مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ حُسْنِ الْقَضَاءِ وَقَرْضِ الْخَمِيرِ وَغَيْرِهِ . باب: اچھے طریقے سے ادائیگی کرنا اور گندھا ہوا آٹا ، یا کوئی اور چیز ( قرض کے طور پر دینا یا لینا )
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ يَتَقَاضَاهُ قَدِ اسْتَسْلَفَ مِنْهُ شَطْرَ وَسْقٍ فَأَعْطَاهُ وَسْقًا فَقَالَ : " نِصْفُ وَسْقٍ لَكَ وَنِصْفُ وَسْقٍ لَكَ مِنْ عِنْدِي " . ثُمَّ جَاءَ صَاحِبُ الْوَسْقِ يَتَقَاضَاهُ ، فَأَعْطَاهُ وَسْقَيْنِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَسْقٌ لَكَ وَوَسْقٌ لَكَ مِنْ عِنْدِي " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ أَبُو صَالِحٍ الْفَرَّاءُ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے اس چیز کے بارے میں تقاضا کیا ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے نصف وسق ادھار لیا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک وسق عطا کیا اور آپ نے ارشاد فرمایا : نصف وسق تمہارے والا ہوا ، اور نصف وسق میری طرف سے تمہیں ملتا ہے ، پھر ایک وسق والا شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے تقاضا کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دو وسق عطا کیے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک وسق تمہارے والا ، اور ایک وسق میری طرف سے ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوصالح فراء ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔