مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ حُسْنِ الْقَضَاءِ وَقَرْضِ الْخَمِيرِ وَغَيْرِهِ . باب: اچھے طریقے سے ادائیگی کرنا اور گندھا ہوا آٹا ، یا کوئی اور چیز ( قرض کے طور پر دینا یا لینا )
حدیث نمبر: 6694
وَعَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَقْرَضَ أَخْوَالًا لَهُ مَنْ بَنِي أَسَدٍ قَالَ : فَلَمَّا خَرَجَتْ أُعْطِيَاتُهُمُ اخْتَارُوا لَهُمْ مِنْ مَالِهِمْ فَلَمَّا أُتِيَ بِهِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : هَذَا خَيْرٌ مِنْ مَالِنَا الَّذِي أَعْطَيْنَاكُمْ فَاجْمَعُوا أُعْطِيَاتِكُمْ وَأَعْطُونَا مِنْ عَرْضِهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ . ¤محمد محی الدین
قاسم بن عبداللہ بیان کرتے ہیں : بنو اسد سے تعلق رکھنے والے ان کے ننہیائی عزیزوں نے قرض لیا ( یا قرض دیا ) جب ان کی تنخواہیں آئیں ، تو انہوں نے ان لوگوں کے لئے اپنے مال میں سے اختیار کیا ، جب وہ ان کے پاس لایا گیا ، تو سیدنا عبداللہ نے کہا: یہ چیز ہمارے اس مال سے بہتر ہے ، جو ہم نے تمہیں دی تھی ، تو تم لوگ اپنی تنخواہیں اکٹھی کرو اور ہمیں اس میں سے دے دو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔