مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ حُسْنِ الْقَضَاءِ وَقَرْضِ الْخَمِيرِ وَغَيْرِهِ . باب: اچھے طریقے سے ادائیگی کرنا اور گندھا ہوا آٹا ، یا کوئی اور چیز ( قرض کے طور پر دینا یا لینا )
وَعَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ قَيْسٍ امْرَأَةِ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَتْ : كَانَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَسْقٌ مِنْ تَمْرٍ لِرَجُلٍ مِنْ بَنِي سَاعِدَةَ فَأَتَاهُ يَقْضِيهِ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَنْ يَقْضِيَهُ فَقَضَاهُ تَمْرًا دُونَ تَمْرِهِ فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَهُ فَقَالَ : أَتَرُدُّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَعَمْ ، وَمَنْ أَحَقُّ بِالْعَدْلِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ ! فَاكْتَحَلَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِدُمُوعِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " صَدَقَ ، مَنْ أَحَقُّ بِالْعَدْلِ مِنِّي ؟ ! لَا قَدَّسَ اللَّهُ أُمَّةً لَا يَأْخُذُ ضَعِيفُهَا حَقَّهُ مِنْ شَدِيدِهَا ، وَلَا يُتَعْتِعُهُ " . ثُمَّ قَالَ : " يَا خَوْلَةُ ، غَدِّيهِ وَادْهَنِيهِ ، وَاقْضِيهِ ، فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ غَرِيمٍ يَخْرُجُ مِنْ عِنْدِ غَرِيمِهِ رَاضِيًا إِلَّا صَلَّتْ عَلَيْهِ دَوَابُّ الْأَرْضِ ، وَنُونُ الْبِحَارِ ، وَلَيْسَ مِنْ عَبْدٍ يَلْوِي غَرِيمَهُ ، وَهُوَ يَجِدُ إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ إِثْمًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ حِبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ ، وَضَعَّفَهُ آخَرُونَ . ¤سیدہ خولہ بنت قیس رضی اللہ عنہا ، جو سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی اہلیہ ہیں ، وہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوروں کا ایک وسق بنو ساعدہ سے تعلق رکھنے والے کسی شخص کا دینا تھا ، وہ شخص آپ کے پاس آیا اور آپ سے تقاضا کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ اسے ادائیگی کر دے ، تو اس نے ایسی کھجوریں ادا کیں ، جو اس شخص کی کھجوروں سے کم تر تھیں ، تو اس شخص نے لینے سے انکار کر دیا ، انصاری شخص نے کہا: کیا تم اللہ کے رسول کی بات کو واپس کر رہے ہو ؟ اس نے کہا: جی ہاں ! عدل کرنے کا اللہ کے رسول سے زیادہ حق دار اور کون ہے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ، آپ نے فرمایا : اس نے سچ کہا: ہے ، عدل کرنے کا مجھ سے زیادہ حق دار اور کون ہے ؟ اللہ تعالیٰ ایسی امت کو پاکیزگی عطا نہیں کرتا ، جس کا کمزور شخص ، طاقتور شخص سے اپنا حق کسی مشکل کے بغیر نہیں لیتا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے خولہ ! اسے کھانا دو اسے تیل دو ، اور اسے ادائیگی کر دو کیونکہ جب بھی کوئی قرض خواہ ، اپنے مقروض کے پاس سے راضی ہو کر نکلتا ہے ، تو ( مقروض ) کے لئے زمین کے جانور اور سمندر کی مچھلیاں دعائے رحمت کرتے ہیں اور جو بھی بندہ اپنے قرض خواہ کے ساتھ ٹامٹول سے کام لیتا ہے ، حالانکہ اس کے پاس ( ادائیگی کی ) گنجائش ہو ، تو اللہ تعالیٰ روزانہ اس شخص کے خلاف ایک گناہ نوٹ کر لیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حبان بن علی ہے ، جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر لوگوں نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔