حدیث نمبر: 6693
وَعَنِ التَّلِبِّ : أَنَّهُ كَانَ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكَانَ يُطْعِمُ وَيَكِيلُ لِي مُدًّا ، فَأَرْفَعُهُ ، وَآكُلُ مَعَ النَّاسِ حَتَّى كَانَ طَعَامًا . ¤ وَأَتَى التَّلِبُّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : أَطْعَمْتَنِي مِنْ يَوْمِ كَذَا وَكَذَا فَجَمَعْتُهُ إِلَى الْيَوْمِ فَاسْتَقْرَضَهُ مِنِّي النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَالَ لِي مِنْهُ الَّذِي كَانَ يَكِيلُ لِي قَبْلَ ذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ بِنْتُ مِلْقَامٍ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهَا ، وَوَالِدُهَا مِلْقَامٌ رَوَى لَهُ أَبُو دَاوُدَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا تلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کھانا کھلایا اور مجھے ایک مد ماپ کر دیا ، میں نے اسے اٹھا لیا اور لوگوں کے ساتھ اسے کھایا ، یہاں تک کہ وہ کھانا بن گیا ( یعنی سب کے لیے کفایت کر گیا ) ۔ پھر سیدنا تلب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : آپ نے فلاں ، فلاں دن مجھے کھانے کے لئے دیا تھا ، میں نے اسے آج کے دن تک جمع کر کے رکھا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے وہ چیز قرض کے طور پر لی ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے مجھے ماپ کر وہ چیز دی تھی ، جو اس سے پہلے آپ نے مجھے ماپ کر دی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ام عبداللہ بنت ملقام نامی خاتون ہیں ، میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، ان کے صاحبزادے ملقام کے حوالے سے امام ابوداؤد نے روایت نقل کی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6693
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1296)»