مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ حُسْنِ الْقَضَاءِ وَقَرْضِ الْخَمِيرِ وَغَيْرِهِ . باب: اچھے طریقے سے ادائیگی کرنا اور گندھا ہوا آٹا ، یا کوئی اور چیز ( قرض کے طور پر دینا یا لینا )
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ : جَاءَ يَهُودِيٌّ يَتَقَاضَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَمْرًا ، فَأَغْلَظَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَهَمَّ بِهِ أَصْحَابُهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا قَدَّسَ اللَّهُ - أَوْ يَرْحَمُ اللَّهُ - أُمَّةً لَا يَأْخُذُونَ لِلضَّعِيفِ مِنْهُمْ حَقَّهُ غَيْرَ مُتَعْتَعٍ " . ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ ، فَاسْتَقْرَضَهَا تَمْرًا ، فَقَضَاهُ ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كَذَلِكَ يَفْعَلُ عِبَادُ اللَّهِ الْمُوفُونَ ، أَمَا إِنَّهُ قَدْ كَانَ عِنْدَنَا تَمْرٌ ، وَلَكِنَّهُ قَدْ كَانَ غَبِرًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک یہودی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کھجوروں کا تقاضا کرنے کے لئے آیا ، اور اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سخت لہجے میں بات کی ، صحابہ کرام اس کی طرف بڑھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالی ایسی امت کو پاکیزگی عطا نہیں کرتا ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) ایسی امت پر رحم نہیں کرتا ، جس کے کمزور افراد ، اپنے حق کو کسی پریشانی کے بغیر نہیں لے سکتے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا کو پیغام بھیجوایا اور ان سے کچھ کھجوریں ادھار طلب کیں ، تو انہوں نے وہ ادا کر دیں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ کے بندے اس طرح پوری ادائیگی کرتے ہیں ، ہمارے پاس کھجوریں موجود تھیں ، لیکن وہ غبار آلود تھیں ( یا ہلکی قسم کی تھیں ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔