مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ حُسْنِ الْقَضَاءِ وَقَرْضِ الْخَمِيرِ وَغَيْرِهِ . باب: اچھے طریقے سے ادائیگی کرنا اور گندھا ہوا آٹا ، یا کوئی اور چیز ( قرض کے طور پر دینا یا لینا )
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : اسْتَسْلَفَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ أَرْبَعِينَ صَاعًا فَاحْتَاجَ الْأَنْصَارِيُّ ، فَأَتَاهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا جَاءَنَا شَيْءٌ بَعْدُ " . فَقَالَ الرَّجُلُ ، وَأَرَادَ أَنْ يَتَكَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَقُلْ إِلَّا خَيْرًا ، فَأَنَا خَيْرُ مَنْ تَسَلَّفَ " . فَأَعْطَاهُ أَرْبَعِينَ فَضْلًا ، وَأَرْبَعِينَ لِسَلَفِهِ فَأَعْطَاهُ ثَمَانِينَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا شَيْخَ الْبَزَّارِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص سے کھجوروں کے چالیس صاع لیے ، وہ انصاری محتاج ہو گیا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کے بعد ہمارے پاس کوئی چیز نہیں آئی ، اس شخص نے کوئی بات کرنے کا ارادہ کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم صرف بھلائی کی بات کرنا کیونکہ میں ادھار لینے والوں میں سب سے بہتر ہوں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چالیس صاع اضافی عطا کیے اور چالیس صاع اس کے ادھار کے واپس کیے ، تو آپ نے اُسے اسی صاع دیے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف امام بزار کے استاد کا معاملہ مختلف ہے ۔