مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ حُسْنِ الْقَضَاءِ وَقَرْضِ الْخَمِيرِ وَغَيْرِهِ . باب: اچھے طریقے سے ادائیگی کرنا اور گندھا ہوا آٹا ، یا کوئی اور چیز ( قرض کے طور پر دینا یا لینا )
حدیث نمبر: 6683
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ اسْتِقْرَاضِ الْخَمِيرِ وَالْخُبْزِ ؟ فَقَالَ : " سُبْحَانَ اللَّهِ ! إِنَّمَا هِيَ مِنْ مَكَارِمِ الْأَخْلَاقِ ، خُذِ الصَّغِيرَ وَأَعْطِ الْكَبِيرَ ، وَخُذِ الْكَبِيرَ وَأَعْطِ الصَّغِيرَ ، وَخَيْرُكُمْ أَحَسَنُكُمْ قَضَاءً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ سَلَمَةَ الْخَبَائِرِيُّ ؛ وَنُسِبَ إِلَى الْكَذِبِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گوندھے ہوئے آٹے اور روٹی کو قرض لینے کے بارے میں دریافت کیا گیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : سبحان اللہ ! یہ اچھے اخلاق کا حصہ ہے ، تم چھوٹا لے کر بڑا دے دو ، یا بڑا لے کر چھوٹا دے دو ، اور تم میں زیادہ بہتر وہ لوگ ہیں ، جو اچھے طریقے سے ادائیگی کرتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن سلمہ خبائری ہے ، جس کی نسبت جھوٹ کی طرف کی گئی ہے ۔