مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ حُسْنِ الْقَضَاءِ وَقَرْضِ الْخَمِيرِ وَغَيْرِهِ . باب: اچھے طریقے سے ادائیگی کرنا اور گندھا ہوا آٹا ، یا کوئی اور چیز ( قرض کے طور پر دینا یا لینا )
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : ابْتَاعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَعْرَابِ جَزُورًا ، أَوْ جَزَائِرَ بِوَسْقٍ مِنْ تَمْرِ الذَّخِيرَةِ . - وَتَمْرُ الذَّخِيرَةِ : الْعَجْوَةُ - فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى بَيْتِهِ فَالْتَمَسَ لَهُ التَّمْرَ فَلَمْ يَجِدْهُ ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ : " يَا عَبْدَ اللَّهِ ، إِنَّا قَدِ ابْتَعْنَا مِنْكَ جَزُورًا - أَوْ جَزَائِرَ - بِوَسْقٍ مِنْ تَمْرِ الذَّخِيرَةِ ، فَالْتَمَسْنَاهُ فَلَمْ نَجِدْهُ " . فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ : وَاغَدْرَاهْ ! قَالَ : فَنَهْنَهَهُ النَّاسُ ، وَقَالُوا : قَاتَلَكَ اللَّهُ ، أَتَغْدِرُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ ! قَالَتْ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " دَعُوهُ ، فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا " . ثُمَّ عَادَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا عَبْدَ اللَّهِ ، إِنَّا ابْتَعْنَا مِنْكَ جَزَائِرَكَ ، وَنَحْنُ نَظُنُّ أَنَّ عِنْدَنَا مَا سَمَّيْنَا لَكَ فَالْتَمَسْنَاهُ فَلَمْ نَجِدْهُ " . فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ : وَاغَدْرَاهْ ! فَنَهْنَهَهُ النَّاسُ ، وَقَالُوا : قَاتَلَكَ اللَّهُ ، أَتَغْدِرُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " دَعُوهُ ، فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا " ، فَرَدَّ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَلَمَّا رَآهُ لَا يَفْقَهُ عَنْهُ قَالَ لِرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ : " اذْهَبْ إِلَى خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمِ بْنِ أُمَيَّةَ ، فَقُلْ لَهَا : إِنْ كَانَ عِنْدَكِ وَسْقٌ مِنْ تَمْرِ الذَّخِيرَةِ فَأَسْلِفِينَا حَتَّى نُؤَدِّيهِ إِلَيْكِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ " . فَذَهَبَ إِلَيْهَا الرَّجُلُ ، ثُمَّ رَجَعَ الرَّجُلُ قَالَ : قَالَتْ : نَعَمْ هُوَ عِنْدِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَابْعَثْ إِلَيَّ مَنْ يَقْبِضُهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اذْهَبْ بِهِ فَأَوْفِهِ الَّذِي لَهُ " . قَالَ : فَذَهَبَ بِهِ فَأَوْفَاهُ الَّذِي لَهُ ، فَمَرَّ الْأَعْرَابِيُّ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، وَهُوَ جَالِسٌ فِي أَصْحَابِهِ فَقَالَ : جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا ، فَقَدْ أَوْفَيْتَ وَأَطَبْتَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أُولَئِكَ خِيَارُ عِبَادِ اللَّهِ [ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ] عِنْدَ اللَّهِ الْمُوفُونَ الْمُطَيِّبُونَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُ أَحْمَدَ صَحِيحٌ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دیہاتی سے ایک اونٹ خریدا ، یا کچھ اونٹ خریدے ، وہ ذخیرہ کی کھجوروں کے ایک وسق کے عوض میں خریدے ، ذخیرہ سے مراد عجوہ کھجوریں ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر واپس گئے ، آپ نے کھجوریں تلاش کیں ، تو وہ آپ کو نہیں ملیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کے پاس واپس گئے اور اس شخص سے فرمایا : اے اللہ کے بندے ! ہم نے تم سے ایک اونٹ ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) کچھ اونٹ خریدے تھے ، جو عجوہ کھجوروں کے ایک وسق کے عوض میں تھے ، ہم نے اسے تلاش کیا ، لیکن وہ ہمیں نہیں ملیں ، اس دیہاتی نے کہا: یہ کیسی عہد شکنی ہے ؟ تو لوگوں نے اسے ڈانٹا اور کہا: کہ اللہ تعالیٰ تمہیں برباد کرے ! کیا تم اللہ کے رسول کو عہد شکن قرار دے رہے ہو ؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے رہنے دو ! کیونکہ صاحب حق کو بات کرنے کا بھی حق ہوتا ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ اس سے کہا: اے اللہ کے بندے ! ہم نے تم سے تمہارے اونٹ خریدے ہیں ، ہمارا یہ خیال تھا کہ ہمارے پاس وہ چیز موجود ہے ، جو ہم نے تمہارے سامنے بیان کی تھی ، لیکن ہم نے اسے تلاش کیا ، تو وہ ہمیں نہیں ملی ، تو اس دیہاتی نے کہا: یہ کیسی عہد شکنی ہے ؟ لوگوں نے اسے ڈانٹا اور کہا: اللہ تعالیٰ تمہیں برباد کرے کیا تم اللہ کے رسول کو عہد شکن قرار دے رہے ہو ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسے رہنے دو ! کیونکہ صاحب حق کو بات کرنے کا بھی حق ہوتا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات اس کے سامنے دو مرتبہ ، یا تین مرتبہ اس کے سامنے دہرائی ، جب آپ نے یہ ملاحظہ فرمایا کہ اس کو آپ کی بات سمجھ نہیں آ رہی ، تو آپ نے اپنے اصحاب میں سے ایک شخص سے فرمایا : تم خولہ بنت حکیم بن امیہ کے پاس جاؤ ! اور اس سے یہ کہو : کہ اگر تمہارے پاس عجوہ کھجور کا ایک وسق ہے ، تو وہ ہمیں ادھار دے دو ! اگر اللہ نے چاہا تو ہم تمہیں ادا کر دیں گے ، وہ صاحب اس خاتون کی طرف گئے ، پھر وہ صاحب واپس آئے اس نے کہا: کہ وہ خاتون کہہ رہی ہیں کہ جی ہاں ! یا رسول اللہ ! وہ میرے پاس موجود ہیں ، آپ میری طرف اس شخص کو بھجوا دیں ، جو انہیں قبضے میں لے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس شخص کو ساتھ لے جاؤ اور اسے پوری ادائیگی کروا دو ! راوی بیان کرتے ہیں : وہ شخص اسے ساتھ لے گیا اور اسے پوری ادائیگی کروا دی ، پھر اس دیہاتی کا گزر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ہوا ، آپ اس وقت اپنے اصحاب کے درمیان تشریف فرماتے تھے ، اس دیہاتی نے کہا: اللہ تعالی آپ کو جزائے خیر عطا کرے ، آپ نے پوری ادائیگی کی ہے اور اچھا کام کیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قیامت کے دن ، وہ لوگ اللہ کے نزدیک اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سب سے بہتر ہوں گے ، جو اچھے طریقے سے پوری ادائیگی کرتے ہوں “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے امام أحمد کی سند صحیح ہے ۔