہے ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اسے مارنے لگے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے رہنے دو ! کیونکہ صاحب حق کو بات کرنے کا بھی حق ہوتا ہے ، تم خولہ بنت حکیم انصاریہ کے پاس جاؤ اور تم ان سے کھجوروں کا پتہ کرو ، لوگ گئے تو اس خاتون نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے پاس تو صرف عجوہ کھجوریں ہیں ، اس شخص نے آ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا تو آپ نے فرمایا : تم وہی لو اور ادائیگی کر دو ، جب ان لوگوں نے اس شخص کو ادائیگی کر دی تو وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم نے مکمل وصولی کر لی ہے ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! آپ نے مکمل ادائیگی کی ہے ، اور اچھی ادائیگی کی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس امت میں سے ، اللہ کے بہتر بندے وہ ہیں ، جو اچھی ادائیگی کریں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، امام بزار نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے اور اس کے آخر میں یہ بات بیان کی ہے ، اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، امام بزار نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے اور اس کے آخر میں یہ بات بیان کی ہے ، اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : اسْتَسْلَفَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ أَرْبَعِينَ صَاعًا فَاحْتَاجَ الْأَنْصَارِيُّ ، فَأَتَاهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا جَاءَنَا شَيْءٌ بَعْدُ " . فَقَالَ الرَّجُلُ ، وَأَرَادَ أَنْ يَتَكَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَقُلْ إِلَّا خَيْرًا ، فَأَنَا خَيْرُ مَنْ تَسَلَّفَ " . فَأَعْطَاهُ أَرْبَعِينَ فَضْلًا ، وَأَرْبَعِينَ لِسَلَفِهِ فَأَعْطَاهُ ثَمَانِينَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا شَيْخَ الْبَزَّارِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص سے کھجوروں کے چالیس صاع لیے ، وہ انصاری محتاج ہو گیا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کے بعد ہمارے پاس کوئی چیز نہیں آئی ، اس شخص نے کوئی بات کرنے کا ارادہ کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم صرف بھلائی کی بات کرنا کیونکہ میں ادھار لینے والوں میں سب سے بہتر ہوں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چالیس صاع اضافی عطا کیے اور چالیس صاع اس کے ادھار کے واپس کیے ، تو آپ نے اُسے اسی صاع دیے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف امام بزار کے استاد کا معاملہ مختلف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف امام بزار کے استاد کا معاملہ مختلف ہے ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ يَتَقَاضَاهُ قَدِ اسْتَسْلَفَ مِنْهُ شَطْرَ وَسْقٍ فَأَعْطَاهُ وَسْقًا فَقَالَ : " نِصْفُ وَسْقٍ لَكَ وَنِصْفُ وَسْقٍ لَكَ مِنْ عِنْدِي " . ثُمَّ جَاءَ صَاحِبُ الْوَسْقِ يَتَقَاضَاهُ ، فَأَعْطَاهُ وَسْقَيْنِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَسْقٌ لَكَ وَوَسْقٌ لَكَ مِنْ عِنْدِي " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ أَبُو صَالِحٍ الْفَرَّاءُ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے اس چیز کے بارے میں تقاضا کیا ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے نصف وسق ادھار لیا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک وسق عطا کیا اور آپ نے ارشاد فرمایا : نصف وسق تمہارے والا ہوا ، اور نصف وسق میری طرف سے تمہیں ملتا ہے ، پھر ایک وسق والا شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے تقاضا کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دو وسق عطا کیے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک وسق تمہارے والا ، اور ایک وسق میری طرف سے ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوصالح فراء ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوصالح فراء ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ يَعْقُوبَ قَالَ : اسْتَسْلَفَ ابْنُ عُمَرَ مِنِّي أَلْفَ دِرْهَمٍ فَقَضَانِي أَجْوَدَ مِنْهَا ، فَقُلْتُ لَهُ : إِنَّ دَرَاهِمَكَ أَجْوَدُ مِنْ دَرَاهِمِي ؟ قَالَ : مَا كَانَ فِيهَا مِنْ فَضْلٍ نَائِلٍ لَكَ مِنْ عِنْدِي . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عطاء بن یعقوب بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھ سے ایک ہزار درہم ادھار لئے ، پھر انہوں نے مجھے ادائیگی کرتے ہوئے اس سے زیادہ عمدہ درہم دیے ، تو میں نے ان سے کہا: آپ کے دراہم میرے درہموں سے زیادہ عمدہ ہیں ، تو انہوں نے فرمایا : اس میں جو اضافی چیز پائی جاتی ہے ، وہ میری طرف سے تمہیں ملتی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنِ التَّلِبِّ : أَنَّهُ كَانَ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكَانَ يُطْعِمُ وَيَكِيلُ لِي مُدًّا ، فَأَرْفَعُهُ ، وَآكُلُ مَعَ النَّاسِ حَتَّى كَانَ طَعَامًا . ¤ وَأَتَى التَّلِبُّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : أَطْعَمْتَنِي مِنْ يَوْمِ كَذَا وَكَذَا فَجَمَعْتُهُ إِلَى الْيَوْمِ فَاسْتَقْرَضَهُ مِنِّي النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَالَ لِي مِنْهُ الَّذِي كَانَ يَكِيلُ لِي قَبْلَ ذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ بِنْتُ مِلْقَامٍ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهَا ، وَوَالِدُهَا مِلْقَامٌ رَوَى لَهُ أَبُو دَاوُدَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا تلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کھانا کھلایا اور مجھے ایک مد ماپ کر دیا ، میں نے اسے اٹھا لیا اور لوگوں کے ساتھ اسے کھایا ، یہاں تک کہ وہ کھانا بن گیا ( یعنی سب کے لیے کفایت کر گیا ) ۔ پھر سیدنا تلب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : آپ نے فلاں ، فلاں دن مجھے کھانے کے لئے دیا تھا ، میں نے اسے آج کے دن تک جمع کر کے رکھا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے وہ چیز قرض کے طور پر لی ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے مجھے ماپ کر وہ چیز دی تھی ، جو اس سے پہلے آپ نے مجھے ماپ کر دی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ام عبداللہ بنت ملقام نامی خاتون ہیں ، میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، ان کے صاحبزادے ملقام کے حوالے سے امام ابوداؤد نے روایت نقل کی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ام عبداللہ بنت ملقام نامی خاتون ہیں ، میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، ان کے صاحبزادے ملقام کے حوالے سے امام ابوداؤد نے روایت نقل کی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَقْرَضَ أَخْوَالًا لَهُ مَنْ بَنِي أَسَدٍ قَالَ : فَلَمَّا خَرَجَتْ أُعْطِيَاتُهُمُ اخْتَارُوا لَهُمْ مِنْ مَالِهِمْ فَلَمَّا أُتِيَ بِهِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : هَذَا خَيْرٌ مِنْ مَالِنَا الَّذِي أَعْطَيْنَاكُمْ فَاجْمَعُوا أُعْطِيَاتِكُمْ وَأَعْطُونَا مِنْ عَرْضِهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ . ¤
محمد محی الدین
قاسم بن عبداللہ بیان کرتے ہیں : بنو اسد سے تعلق رکھنے والے ان کے ننہیائی عزیزوں نے قرض لیا ( یا قرض دیا ) جب ان کی تنخواہیں آئیں ، تو انہوں نے ان لوگوں کے لئے اپنے مال میں سے اختیار کیا ، جب وہ ان کے پاس لایا گیا ، تو سیدنا عبداللہ نے کہا: یہ چیز ہمارے اس مال سے بہتر ہے ، جو ہم نے تمہیں دی تھی ، تو تم لوگ اپنی تنخواہیں اکٹھی کرو اور ہمیں اس میں سے دے دو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔