حدیث نمبر: 6692
وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ يَعْقُوبَ قَالَ : اسْتَسْلَفَ ابْنُ عُمَرَ مِنِّي أَلْفَ دِرْهَمٍ فَقَضَانِي أَجْوَدَ مِنْهَا ، فَقُلْتُ لَهُ : إِنَّ دَرَاهِمَكَ أَجْوَدُ مِنْ دَرَاهِمِي ؟ قَالَ : مَا كَانَ فِيهَا مِنْ فَضْلٍ نَائِلٍ لَكَ مِنْ عِنْدِي . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

عطاء بن یعقوب بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھ سے ایک ہزار درہم ادھار لئے ، پھر انہوں نے مجھے ادائیگی کرتے ہوئے اس سے زیادہ عمدہ درہم دیے ، تو میں نے ان سے کہا: آپ کے دراہم میرے درہموں سے زیادہ عمدہ ہیں ، تو انہوں نے فرمایا : اس میں جو اضافی چیز پائی جاتی ہے ، وہ میری طرف سے تمہیں ملتی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6692
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3071)»