مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ حُسْنِ الْقَضَاءِ وَقَرْضِ الْخَمِيرِ وَغَيْرِهِ . باب: اچھے طریقے سے ادائیگی کرنا اور گندھا ہوا آٹا ، یا کوئی اور چیز ( قرض کے طور پر دینا یا لینا )
وَعَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ : اسْتَسْلَفَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ رَجُلٍ تَمْرَ لَوْنٍ فَلَمَّا جَاءَهُ يَتَقَاضَاهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَيْسَ عِنْدَنَا الْيَوْمَ مِنْ شَيْءٍ فَلَوْ تَأَخَّرْتَ عَنَّا حَتَّى يَأْتِيَنَا شَيْءٌ فَنِقْضِيَكَ " . فَقَالَ الرَّجُلُ : وَاغَدْرَاهْ ! فَتَذَمَّرَ لَهُ عُمَرُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " دَعْهُ يَا عُمَرُ ، فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا . انْطَلِقْ إِلَى خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ الْأَنْصَارِيَّةِ ، فَالْتَمِسُوا عِنْدَهَا تَمْرًا " . فَانْطَلَقُوا ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا عِنْدِي إِلَّا تَمْرُ ذَخِيرَةٍ فَأَخْبَرَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " خُذُوا فَاقْضُوا " . فَلَمَّا قَضَوْهُ أَقْبَلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَسْتَوْفَيْتَ ؟ " قَالَ : نَعَمْ قَدْ أَوْفَيْتَ وَأَطَبْتَ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ خِيَارَ عِبَادِ اللَّهِ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ الْمُطَيِّبُونَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالصَّغِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرَوَى الْبَزَّارُ بَعْضَهُ ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے عمدہ کھجوریں ادھار لیں ، جب وہ شخص آپ کے پاس آیا اور آپ سے تقاضا کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ابھی تو ہمارے پاس کوئی چیز نہیں ہے اگر تم ہمیں موقع دو ، جب ہمارے پاس کوئی چیز آئے گی تو ہم تمہیں ادائیگی کر دیں گے ، اس شخص نے کہا: یہ کیسی عہد شکنی ہے ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اسے مارنے لگے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے رہنے دو ! کیونکہ صاحب حق کو بات کرنے کا بھی حق ہوتا ہے ، تم خولہ بنت حکیم انصاریہ کے پاس جاؤ اور تم ان سے کھجوروں کا پتہ کرو ، لوگ گئے تو اس خاتون نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے پاس تو صرف عجوہ کھجوریں ہیں ، اس شخص نے آ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا تو آپ نے فرمایا : تم وہی لو اور ادائیگی کر دو ، جب ان لوگوں نے اس شخص کو ادائیگی کر دی تو وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم نے مکمل وصولی کر لی ہے ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! آپ نے مکمل ادائیگی کی ہے ، اور اچھی ادائیگی کی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس امت میں سے ، اللہ کے بہتر بندے وہ ہیں ، جو اچھی ادائیگی کریں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، امام بزار نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے اور اس کے آخر میں یہ بات بیان کی ہے ، اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔